مسئلہ کشمیر فوری حل کا متقاضی

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور قابض بھارتی فوج کے محاصرے کو 21 روز گزر چکے ہیں


Editorial August 26, 2019
مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور قابض بھارتی فوج کے محاصرے کو 21 روز گزر چکے ہیں۔ فوٹو:فائل

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ہفتے کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئتریس کو فون کر کے مقبوضہ کشمیر کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورت حال سے آگاہ کیا۔ انتونیوگوئتریس نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں اور انھوں نے یہ معاملہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران اٹھانے کی یقین دہانی کرائی ہے اورکہا ہے کہ میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملوں گا۔

بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عالمی برادری کو مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے نہتے لوگوں کو بھارتی بربریت سے بچانے، کرفیو اٹھانے اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی سازش کو روکنے کے لیے فوری طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ عالمی برادری کی کوششیں ناکام ہوئیں تو کشمیری مزاحمت کے تمام آپشنز بروئے کار لا سکتے ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 21 روز سے مکمل لاک ڈاؤن ہے، مواصلاتی رابطوں پر پابندی عائد ہے ، بھارت کے یکطرفہ اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے جو رپورٹس سامنے آ رہی ہیں وہ انتہائی تشویش ناک ہیں، انسانی جان بچانے والی ادویات اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔

ادھر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فارمیشن ہیڈ کوارٹر گلگت کے دورہ کے موقعے پر فارمیشن افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مشرقی سرحد پر موجود خطرے سے پوری طرح واقف ہیں جس کا تعلق مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورت حال سے ہے، کسی بھی مس ایڈونچر یا جارحیت کو ناکام بنانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں، مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر گہری نظر ہے، آرمی چیف نے خبردار کیا کہ پاک فوج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گی۔

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور قابض بھارتی فوج کے محاصرے کو 21 روز گزر چکے ہیں' حد یہ ہے کہ بھارت کے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی جب اپنے ساتھیوں کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کے دورے پر جانے کے لیے روانہ ہوئے تو انھیں حکام نے سری نگر ایئر پورٹ سے باہر نہیں جانے دیا اور انھیں وہیں سے واپس بھجوا دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی علامتی جیل بن چکا ہے، اس تشویش ناک صورت حال کو پوری دنیا میں اجاگر کرنے کے لیے پاکستانی حکومت بھرپور کوشش کر رہی اور اقوام متحدہ سمیت عالمی قوتوں کو اس مسئلے کے حل کے لیے اپیل کر رہی ہے۔ پاکستان نے اس حوالے سے بھر پور کردار ادا کیا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اپنے تئیں اسے ہندوستان کا مستقل حصہ بنانے کی کوشش کی' ایسا کرتے ہوئے انھوں نے مقبوضہ کشمیر میں جنم لینے والی صورت حال' پاکستان کے ردعمل اور عالمی دنیا کے رویے کو یقیناً مدنظر رکھا ہو گا۔ ممکن ہے انھوں نے سوچا ہو کہ مقبوضہ کشمیر میں جنم لینے والا عوامی ردعمل چند روز یا چند ہفتے تک جاری رہے گا' پاکستان بھی شور مچا مچا کر تھک جائے گا، عالمی دنیا برائے نام بیانات سے آگے نہیں بڑھے گی اور بالآخر وہ اپنے مذموم مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے اور مقبوضہ کشمیر مستقل طور پر بھارت کا حصہ بن جائے گا۔ لیکن بھارت کو جس قسم کا شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ، وہ توقع کے برعکس تھا۔ کشمیریوں نے بھی بے مثال جرات اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے۔

اب تک کی صورت حال کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا اور مستقبل میں کیا ہوتا ہے اس کے بارے میں بھی کوئی لائن واضح نہیں البتہ نریندر مودی کے فیصلے نے پورے علاقے کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا ہے اور بعض حلقوں کی جانب سے اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر پُرامن طور پر مسئلہ کشمیر کا حل نہ نکلا اور اقوام متحدہ ناکام ہو گئی تو پھر کیا آپشن ہو گا۔ کیا مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو بھارت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے گا جس طرح گزشتہ 72 سال سے چلا آ رہا ہے یا پھر بات بڑھتے بڑھتے نوبت یہاں تک آ پہنچے کہ دونوں ممالک نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے خلاف مہلک جنگی ہتھیار استعمال کر بیٹھیں۔

اس سے پہلے کہ دونوں طرف توپیں آگ اگلنے لگیں اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے نہایت سنجیدگی کے ساتھ اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال روز بروز بگڑتی چلی جا رہی اور بھارتی افواج کی جانب سے کشمیریوں کے خلاف ظلم و ستم میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ مقبوضہ وادی کی صورت حال جاننے اور نئی دہلی حکومت کے ظلم و ستم کو پوری دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے ہفتے کو بھارتی کانگریس کے رہنما راہول گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنما سرینگر پہنچے تو انھیں ایئرپورٹ ہی سے واپس نئی دہلی بھیج دیا گیا۔ ایسا کیوں کیا گیا؟ ان اپوزیشن رہنماؤں کو مقبوضہ وادی میں داخل ہونے سے روکنے کا واحد مقصد ہی یہ تھا کہ دنیا کو بھارتی افواج کے مظالم سے آگاہی نہ ہو سکے۔

بھارتی اپوزیشن مودی حکومت پر اس حوالے سے زبردست تنقید کررہی ہے ۔ اگر بھارتی اپوزیشن کو حقائق کا پورا علم ہوجاتا تو مودی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع ہوسکتی تھی۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسی صورت حال کے بارے میں کہا ہے کہ راہول گاندھی اور دیگر بھارتی اپوزیشن رہنماؤں کو سرینگر جانے سے روکنا دنیا کی بڑی جمہوریت کی دعوے دار بھارتی حکومت کی فسطائیت کی بدترین مثال ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ طرز کا کوئی جعلی ڈرامہ رچا کر آزاد کشمیر پر حملہ آور ہو سکتی ہے۔ اگر ایسی صورت حال پیدا ہوئی تو پھر خدشہ ہے کہ جنگ پھیل جائے گی۔ اس سے پہلے کہ معاملہ پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچے اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کو حقیقی معنوں میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

مقبول خبریں