یکجہتی کے جذبے سے بھارت سبق لے

بھارتی حکومت خوف میں مبتلا ہو رہی ہے، یہ خوف اس کی اپنی غلطیوں کا شاخسانہ ہے۔


Editorial September 01, 2019
بھارتی حکومت خوف میں مبتلا ہو رہی ہے، یہ خوف اس کی اپنی غلطیوں کا شاخسانہ ہے۔ فوٹو:فائل

وزیر اعظم عمران خان کی کال پر جمعہ کے روز پورے ملک کی فضائیں ''کشمیر بنے گا پاکستان'' کے نعروں سے گونج اٹھیں۔ نماز جمعہ کے اجتماعات میں مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور اتحاد امت کے لیے دعائیں مانگی گئیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یوم یکجہتی کشمیر کی مرکزی تقریب وزیراعظم سیکرٹریٹ میں ہوئی جس میں وزیر اعظم عمران خان ، وفاقی وزراء ارکان پارلیمنٹ اور اعلیٰ سرکاری افسروں سمیت لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ ایوان صدر میں بھی یوم یکہتی کشمیر کی تقریب ہوئی جس سے صدر پاکستان عارف علوی نے خطاب کیا۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے سبزہ زار میں بھی تقریب کا انعقاد ہوا جس میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، اور ارکان پارلیمنٹ شریک ہوئے، پارلیمنٹ ہاؤس میں مقررہ وقت پر پاکستان اور آزاد کشمیر کے ترانے بجائے گئے اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

اسلام آباد میں اظہار یکجہتی کی سب سے بڑی تقریب ڈی چوک پر ہوئی جس میں وزیر دفاع پرویز خٹک سمیت کابینہ کے اراکین، ارکان پارلیمنٹ، وکلاء، طلباء اور سرکاری ملازمین سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر ریلی نکالی گئی جو ڈی چوک سے شروع ہو کر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے اختتام پذیر ہوئی۔ ایوان صدر میں تقریب منعقد ہوئی، صدر عارف علوی نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ کشمیر کی آزادی کا منظر قوم اور وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔

کشمیر سے یکجہتی کال کا رسپانس عالمی اثرات کا حامل رہا، اہل کشمیر نے بچشم نم دیکھا کہ بھارتی فسطائیت اور جور و ستم کے ماحول میں پاکستانی قوم نے اپنے کشمیری بھائی بہنوں کے دکھوں کوشئیر کیا، ان سے عہد وفا کی تجدید کی اور اس عزم کو دہرایا کہ جب تک کشمیریوں کو آزادی کی منزل نہیں ملے گی پاکستانی قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اپنے مظلوم کشمیریوں کے دکھ درد میں ساتھ ساتھ رہیں گے۔

عالمی میڈیا کی رپورٹوں نے بھارتی مظالم کو بے نقاب کیا ہے، اس دن کی ریلیوں اور تقاریب میں بھارت کو یاد دلایا گیا کہ پاکستانی قوم کشمیر کی آزادی اور کشمیری ماؤں بہنوں کے خوابوں کو شرمندہ تعبیرکرنے کے لیے کسی بھی حد تک جائے گی۔ قوم نے جو عزم ظاہر کیا ہے وہ اس کی تکمیل کے لیے کشمیریوں کے ساتھ عہد وفا استوار کیے ہوئے ہیں۔

ادھر مودی کو یکجہتی جوش وجذبے نے دہلا کر رکھ دیا ہے، وزیر اعظم عمراں خان نے اپنی ولولہ انگیز تقریر میں کہا کہ آج سارا پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے، بھارت کو سبق سکھانے کا وقت آگیا ہے،کشمیر کے آزاد ہونے تک ہر فورم پر کشمیر کی جنگ لڑیںگے۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح نازی پارٹی نے جرمنی پر قبضہ کیا اسی طرح بھارت پر آر ایس ایس نظریہ کا قبضہ ہو چکا، جو صرف ہندو بالا دستی پر یقین رکھتی، یہ لوگ مسلمانوں ہی نہیں عیسائیوں سمیت کسی بھی دوسری قوم کو برابر کا شہری نہیں سمجھتے، دنیا اگر فاشسٹ مودی حکومت کے سامنے کھڑی نہ ہوئی تو اس کا اثر سب پر ہوگا۔

آر ایس ایس 1925ء میں بنی اور اس کے اندر سب سے بڑا جذبہ مسلمانوں کے خلاف نفرت تھا، یہ ہٹلر کی نازی پارٹی سے متاثر جماعت تھی، اس کی نسلی بالادستی اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا اظہار آج مقبوضہ کشمیر میں ہو رہا ہے۔ یہ مسلمانوں کو ماضی میں ہندوستان پر حکمرانی کرنے کا سبق سکھانا چاہتے ہیں، آر ایس ایس والے گاندھی اور نہرو کے سیکولر ازم کو نہیں مانتے۔ ان کے اس نظریئے نے ہی گاندھی کو قتل کیا تھا، یہ کسی عالمی قانون کو نہیں مانتے، نہ بھارت کے آئین کو مانتے ہیں، نہ آئینی سپریم کورٹ اور نہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو مانتے ہیں، یہ صرف اور صرف ہندتوا اور ہندو راج کو مانتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا بدقسمتی سے مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے تو انصاف دینے والے بین الاقوامی ادارے خاموش رہتے ہیں۔ اگر کشمیری مسلمان نہ ہوتے تو آج ساری دنیا ان کے ساتھ کھڑی ہوتی۔ عمران خان نے کہا کہ نیو یارک ٹائمز میں ان کا مضمون چھپا ہے جس میں وہ کشمیر کو زیر بحث لائے ہیں۔ عمران نے مزید کہا کہ جنرل اسمبلی میں بھی مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں گے۔ ہم دنیا کو بتا رہے ہیں کہ بھارتی حکمران مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے آزاد کشمیر میں کچھ نہ کچھ کریں گے۔ لیکن ہم بھی ان کو بتا رہے ہیں کہ ہماری مسلح افواج پوری طرح تیار ہیں۔ ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔

دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ دو ایٹمی ملکوں کے آمنے سامنے آنے سے برصغیر کو ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کو نقصان ہوگا۔ مودی اپنے تکبر میں آخری پتہ کھیل چکا ہے۔ وہ تکبر میں آ کر جو کر بیٹھا ہے اس کے بعد اب کشمیر آزاد ہو گا۔ ہم آخری دم تک کشمیریوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ کشمیری آج بہت مشکل وقت سے گزر رہے ہیں ، تقریباً80 لاکھ کشمیری گزشتہ 4 ہفتوں سے کرفیو کے اندر بند ہیں، ہم دنیا میں کشمیر سے کرفیو ہٹاؤ مہم شروع کرنے جا رہے ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان کے جمعہ کو اپنے ایک ٹویٹ میں بھی کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں اس پر فخر ہے ،قوم نے کشمیریوں کو باور کرا دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

اسی دن بی بی سی نے کشمیریوں پر مظالم کی دل دہلادینے والی رپورٹ دی جس میں بھارتی فوجیوں کی پرتشدد کارروائیوں کی لہو رلانے والی تفصیل کو کوریج ملی، آرمی چیف نے بھارتی جارحیت سے عالمی قوتوں کوخبردار کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے، انھوں نے کہا کہ قوم کا کشمیری بھائیوں کے لیے اظہار یکجہتی دنیا کے لیے بھرپور پیغام ہے۔

ادھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے سعودیہ اور جنوبی کورین ہم منصبوں سے رابطوں میں صوررتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ بھارتی اقدامات سیکیورٹی کونسل کی قرار دادوں کے منافی ہیں، واضح رہے چھتیس گڑھ کے نکسل علیحدگی پسندوں نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کی حمایت کی، عمران خان نے یو اے ای کے ولی عہد کو فون کیا اور بتایا کہ کشمیری عوام اسلامی ملکوں کی ریاستوں کی مضبوط حمایت کے منتظر ہیں، سینیٹ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف قرارداد مذمت منظور کی۔

وائس آف امریکا نے سرینگر کی مخدوش صورتحال جب کہ الجزیرہ نے کمسن بچوں کی گرفتاری اور تشدد کی تفصیل بتائی۔ ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کے عہدیداروں کو کشمیر پر تازہ ترین بریفنگ دی۔ مشعال ملک نے یکجہتی کال پر بیحد شکرگزاری کے جذبات کا اظہار کیا ہے، جب کہ سیاسی حلقوں کاکہنا ہے کہ کشمیریوں کے دکھ میں شریک ہونا اہل پاکستان کے لیے ایک ناگزیر انسانی فریضہ اور قلبی طمانیت کا باعث ہے۔

میڈیا کے مطابق بھارتی جنرل بپن راوت سری نگر پہنچ گئے، ان کی آمد کے بعد سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی، بپن راوت کی موجودگی سے کشیدگی بڑھے گی، مگر ظلم کی کوئی بھی صورت ہو، کشمیری عوام کے جوش وجذبہ میں کوئئی کمی نہیں آئے گی، کرفیو توڑنے کے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں، سماجی،معاشی ، نفسیاتی اور سیاسی طور پر محصور کیے جانے کی بدترین کارروائیوں کے باوجود کشمیر میں اضطراب بڑھتا جا رہا ہے، نوجوانوں کو بدترین ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بھارتی حکومت خوف میں مبتلا ہو رہی ہے، یہ خوف اس کی اپنی غلطیوں کا شاخسانہ ہے، مودی سرکار کو ڈر ہے کہ سمندرسے بھی حملے ہوں گے، وہ رن آف کچھ میں پاکستانی میرینز کے اتارے جانے کا ڈھونگ رچانے کی تیاریوں میں بھی ہیںاور جھوٹی فلیگ آپریشن کی جعلسازی کا حوالے وزیراعظم عمران خان پہلی ہی دے چکے ہیں۔ عالمی برادری اور دنیا خواب غفلت سے کب جاگے گی، وقت تو تیزی سے نکل رہا ہے۔

 

مقبول خبریں