نیل آرم اسٹرانگ کو الوداعی سلام
انسان جس کائناتی مہم پر چل پڑا ہے اب وہ اس مہم سے دست بردار نہیں ہوگا
26 اگست 2012 کے ایکسپریس میں ایک چھوٹی سی خبر انسانی تاریخ کے اس سب سے بڑے فاتح کے حوالے سے شائع ہوئی کہ ''نیل آرم اسٹرانگ کا 82 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔'' مجھے نہیں معلوم کہ دنیا کے اس پہلے کائناتی فاتح کو مغربی میڈیا میں کتنی جگہ دی گئی، لیکن میں اِتنا جانتا ہوں کہ انسانی تاریخ میں کائناتی فتوحات کا جب بھی ذکر ہو گا، نیل آرم اسٹرانگ کا نام کائناتی فاتحین میں سرفہرست ہو گا۔ نیل5 اگست 1930 کو پیدا ہوا تھا اور اس نے 39 سال کی عمر میں 20 جولائی 1969 کو چاند فتح کر لیا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے اس بہادر انسان کو چاند پر اترتے، چاند پر ٹہلتے اور آٹھ دن چودہ گھنٹے 12 منٹ چاند پر قیام کے بعد زمین پر واپس آتے ہوئے دیکھا تھا۔
انسانی تاریخ کے اس سب سے بڑے فاتح تو پوری انسانی برادری کی طرف سے ایک ایسا ایوارڈ ملنا چاہیے جو رہتی دنیا تک اسے خراج عقیدت پیش کرنے کا وسیلہ بن جائے۔ اور یہ ایوارڈ ہر سال 20 جولائی کو ''یومِ نیل آرم اسٹرانگ'' منا کر دیا جا سکتا ہے۔ چاند گاڑی جب ناسا سے نکلی تھی تو ساری دنیا سانس روکے نیل کی کامیابی سے چاند پر اترنے کی منتظر تھی ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نیل ایک امریکی شہری تھا، لیکن نیل نے جو کارنامہ انجام دیا وہ کرۂ ارض کے تمام انسانوں کے لیے باعثِ فخر تھا اور ہے۔ اس فتح میں ناسا کے خلائی ماہرین کی جس ٹیم نے نیل کو اپنی مہارت کے بل پر چاند پر بھیجا تھا، وہ بھی قابلِ مبارک باد ہے۔ نیل نے اس حوالے سے دو کامیابیاں حاصل کیں، ایک چاند کو فتح کرنے کی دوسرے ہزاروں سال پر محیط تخیلات کو تہس نہس کرنے کی۔
آج جب میں یہ کالم لکھ رہا تھا تو میرے سامنے ان تمام کائناتی اکابرین اور فلسفیوں کے چہرے جھلملا رہے تھے جنھوں نے کائناتی اسرار سے پردے ہٹانے کی ابتدا کی۔ اس حوالے سے میرے سامنے پہلا چہرہ سقراط کا آتا ہے۔ ایتھنز میں اس وقت پہلوانوں کے اکھاڑے جگہ جگہ سجے رہتے تھے اور ایتھنز کے مفکر اور فلسفی بھی کشتی دیکھنے آتے تھے۔ سقراط بھی ان اکھاڑوں میں جاتا تھا وہ پہلوانوں کے اکھاڑوں میں بیٹھ کر دنیا اور کائنات کے بارے میں سوچتا رہتا۔ ایک دن اس نے اپنے ایک پہلوان دوست کرائیٹو سے پوچھا ''کرائیٹو پہلوانی میں بالآخر انسان کیا بنتا ہے؟'' کرائیٹو کہتا ہے ''رستمِ زماں'' سقراط پھر سوال کرتا ہے، ''اتنی جسمانی محنت سے انسان کس مقام پر پہنچتا ہے؟'' کرائیٹو جواب دیتا ہے، ''انسان ہرکولیس بن جاتا ہے۔'' سقراط بڑی دیر تک کرائیٹو کے جواب پر غور کرتا ہے، جب کرائیٹو اسے جھنجھوڑ کر پوچھتا ہے کہ بھیّا کہاں کھو گئے؟ تو سقراط جواب دیتا ہے، ''کیوں نہ انسان اس کائنات کو سمجھنے کے لیے اتنی محنت اور کوشش کرے جتنی وہ ہرکولیس بننے کے لیے کرتا ہے۔''
سقراط سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ مختلف مراحل سے گزر کر اب مریخ تک جا پہنچا ہے۔ آج کل ناسا کی طرف سے بھیجی گئی گاڑی ''کیوراسٹی'' مریخ پر گھومتے ہوئے اس پر جانداروں خصوصاً انسان جیسے جاندار کو تلاش کر رہی ہے۔ کیوراسٹی کی بھیجی ہوئی رنگین تصاویر ہم ٹی وی اسکرین پر دیکھ رہے ہیں، جہاں ہر طرف زمین جیسے مناظر نظر آ رہے ہیں۔ کیوراسٹی مریخ کے کتنے راز جاننے میں کامیاب ہوتی ہے، اس کا پتہ آنے والے دنوں میں ہو جائے گا، لیکن اتنی بات ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ انسان جس کائناتی مہم پر چل پڑا ہے اب وہ اس مہم سے دست بردار نہیں ہوگا۔
امریکا دہشت گردی کے خلاف جس مہم پر دس برسوں سے نکلا ہوا ہے، کیا اس مہم کا کائناتی مہم سے کوئی تعلق بنتا ہے؟ کیا یہ مہم 2014 میں امریکی حکمران کامیابی سے مکمل کر لیں گے؟ اس سوال کا جواب امریکی حکمرانوں سے ہی طلب کیا جا سکتا ہے، جنھوں نے خود دہشت گرد پیدا کیے اور خود انھیں ختم کرنے کی مہم میں مصروف ہیں۔
دہشت گردی کا ذکر تو برسبیل تذکرہ آ گیا، ہمارا اصل موضوع کائناتی مہم ہے۔ سقراط نے جب دنیا کے پائیدان پر کھڑے ہو کر چاند سورج ستاروں اور آسمان کی طرف غور سے دیکھنا شروع کیا تو اس کا ذہن کائنات کے اسرار جاننے کی طرف راغب ہوگیا۔ انسان جو ہزاروں سال سے زمین ہی کو کل کائنات سمجھتا آ رہا تھا، وہ سقراط کو کنویں کا مینڈک نظر آنے لگا اور زمین کو ہی کل کائنات سمجھ کر جو نظریات اور عقاید مرتب کیے گئے وہ کچی دیواروں کی طرح زمین بوس ہونے لگے۔ سقراط کے بعد افلاطون، ارسطو، گلیلیو سے یہ سلسلہ تھامس ایکوینکس، کاپر نیکس، بیکن، نیوٹن، وولٹیئر، کانٹ، ڈارون، گانن، دانتے، رامیوس، برونو، میمونائڈ، ڈیکارٹ، روسو، شیکسپئر، خلدون، ہیگل، مارکس،برٹرینڈ رسل، ول ڈیورانٹ، میکسم گورکی، عمر خیام، ابن رشد، چیخوف، بودین، لاک، بنتھم اور مل تک جاری ہے۔
جن میں فلکیاتی ماہرین، مفکر، فلسفی، ادیب سب شامل ہیں جنھوں نے زمین سے نکل کر کائنات کا رخ کیا، انسانیت کی شاہراہ پر سفر کیا اور آج انھی اکابرین کی ذہنی کاوشوں نے ہمیں اس قابل بنایا ہے کہ ہم آٹھ نو ماہ کا سفر کر کے کیوراسٹی کو مریخ پر اتارنے کے قابل ہوئے ہیں۔ ان تمام اکابرین نے اپنی شناخت کسی ملک، کسی قوم، کسی زبان، کسی رنگ، کسی نسل، کسی مسلک کے حوالے سے نہیں کرائی بلکہ اپنی شناخت انھوں نے صرف انسان کی حیثیت سے کرائی اور انسانوں کو زمین کے کنویں سے نکال کر کائنات کے لامحدود سفر کی طرف راغب کیا۔ زمین کے پائیدان پر کھڑے ہو کر کائنات کی مہم پر نکلنے والوں کی فہرست اتنی طویل ہے، ان کی لکھی ہوئی طلسماتی کتابوں کے نام اتنے ہیں کہ انھیں زبانی یاد رکھنا ممکن نہیں۔
اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس نہ ختم ہونے والے سفر میں چیخوف کی چیخیں اور جان کیٹس کا گریہ سنائی دیتا ہے۔ چیخوف کہتا ہے، ''آخر انسان جاوداں کیوں نہیں۔ ذہن کے تمام مراکز تہوں، بصارت ، گویائی، خود آگہی، غیر معمولی ذہانت، ان سب کو ایک دن خاک میں مل جانا ہے اور حشرات الارض کے ساتھ مل کر آفتاب کے گرد اربوں سال تک گردش ہی کرنا تھا تو...؟ کیٹس جب چلاّ کر اپنے ڈاکٹر سے پوچھتا ہے ''میری بعد از مرگ زندگی کا اختتام کب ہوگا؟'' تو ہمیں پلٹ کر ایمانوئل کانٹ کی طرف بھاگنا پڑتا ہے۔ یہ سفر اگرچہ تاریخ کا الٹا سفر ہے لیکن جب تک نیل آرم اسٹرانگ کے بھائی بند ان سوالوں کے جواب نہیں تلاش کرتے، ہمیں کانٹ کے مقبرے ہی پر دھونی رمانا پڑے گا۔