مارگلہ ٹنل منصوبہ این ایچ اے پنجاب پختونخوا سے جواب طلب

پنجاب، کے پی کے مک مکا سے منصوبہ شروع کیا گیا، مشاہد، سی ڈی اے، پختونخوا کا اظہار لاعلمی


Numainda Express September 28, 2013
حکم امتناعی دیا جائے، روئیداد خان، سب کا جواب آجائے، چیف جسٹس، سماعت منگل تک ملتوی فوٹو: فائل

عدالت عظمٰی نے مارگلہ ہلزٹنل منصوبے پرچیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی،چیف سیکریٹری پنجاب اورخیبرپختونخواسے جواب طلب کرلیا ہے۔

چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا ہے ہم جانناچاہیں گے کہ اس منصوبے پردوبارہ کام کیوں شروع کیاگیاہے۔ازخودنوٹس کیس پر جمعے کوچیف جسٹس کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے سماعت کی،مشاہدحسین سید، روئیداد خان، سی ڈی اے کے وکیل عفنان کریم کنڈی اورایڈیشنل اٹارنی جنرل عتیق شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے کہا یہ کیس توگزشتہ سال سے زیرالتواہے اورہم نے اس کیس میں آرڈربھی جاری کیاہے،جسٹس شیخ عظمت سعیدنے کہاہمیں بتایاجائے کہ منصوبے پردوبارہ کام شرع ہوچکاہے یانہیں؟۔عفنان کنڈی نے بتایاسی ڈی اے کواس بارے معلومات حاصل نہیں۔

مشاہدحسین سیدنے بتایا اس بارے خبریںشائع ہورہی ہیں اور وزیراعظم نے اسلام آبادکے قریب ایک اورشہرکی تعمیرکابیان بھی دیاہے ، انھوںنے بتایامنصوبے کاٹھیکہ این ایچ اے کودیاگیاہے منصوبے کے لیے 25 ہزار ایکڑ زمین حاصل کی جارہی ہے مارگلہ ہلزمیں ایک ٹنل کے ذریعے ہری پورکوملایاجائے گااورشیخ زید ایونیو کے نام سے آٹھ رویہ سڑک کے ذریعے نئے شہر کو روات میںبننے والے مجوزہ ایئرپورٹ سے منسلک کیا جائیگا،پنجاب حکومت نے زمین کے حصول کیلیے ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔



عدالت کے استفسار پر انھوںنے بتایاٹنل فیصل مسجدسے خانپورتک جائے گا، سپریم کورٹ اس منصوبے کوروکے۔جسٹس شیخ عظمت سعیدنے کہاافسوس کی بات یہ ہے کی اسلام آبادمیںیہ سب کچھ ہورہاہے اورسی ڈی اے کوعلم نہیں۔ عدالت کے استفسارپرایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا لطیف یوسفزئی نے بتایاکہ ان کی حکومت کومنصوبے کاعلم نہیں اس پرجسٹس جوادایس خواجہ نے کہا خیبرپختونخواحکومت کومطلع کرنیکی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ہوگی شایدہری پورکواسلام آبادکاحصہ سمجھاجارہاہوگا۔

روئیدادخان نے حکم امتناعی جاری کرنے کی استدعاکی اس پرچیف جسٹس نے کہاپہلے سب کا جواب آنے دیاجائے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل عتیق شاہ نے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ انھیںحکومت سے ہدایات لینے کے لیے مہلت دی جائے جس پرمزیدسماعت یکم اکتوبرتک ملتوی کردی گئی۔ علاوہ ازیںمسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل سینیٹرمشاہدحسین سیدنے سماعت کے بعدسول سوسائٹی کے نمائندوںکے ہمراہ گفتگوکرتے ہوئے کہاہے کہ پراجیکٹ کامعاملہ قانون کی بالادستی سے منسلک ہے اوراسلام آبادکے شہری ، ماحولیات کے ماہرین اورپوری سول سوسائٹی چیف جسٹس افتخار چوہدری کی مشکورہے جنہوںنے ہماری درخواست پر اس خلاف قانون اقدام پرسوموٹونوٹس لیا۔