فلپائن میں عسکریت پسندوں سے امن معاہدہ طے پا گیا

ایک گروپ کی طرف سے اپنے ہتھیار حکام کے حوالے کر دینا صرف پہلا قدم ہے


Editorial September 09, 2019
ایک گروپ کی طرف سے اپنے ہتھیار حکام کے حوالے کر دینا صرف پہلا قدم ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

فلپائن کی اکثریتی آبادی کیتھولک عیسائیوں پر مشتمل ہے جہاں مسلمان عسکریت پسندوں کی طرف سے اپنے حقوق کے لیے دو عشروں سے تحریک جاری تھی تاہم اب فریقین کے درمیان امن معاہدہ عمل میں آ گیا ہے اور عسکریت پسندوں نے اپنے ہتھیار حکومت کے حوالے کرنا شروع کر دیے ہیں۔

فلپائن کا جنوبی علاقہ جہاں شورش زیادہ تھی وہاں سے ایک ہزار سے زائد افراد نے صرف ایک دن میں اپنے ہتھیار حکام کے حوالے کر دیے۔ اب توقع روشن ہو گئی ہے کہ ملک کی سب سے بڑی باغیانہ جماعت جلد ہی باقاعدہ ایک پرامن سیاسی پارٹی کی شکل اختیار کر لے گی۔

فلپائن میں مورو اسلامک لبریشن فرنٹ (ایم آئی ایل ایف) کا کہنا ہے کہ ان کے ایک گروپ کی طرف سے اپنے ہتھیار حکام کے حوالے کر دینا صرف پہلا قدم ہے اور انھیں امید ہے کہ جلد ہی ان کی تنظیم کے چالیس ہزار مزید اراکین بھی اپنے ہتھیار ڈالنے کے لیے آگے آ جائیں گے لیکن اس کام میں سال سے زیادہ کا وقت بھی لگ سکتا ہے۔

حکومتی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے عسکریت پسندوں کا کہنا ہے کہ اب ان کے پاس کوئی آتشین ہتھیار باقی نہیں رہا حالانکہ انھوںنے 1970ء کے عشرے سے آتشین ہتھیاروں کے ساتھ ایک سو سے زیادہ معرکے سرانجام دیے ہیں لیکن اب وہ لوگ خالی ہاتھ ہو گئے ہیں۔

تاہم مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس علاقے میں تشدد کے واقعات روز مرہ کا معمول تھے اب ان واقعات کے خاتمے کے بعد ملک میں امن بحال ہونے میں بھی کچھ نہ کچھ وقت تو ضرور لگے گا کیونکہ ابھی بہت سے مسلح لوگ موجود ہیں۔اس کا ثبوت یہ ہے سلطان قدرت کے شہر سے40 کلو میٹر کے فاصلے ایک موٹر سائیکل میں چھپایا گیا بم دھماکے سے پھٹ گیا۔ یہ دھماکا اسلان ٹاؤن کی مارکیٹ کے قریب ہفتے کی صبح کو ہوا۔

پولیس کے مطابق اس دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔ اس کی ذمے داری عسکریت پسند اسلامک اسٹیٹ گروپ نے قبول کر لی ہے۔ ایشیاء کے لیے اقوام متحدہ کی سینئر مشیر فرانسسکو لارا نے کہا ہے کہ ہمیں اس حقیقت کو بھی اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے کہ اس علاقہ کی عمومی آبادی خود بھی اپنے پاس ہتھیار رکھتی ہے تا کہ ہتھیار والوں کے ساتھ برابر کا مقابلہ کر سکیں۔

ایم آئی ایل ایف کے ایک کمانڈر مراد ابراہیم نے میڈیا کو بتایا کہ اس علاقے میں پستول یا بندوق خریدنا اتنا ہی آسان ہے جتنا مچھلی منڈی میں جا کر مچھلی خرید لی جاتی ہے۔ بہرحال فلپائن میں امن کا عمل شروع ہوگیا اور جلد ہی اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔

مقبول خبریں