افغان امن عمل اور غیر یقینی صورتحال

افغان ربط و تجارت میں اضافے کے لیے کابل پشاور موٹروے پر چین مدد گار ہو گا


Editorial September 09, 2019
افغان ربط و تجارت میں اضافے کے لیے کابل پشاور موٹروے پر چین مدد گار ہو گا۔ فوٹو : فائل

افغانستان میں امن عمل کو آگے بڑھانے' دہشت گردی کے خاتمے اور خطے کی معاشی و تزویراتی بہتری کے لیے ہفتے کو اسلام آباد میں پاک چین افغان سہ ملکی مذاکرات کا تیسرا دور ہوا۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان ، چین اور افغانستان نے اقتصادیات، رابطہ کاری،مفاہمتی عمل، سیکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا ہے۔

ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف بلا تفریق کارروائی کرنے پر اتفاق کیا گیا کہ کوئی ملک اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا، مشرقی ترکستان اسلامی تحریک کے معاونین، سہولت کاروں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔

افغان ربط و تجارت میں اضافے کے لیے کابل پشاور موٹروے پر چین مدد گار ہو گا،اقتصادی ترقی، استعداد کار، روزگار، عوامی روابط میں اضافے پر تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ اِدھر افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سہ ملکی مذاکرات ہو رہے ہیں تو اُدھر طالبان کے ساتھ دوحہ میں متعدد بار امن مذاکرات کرنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک مذاکراتی عمل معطل کرنے کا اعلان کرکے ساری صورت حال ہی بدل دی۔ امریکی صدر کے اس حیرت انگیز بیان سے افغان امن عمل میں ہونے والی پیش رفت کو ریورس گیئر لگنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

دوحہ میں ہونے والے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے جاری عمل سے یہ امید بندھ رہی تھی کہ جلد ہی یہ کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے اور گزشتہ کئی عشروں سے جاری خانہ جنگی کا خوفناک عمل دم توڑ دے گا اور افغان سرزمین پر امن اور خوشحالی کا سورج طلوع ہو گا۔ چند روز پیشتر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا' ان کا موقف تھا کہ معاہدے پر دستخط کرنا طالبان کو اصل سیاسی قوت کے طور پر تسلیم کرنے کے مترادف ہو گا۔

پومپیو کے اس عمل سے افغان امن عمل پر گہری نظر رکھنے والے فہمیدہ حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی اور یہ خدشات ابھرنے لگے تھے کہ کہیں امریکا خود ہی ان مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ نہ بن جائے۔ بالآخر یہ خدشات حقیقت کا روپ اس وقت دھار گئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کابل میں ہونے والے حملے کی آڑ میں ان مذاکرات کو معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔ انھوں نے ٹویٹر میں اپنے پیغام میں لکھا کہ آج رات طالبان رہنماؤں اور افغان صدر کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں ہونی تھیں جب کہ کیمپ ڈیوڈ میں طالبان رہنماؤں کے ساتھ خفیہ ملاقات بھی طے تھی جن کو منسوخ کرتا ہوں' انھوں نے مزید لکھا کہ بدقسمتی سے غلط بیانیہ بنانے کے لیے طالبان نے کابل حملے کا اعتراف کیا جس میں ہمارے ایک سپاہی سمیت 11افراد ہلاک ہو گئے۔

موجودہ حالات کے تناظر میں امریکی صدر کا جواز بے معنی معلوم ہوتا ہے کیونکہ مذاکرات کے باوجود افغانستان میں امریکی' نیٹو اور افغان فورسز کے طالبان کے خلاف حملے جاری ہیں اور دونوں متحارب گروپ ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے میں صرف طالبان پر الزام لگا کر امریکی صدر کا امن مذاکرات کو معطل کرنے کا اعلان صائب معلوم نہیں ہوتا۔ افغان امن عمل کی ڈور کاٹنے کے اس امریکی عمل کے باوجود پاکستان اور چین افغانستان میں قیام امن کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے پاک چین افغان سہ ملکی مذاکرات کے دو ادوار بیجنگ اور کابل میں ہو چکے ہیں۔

اب تیسرا دور ہفتے کو وزارت خارجہ اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ افغان امن عمل کے لیے تینوں ملکوں کے درمیان 5 نکات پر اتفاق ہو ا ہے،امیدکرتے ہیں طالبان معاہدہ طے پانے کے بعداس پرعمل درآمد بھی کریں گے،امن و امان کے لیے علاقائی رابطوں کا ہونا ضروری ہے،افغانستان کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھاکہ امریکاطالبان مذاکرات کے اگلے مرحلے میں افغانستان میں انٹرا ڈائیلاگ کامرحلہ ہوگا،آنے والے دنوں میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات مضبوط ہونگے۔

پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف سنجیدہ کارروائی کی اور اس میں کامیابی بھی ہوئی،طورخم بارڈرر کی 24گھنٹے سروس کی افتتاحی تقریب میں اشرف غنی کودعوت دیتے ہیں،افغان صدراشرف غنی سے اوآئی سی سربراہ اجلاس کی سائیڈ لائن میں مفیدبات چیت ہوئی ،آیندہ سہ فریقی مذاکرات بیجنگ میں کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ افغانستان کے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی کا کہنا تھا کہ اتفاق ہوا ہے کہ افغان مسئلے کاحل افغان عوام ہی نکالیں گے،امید کرتے ہیں امن واستحکام کے لیے سہ فریقی مذاکرات جاری رہیں گے،امید ہے کہ پاکستان کے ٹھوس اقدامات سے افغانستان میں پرتشددواقعات میں کمی ہوگی،طالبان کو امن مذاکرات میں خلوص کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ افغانستان میں امن مذاکرات میں شریک اہم فریقین طالبان اور افغان حکومت کے ایک دوسرے کے خلاف شکوک و شبہات اور الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ افغانستان میں قیام امن کے لیے ناگزیر ہے کہ تمام فریقین باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کسی متفقہ نقطے پر پہنچیں۔

مقبول خبریں