اسٹاک مارکیٹ۔۔۔ جہاں کھلی آنکھوں سنہرے مستقبل کے خواب دیکھے جاتے ہیں

انسان عقلمندی اور صبروتحمل سے راتوں رات امیر جبکہ افراتفری اورعدم یکسوئی کاشکارہو تو پل بھر میں اپنی پونجی لٹا دیتا ہے


ناصر محمود September 29, 2013
اگر سمجھ بوجھ ،تحمل مزاجی اور فہم وفراست سے کام لیا جائے تو راتوں رات مالا مال ، ورنہ کنگال۔ فوٹو: فائل

اسٹاک مارکیٹ ایک ایسی جگہ ہے جہاںکھلی آنکھوں سنہرے مستقبل کے خواب دیکھے جاتے ہیں۔

انسان عقلمندی ،سمجھ بوجھ اور صبروتحمل سے راتوں رات امیر ہوجاتا ہے اور افراتفری ،ذہنی انتشار اور عدم یکسوئی کا شکار ہو تو پل بھر میں زندگی بھر کی پونجی لٹا بیٹھتا ہے۔ ایک دن پتا چلتا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کے انڈیکس میں اتنے پوائنٹ کا اضافہ ہوا ہے اور انویسٹرز کو اربوں روپے کا فائدہ ہوا تو دوسرے دن ہی خبر آتی ہے کہ اسٹاک مارکیٹ بیٹھ گئی ہے اور سرمایہ کار کھربوں روپے گنوا بیٹھے ہیں۔

کسی بھی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی اور مندی کا پتہ اس کے انڈیکس سے لگتا ہے ۔ اگر انڈیکس بڑھ رہا ہے تو مارکیٹ میں تیزی ہے اور اگر کم ہو رہا ہے تو یہ گراوٹ کا شکار ہے۔ انڈیکس اصل میں اسٹاک ایکسچینج میں ایک پیمانہ ہے جس کی ویلیو مختلف ممالک میں مختلف ہے۔کسی ملک میں ایک پوائنٹ کی ویلیو پچیس کروڑ ہے تو دوسرے میں پچہتر کروڑ ہو سکتی ہے۔

اسٹاک مارکیٹ ایسا ادارہ ہے جہاں خرید ار(سرمایہ کار) اور فروخت کنندہ (کمپنیاں)ملتے ہیں جن کے پاس اپنے اپنے ذاتی خیالات ہوتے ہیں اور جو اپنا کاروبار اسٹاک ایکسچینج کے ممبران(بروکرز) کے ذریعے انجام دیتے ہیں۔

اصل میں اسٹاک مارکیٹ ثانوی مارکیٹ ہوتی ہے ۔ ابتدائی مارکیٹ وہ جگہ ہوتی ہے جہاں بیٹھ کر سرمایہ کار اپنے کاروبار ی حصص فروخت کرتے ہیں۔ حصص کی خریدوفروخت کاغذ کے ٹکڑوں یعنی شیئر سرٹیفیکٹ کے ذریعے ہوتی ہے جس کی خرید کے لیے فہم وفراست درکار ہوتی ہے۔

کسی بھی کمپنی کے شیئر خریدنے سے پہلے اس کمپنی کی مالی ساکھ کا علم ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اس کی فنانشل سٹیٹمنٹ کیا ہے، آیا وہ اپنے شیئر ہولڈرز کے ساتھ منافع شیئر کررہی ہے یا نہیں۔

اسٹاک مارکیٹ میں ممبران / بروکرز اپنے گاہکوں کے لیے ان کے ایماء پر حصص اور سکیورٹی کی خریدوفروخت کرتے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ لوگوں کے پاس پڑی بچتوں کو صنعت وتجارت میں لگواتی ہے اور اس طرح چھوٹے سرمایہ کاروں کو تھوڑی رقم سے بڑے اداروں میںحصہ دار بناتی ہے۔ لیکن اس میں سرمایہ کار کو یہ سوچنا چاہیے کہ اس کے دس روپے کے حصص کی قیمت پچاس روپے بھی ہوسکتی ہے اور گھٹ کر دو روپے بھی رہ سکتی ہے۔



اسٹاک ایکسچینج کا آغاز صدیوں پہلے 1602ء میں ایمسٹرڈم میں ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے کیا۔ اس کا پہلا مقصد منافع کمانا تھا ۔ اس دور میں جہاز بڑے مہنگے تھے اور انہیں جہاز کے حصول کے لیے سرمایہ اکٹھا کرنا تھا ۔ خریدار کمپنی رجسٹر پر دستخط کرتا اور خریدار بن جاتا۔ ایمسٹرڈم میں بانڈ اور کرنسی پہلے سے موجود تھی لہذا ایمسٹرڈم یہ دعوی کرتا ہے کہ سب سے پہلے اسٹاک ایکسچینج یہیں پر بنا۔

پاکستان میں پہلا اسٹاک ایکسچینج 1949ء میں کراچی میں قائم ہوا۔ دوسرا اسٹاک ایکسچینج لاہور میں 1971ء میں بنا جبکہ چند سال قبل اسلام آباد میں اس کا قیام عمل میں آیا۔

1949 میں کراچی اسٹاک ایکسچینج صرف 90 ممبران پر مشتمل تھا اور اس میں 13 کمپنیاں لسٹڈ تھیں۔ جن کی تعداد 1989ء میں 438 ہوگئی ۔آج اس کے ممبران کی تعداد 200 ہے جن میں فعال ممبران کی تعداد 75 ہے جو 777 لسٹڈ کمپنیوں میں کاروبار کر رہے ہیں۔ ان کا لسٹڈ سرمایہ 138934.768 ملین روپے ہے۔ یہاں اوسطاً 13 ملین حصص کا کاروبار ہوتا ہے۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج کا نظام 15 رکنی بورڈ آف ڈائریکٹرز چلاتا ہے جس کا سربراہ صدر اسٹاک ایکسچینج کہلاتا ہے۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج کا انتظام سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج آرڈیننس 1969ء کے تحت بنائے گئے قواعد وضوابط کے تحت چلایا جاتا ہے۔ 1984ء سے کمپنی آرڈیننس کے تحت کارپوریٹ لاء اتھارٹی اسٹاک مارکیٹ کی نگرانی کا کام سرانجام دے رہی ہے۔ شروع میں اسٹاک مارکیٹ کی رفتار بہت سست تھی تاہم بعد میں اس میں لسٹڈ کمپنیوں کی تعداد اور سرمائے میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اس میں اس وقت تیزی آئی جب حکومت نے1960ء میں سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے صنعتوں پر ٹیکس کی چھوٹ دی ۔

1971ء میں پاک بھارت جنگ نے ملک کو بہت نقصان پہنچایا اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے کراچی اسٹاک ایکسچینج سے 60 کمپنیاں علیحدہ ہوگئیں کیونکہ یہ ملک کے مشرقی حصے میں واقع تھیں۔ اس کے بعد رہی سہی کسر حکومت کی طرف سے صنعتوں کو قومیانے سے پوری ہوگئی ۔ 1977ء میں نئی حکومت نے Desnationalization کی پالیسی اپنائی جس کے اسٹاک مارکیٹ پر اچھے اثرا ت مرتب ہوئے۔ جب کہ ڈیوڈنڈ پر انکم ٹیکس میں چھوٹ کے علاوہ ٹیکس میں خصوصی مراعات دی گئیں۔ 1991ء میں بیرونی سرمایہ کاری کی اجازت اور پرائیویٹ سیکٹر میں بینکوں کے قیام کی اجازت سے مارکیٹ خوب پھلی پھولی ۔ وقت کے ساتھ اسٹاک مارکیٹ میں وسعت پیدا ہوئی اور اس میں نئی قسم کی سکیورٹیز کا اضافہ ہوا جن میں ایف ای بی سی ،کارپوریٹ بانڈ ٹرم فنانس سرٹیفیکیٹ اور ووچرز شامل ہوئے۔



حصص کی فروخت سے قبل کسی بھی کمپنی کو پہلے خود کو اسٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ کرانا ہوتا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں اس کمپنی کا اندراج ہوتا ہے جس کا پیڈ اپ کیپیٹل کم از کم 20 ملین ہو۔

کسی بھی کمپنی کے حصص کی خریدار ی دو طرح سے ہوتی ہے ۔ حصص براہ راست کمپنیوں یا بروکر سے خریدے جاسکتے ہیں۔ براہ راست خریدنے سے شیئر اصل قیمت پر مل جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ حصص کے لیے بروکر کا انتخاب کیا جاتا ہے جس کے پاس اکائونٹ کھلوانا پڑتا ہے۔کچھ مخصوص رقم بروکر کے پاس رکھوانے سے وہ اکائونٹ کھول دیتا ہے۔ اس کے بعد آپ بروکر کو آرڈر دیتے ہیں کہ حصص کس مقدار میں اور کتنی قیمت پر خریدنے ہیں۔ خریدوفروخت کے بعد رسید لینا بہت ضروری ہوتا ہے۔

محفوظ سرمایہ کاری کے لیے آپ بروکر کے لیے ایک حد مقرر کرسکتے ہیں کہ اس حد سے کم اور اس حد سے زیادہ اس کے حصص کی خریدوفروخت نہ کرے۔ بروکر کے انتخاب میں بہت جانچ پڑتال کی ضرورت ہوتی ہے اور اس معاملے میں چھان بین کرکے صحیح بروکر کو چننا چاہیے۔

اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری اس شخص کو کرنا چاہیے جس کو سرمائے کی جلدی ضرورت نہ ہو، اگر کسی سرمایہ کار کو جلد پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے تو نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے اور سرمایہ کار راتوں رات کنگلا ہوسکتا ہے۔ اسے منافع توکیا اصل رقم بھی نہیں مل پاتی ۔



اسٹاک مارکیٹ میں اگر آپ سرمایہ اس کمپنی پر لگا دیتے ہیں جس کی ساکھ اچھی نہیں ہے تو آپ کا سرمایہ ڈوب سکتا ہے۔ سرمایہ کار کو سرمایہ کاری سے قبل بہت سی چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے جن میں سرمایہ کو ایک کمپنی کے بجائے پھیلا کر لگانے کے علاوہ ،لمبے عرصے اور مارکیٹ کے حالات جان کر سرمایہ لگانا چاہیے۔ سرمایہ کار کو اس چیز کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ اسے منافع میں سے بروکر کی کمیشن ، حکومتی ٹیکس اور افراط زر کی شرح بھی نکالنی ہوتی ہے۔

اسٹاک مارکیٹ میں شیئرز ٹریڈنگ ہوتی ہے اور اسٹاک ایکسچینج بروکرز اور ٹریڈرز کو اسٹاک ،بانڈز اور دیگر سکیورٹیز کی ٹریڈنگ کی سہولت مہیا کرتا ہے۔ کسی اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کرنے کے لیے وہاں لسٹڈ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ سرمایہ کار کو سٹاکس اور بانڈز کی ابتدائی آفر پرائمری مارکیٹ میں ہوتی ہے جبکہ بعدازاں ٹریڈنگ سیکنڈری مارکیٹ میں ہوتی ہے۔

اکتوبر 2008 میں ایک اندازے کے مطابق عالمی اسٹاک مارکیٹ کا حجم تقریبا 36.6 ٹریلین ڈالر تھا ۔ امریکہ میں مارکیٹ سرمائے کے لحاظ سے سب سے بڑی مارکیٹ نیویارک اسٹاک ایکسچینج ،کینڈا میں ٹورنٹو اسٹاک ایکسچینج جبکہ یورپ میں ایمسٹرڈم اسٹاک ایکسچینج ، لندن اسٹاک ایکسچینج ، پیرس اور فرینکفرٹ کی مارکیٹیں ہیں۔ ایشیا میں فلپائن ، سنگاپور ، ٹوکیو، ہانگ کانگ ، شنگھائی اور ممبئی کی اسٹاک مارکیٹیں بڑی مارکیٹیں ہیں۔

اسٹاک مارکیٹ میں چھوٹے ذاتی انویسٹرز سے لے کر بڑے بڑے ٹریڈر شامل ہوتے ہیں جو دنیا میں کہیں بھی بیٹھ کر کام کرتے ہیں۔ کچھ اسٹاک ایکسچینجز فزیکل موجود ہوتی ہیں جہاں ٹریڈنگ فلور پر ہوتی ہے جبکہ کچھ اسٹاک ایکچینجز ورچوئل قسم کی ہوتی ہیں جہاں ٹریڈرز کمپیوٹرز پر الیکٹرانکلی ٹریڈ کرتے ہیں۔ اصل ٹریڈ فزیکل اسٹاک ایکسچینج میں ہوتی ہے جہاں کسی اسٹاک کے لیے بولی ہوتی ہے۔ جب بڈ اور مخصوص پرائس میچ کرجاتی ہے تب سیل ہوجاتی ہے۔

اسٹاک مارکیٹ کا مقصد خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان سیکورٹیز کے ایکسچینج کی سہولت مہیا کرنا ہوتا ہے۔ ٹریڈنگ فلور پر آرڈر دیے جاتے ہیں جو کہ فلور بروکرز تک پہنچ جاتے ہیںجو اسٹاک کی ٹریڈنگ کے لیے فلور ٹریڈنگ پوسٹ سپیشلسٹ کے پاس جاتاہے۔ سپیشلسٹ کی جاب خرید اور فروخت کے آرڈرز کو میچ کرنا ہوتا ہے۔ اگر سپریڈ موجود ہوتو کوئی ٹریڈنگ نہیں ہوتی ۔ اگر ایک دفعہ ٹریڈنگ ہوجائے تب تفصیل ٹیپ پر رپورٹ ہوجاتی ہے اور وہ بروکریج فرم کو بھیج دی جاتی ہے جو آرڈر دینے والے انویسٹر کو مطلع کرتا ہے۔ نصدق ایک و رچل ایکسچینج ہے جہاں ساری ٹریڈنگ کمپیوٹر پرہوتی ہے۔ اب کمپیوٹرز نے ٹریڈنگ فلورز کی ضرورت ختم کردی ہے ، بروکرز کم فیس پر ایکسچینج کا کام کرتے ہیں اور سالانہ ٹریڈنگ کمیشن کی صورت میں 11 بلین ڈالر بٹور لیتے ہیں۔



مارکیٹ کے شرکاء میں ذاتی ریٹیل انویسٹرز ،انسٹیٹیوشنل انویسٹرز جبکہ پبلک ٹریڈر کارپوریشنز اپنے شیئرز کی ٹریڈنگ کرتی ہیں۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اپنے شیئر فروخت کرنے والے انسٹیٹیوشنل انویسٹرز اور کارپوریشنیں ، ریٹیل انویسٹرز کی نسبت عمومی طور پر زیادہ رسک لیتی ہیں۔ کچھ دہائیاں قبل دنیا بھر میں خریدار اور فروخت کنندگان ذاتی انویسٹرز ہی تھے مثلاً دولت مند بزنس مین ، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ مارکیٹوں میں انسٹی ٹیوشنل انویسٹرز مثلاً انشورنس کمپنیوں ، بینکوں وغیرہ کی بھر مار ہوگئی ۔

اسٹاک مارکیٹ کمپنیوں کے لیے پیسہ بنانے کا ایک بہت اہم ذریعہ ہے۔ یہ پبلک مارکیٹ میں کمپنی کے شیئر فروخت کرکے اسے مالی سرمائے میں اضافہ کرنے کی سیڑھی کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ شیئرز اور دیگر اثاثہ جات کی پرائس متحرک اکانومی کا اہم حصہ ہوتا ہے جس سے سوشل موڈکی عکاس ہوتی ہے۔ اسٹاک مارکیٹ تیزی میں ہوتو پتہ چلتا ہے کہ معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے۔ حقیقت میں اسٹاک مارکیٹ کسی بھی ملک کی اقتصادی حالت کا پرائمری انڈیکیٹر ہوتی ہے۔ اگر شیئر پرائسز بڑھیں تو بزنس انویسٹمنٹ زیادہ ورنہ کم ۔ شیئر پرائسز دولت اور اس کے تصرف پر بھی اثر انداز ہوتی ہے لہٰذا مرکزی بینک اسٹاک مارکیٹ پر نظر رکھتے ہیں۔

ایکسچینجز ہر ٹرانزیکشن کے لیے ایک کلیئرنگ ہائوس کے طور پر بھی کام کرتی ہیں جو شیئرز جمع کرنے ، اسے ڈیلور کرنے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کے سیلر کو گارنٹی پیمنٹ دیتی ہے۔

اسٹاک مارکیٹ کا اپنا ایک طریقہ کار ہوتا ہے ۔ مارکیٹوں میں تیزی اور مندی کا رجحان ہوتا رہتا ہے اور اس پر بہت سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں جن میں عالمی سطح پر کشیدگی ، آفات ،دہشت گردی ، سیاسی انتشار وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ 1987ء میں ڈوجونز 22.6 فیصد نیچے آئی جو کسی بھی ایک دن میں سب سے زیادہ گراوٹ ہے جبکہ یہ ہی مارکیٹ 2008 ء میں 936.42 پوائنٹس اوپر گئی جو ایک دن میں بڑا اضافہ ہے۔ ایک مارکیٹ اس وقت کریش کرتی ہے جب اس کے شیئر پرائس میں شدید مندی ہوتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ افراتفری اور عوامی اعتماد میں کمی کا ہونا ہوتا ہے۔ ایک مارکیٹ کے کریش ہونے کی خبر جب دوسری مارکیٹوں تک پہنچتی ہے تو وہ بھی کریش کرجاتی ہیں۔ بعض اوقات کریش کے بعد دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں ٹریڈنگ رک جاتی ہے ۔ جس پر فیڈرل ریزرو سسٹم اور مرکزی بینک محترک ہوتے ہیں اور عالمی مالی بحران کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدامات کرتے ہیں۔ 1990ء کے بعد بہت سی اسٹاک ایکسچینجز میں الیکٹرانک میچنگ انجن آگئے ہیں جنھوں نے اوپن آئوٹ کرائی(شوروغوغا) سسٹم کی جگہ لے لی ہے۔ اتنے زیادہ حجم کو کنٹرول کرنے کے لیے کمپیوٹر سسٹم کو اپ گریڈ کردیا گیا ہے۔ بعض بڑی مارکیٹوں میں سرکٹ بریکر کا تصور آگیا ہے جو اگر شیئر پرائس مخصوص وقت میں مجوزہ پوائنٹس سے نیچے آجائے تو ٹریڈنگ روک دیتا ہے۔

مقبول خبریں