مشرق وسطیٰ اور پاکستان میں فرق

ہمارے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے پچھلے دنوں اپنے ایک بیان میں اس خدشے کا اظہار...


Zaheer Akhter Bedari September 29, 2013
[email protected]

ہمارے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے پچھلے دنوں اپنے ایک بیان میں اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ اگر ''ہم مستحکم نہ ہوئے تو پاکستان تیونس، لیبیا یا مصر بن سکتا ہے'' ہمارے بے شمار باکمال سیاستدانوں کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ ملک کو لاحق خطرات پر نظر ڈالیں، ان کی سنگینی پر سنجیدگی سے غور کریں اور ان مسائل کے حل کے لیے اتفاق رائے سے ایسی حکمت عملی اختیار کریں جو ملک کے وجود کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری ہوتی ہے لیکن ملک کی سیاسی صورت حال پر نظر ڈالیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا ملک صاحب بصیرت سیاستدانوں سے خالی ہے۔

ہر سیاستدان اپنے اور اپنی جماعت کے مفادات کے کولہو پر گھومتا نظر آتا ہے اور آنکھوں پر بندھی ہوئی مفادات کی پٹی ان محترمین کو اپنے اردگرد کیا ہو رہا ہے اس طرف دیکھنے نہیں دیتی۔ خطرات بلکہ سنگین خطرات کے اس ماحول میں آصف علی زرداری کی دوربینی کی داد دینی چاہیے کہ انھیں یہ احساس ہو رہا ہے کہ ملک کس طرف جا رہا ہے۔ ایک سیاستدان کی حیثیت سے ملک کو لاحق سنگین خطرات کی نشاندہی کر کے آصف علی زرداری نے اپنی ذمے داری پوری کر دی ہے لیکن انھیں محسوس ہونے والے خطرات میں سمت کا تعین انھوں نے غلط کیا ہے۔ انھوں نے جو پیش گوئی کی ہے اس کے مطابق پاکستان تیونس، لیبیا یا مصر بننے جا رہا ہے۔ لیکن ذرا گہری نظر سے ملکی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ہمارا ملک تیونس، لیبیا اور مصر سے زیادہ سنگین حالات کی طرف بڑھ رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں آنے والے انقلابات کی کوئی سمت اس لیے نظر نہیں آتی تھی کہ یہ انقلابات خود رو تھے اور ان ملکوں میں ایسی طاقتیں موجود نہیں تھیں جو ان انقلابات کو کوئی سمت دے سکیں اس کے برعکس پاکستان میں صورت حال یہ ہے کہ یہاں لگ بھگ ایک عشرے سے ایسی طاقتیں مسلح بغاوت کی شکل میں سرگرم عمل ہیں جو تبدیلی کی سمت کا پہلے سے تعین کر چکی ہیں اور تیونس، مصر اور لیبیا کی طرح انقلابات کو بے لگام ہونے نہیں دینا چاہتیں بلکہ وہ پوری منصوبہ بندی، ٹائمنگ اور موثر حکمت عملی کے ساتھ اس ممکنہ انقلاب کو اپنی مرضی کے رخ پر لے جانے کے لیے کوشاں ہیں۔

ہر جمہوری ملک میں جمہوریت کا حسن اختلاف رائے کو سمجھا جاتا ہے ہو سکتا ہے جمہوریت کے حسن کی یہ اصطلاح درست ہو لیکن اس اختلاف رائے کا حسن اس وقت تک برقرار رہتا ہے جب ملک کے برقرار رہنے کا یقین ہو، جب ملک کی سلامتی اور سالمیت ہی داؤ پر لگی ہو تو جمہوریت کا یہ حسن ایسی بھیانک بدصورتی بن جاتا ہے جسے کوئی دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے 18 کروڑ عوام مشرق وسطیٰ جیسے انقلاب کے لیے بے چین ہیں لیکن اس قسم کے کسی انقلاب کو ہائی جیک کرنے کی جو منصوبہ بند تیاریاں کی جا رہی ہیں اس کا تقاضا یہ ہے کہ سیاسی اختلاف رائے کو دور پھینک کر ساری سیاسی اور اعتدال پسند مذہبی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر اس طوفان کا مقابلہ کریں جو کسی کو بخشنے کے لیے تیار نہیں۔ ہو سکتا ہے بعض خوش فہم جماعتیں اس خوش فہمی میں مبتلا ہوں کہ ان اندھی طاقتوں کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی انھیں اس طوفان کی زد میں آنے سے بچالے اس خوش فہمی سے نکلنے کے لیے اس انقلابی طوفان کی نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے جو اب تک ہمارے وزیر اعظم کے ارشاد کے مطابق 40 ہزار سے زیادہ بے گناہ پاکستانیوں کے چیتھڑے اڑا چکا ہے جن میں معصوم بچے بچیاں، بوڑھے، جوان، عورت، مرد سب شامل ہیں۔

اس طوفان کو روکنے کے لیے جو پرامن کوششیں کی جا رہی ہیں اور عقل و فہم کی حدیں کراس کر کے جو پیشکشیں کی جا رہی ہیں جو شرائط مانی جا رہی ہیں وہ اس قدر حیران کن ہیں کہ کوئی بھی معمولی سیاسی شعور رکھنے والا ان کوششوں کو یا تو احمقانہ اور غیر منطقی کوششیں کہے گا یا پھر وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہو گا کہ یہ مخلصانہ کوششیں کسی ذاتی یا جماعتی مفادات کے لیے کی جا رہی ہیں جن میں اس ملک اور اس ملک کے 18 کروڑ عوام کے مستقبل کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے ان ''دانشورانہ کوششوں'' پر میڈیا میں بحث جاری ہے وہ حلقے جو اس طوفان بلا سے کسی بھی وجہ سے ہمدردی رکھتے ہیں وہ اس مسئلے پر اظہار رائے کرتے ہوئے یہ ماہرانہ رائے دے رہے ہیں کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں مذاکرات ہی مسئلے کا حل ہے اس قسم کی دلیلیں دینے والوں سے یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا کسی سلاٹر ہاؤس میں قصائی اور ذبح ہونے والے جانور کے درمیان مذاکرات ہو سکتے ہیں کیا قصائی اور جانور اس جنگ کے دو ایسے فریق ہو سکتے ہیں جو مذاکرات کو کامیاب بنا سکیں؟

کسی سنگین خطرے سے نمٹنے کے لیے اس کی سنگینی کا ادراک ضروری ہے جو خطرہ اپنے جلو میں بے گناہ بچوں، بوڑھوں، عورتوں، مردوں کی ٹُکڑوں میں بٹی لاشیں لے کر چل رہا ہے اور ڈنکے کی چوٹ پر کہہ رہا ہے کہ ''ہم تمہاری حکومت، تمہاری جمہوریت، تمہارے قانون، تمہارے انصاف، تمہارے اداروں کو مانتے ہی نہیں'' یہ طوفان جہاں اب تک 40 ہزار بے گناہوں کی بھینٹ لے چکا ہے وہیں بڑے بڑے دفاعی اداروں کو بھی اپنی زد میں لے چکا ہے۔ پچھلے دنوں فوج کے ایک میجر جنرل اور ایک لیفٹیننٹ کرنل سمیت کئی فوجی اس کے قہر کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایسی قہار طاقت سے امن کی امید کرنا سادگی کی انتہا ہے یا حماقت کی انتہا؟ عام آدمی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ ایک منظم ریاست اور لاکھوں مسلح اور انتہائی تربیت یافتہ ریاستی مشنری چند مسلح گروہوں کے آگے اس قدر بے بس کیوں ہے؟ آصف علی زرداری جیسے ذہین اور دور بین سیاستدان کو اس سوال کا جواب تلاش کرنا چاہیے۔ عوام اس بات پر بھی حیران ہیں کہ اس سنگین طوفان کی نوعیت کو سمجھتے ہوئے بھی کچھ چوٹی کے سیاستدان مذاکرات پر اصرار کر رہے ہیں اور حکومت کی طرف سے دہشت گردوں کو خوش کرنے والے ہر حکومتی اقدام پر سبحان اللہ، جزاک اللہ کہہ رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے عوام کے عوامی انقلابات خاندانی موروثی حکمرانوں کے خلاف ایک انتہائی پرتشدد بغاوت کی حیثیت کے حامل تھے عوام ان آمروں کی اربوں ڈالر کی کرپشن پر سخت مشتعل تھے کیا پاکستان کی صورت حال ان حوالوں سے مشرق وسطیٰ کی صورت حال سے مختلف ہے؟ اگر نہیں تو آصف علی زرداری اس مفادات سے بچنے کے لیے جو نسخہ تجویز کر رہے ہیں کیا وہ تیر بہ ہدف ہو گا؟ اس سوال کا جواب دو حوالوں سے نفی میں آتا ہے زرداری صاحب اس ممکنہ خطرناک صورت حال سے بچنے کے لیے مستحکم ہونا ضروری سمجھتے ہیں۔ اگر ان کا اشارہ حکومتی استحکام سے ہے تو ہم یہ کہنے کی گستاخی کریں گے کہ جب عوام کا سمندر موجیں مارتا ہے تو ریاستی استحکام ریت کی دیوار بن جاتا ہے جس کا مشاہدہ ہم 1968 اور 1979 میں کر چکے ہیں اگر زرداری دہشت گردی کے طوفان سے بچنے کی بات کر رہے ہیں تو پھر اس کے لیے ریاستی مشنری کا استعمال انتہائی منصوبہ بندی، نظم و ضبط ایک موثر حکمت عملی کے ساتھ کرنا پڑے گا۔

ہماری بھاری بھرکم ریاستی مشنری کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ ریاستی مشنری کا غیر منظم، غیر منصوبہ بند استعمال دوسرے اس عفریت سے نمٹنے کے لیے اتفاق رائے کا فقدان ہے۔ اگر یہ دو کمزوریاں نہ ہوتیں تو شاید اب تک یہ منہ زور طوفان جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ہوتا۔ اس حوالے سے ایک بہت بڑی خامی یا کوتاہی یہ نظر آتی ہے کہ ہمارے سابقہ اور حالیہ حکمرانوں نے اس طوفان کا رخ موڑنے کے لیے عوامی طاقت کو استعمال کرنے کی سرے سے کوشش ہی نہیں کی اس کے برخلاف نہتے اور بے گناہ پاکستانیوں کو اس وحشی طاقت کے آگے خاموشی سے مرنے کے لیے چھوڑ دیا؟ یہ مسئلہ مشرق وسطیٰ کے مسئلے سے بالکل مختلف ہے مشرق وسطیٰ میں موروثی اور کرپٹ آمر عوام کی نفرت کی زد میں تھے ان انقلابات کا مقصد کرپشن اور خاندانی حکمرانیوں کا خاتمہ تھا یہاں عوام اور حکمراں ایک دوسرے کے سامنے تھے اور ان انقلابات کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ یہاں کی تمام طاقتیں حکومت جمہوریت قانون انصاف اور آئین کی پاسدار تھیں حتیٰ کہ اخوان المسلمین جیسی مذہبی انتہاپسند طاقتیں بھی آئین، قانون، حکومت، جمہوریت سب کو تسلیم کرتی تھیں۔

پاکستان کو جن طاقتوں کا سامنا ہے ان کے پیش نظر ہر حالت میں اقتدار اور اپنا نظام لانا ہے۔ اس انتہائی گمبھیر صورت حال میں مسئلہ محض حکمرانیوں کو، سیاست کو بچانا نہیں ریاست کو بچانا ہے۔ اس حقیقت کے پس منظر میں مذاکرات کا تجربہ کرنے سے پہلے ریاست بچانے کی تدبیریں کرنا ضروری ہے۔ ہمارے دور بین زرداری صاحب اور ان کے سیاسی دوستوں کا فرض ہے کہ وہ ملک کو بچانے کی طرف آئیں کیونکہ ملک ہے تو سیاست ہے جمہوریت ہے اپوزیشن ہے حزب اقتدار ہے۔

مقبول خبریں