بینک کارٹل نے26 ستمبرکوڈالر ریکارڈ 5 روپے مہنگا کیاذرائع

وفاقی وزیرخزانہ کے مشیرکی فوری اسٹیٹ بینک آمداورمارکیٹ مداخلت نے روپے کوبچایا


Business Reporter October 01, 2013
وفاقی وزیرخزانہ کے مشیرکی فوری اسٹیٹ بینک آمداورمارکیٹ مداخلت نے روپے کوبچایا. فوٹو: اے ایف پی/فائل

ایک غیرملکی اوربعض مقامی تجارتی بینکوں کی کارٹلائزیشن اورچندگھنٹوں کے لیے ڈالرکی فروخت روکنے کے عمل سے 26 ستمبر 2013 کوروپے کی نسبت ڈالر کی قدر میں5 روپے کے ریکارڈ اضافے کا باعث بنا۔

تاہم وفاقی وزیرخزانہ کی ہدایت پران کے مشیررانا اسد امین کی فوری اسٹیٹ بینک آمد اور انٹربینک میں 3 کروڑ ڈالر کے ذریعے مداخلت نے روپے کی قدر کو مزید تنزلی سے بچالیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک غیرملکی بینک کے علاوہ بعض سرفہرست مقامی بینکوں نے ایک ماہ سے ڈالر کی قدر میں اضافے کے لیے باہمی گٹھ جوڑ کیا ہوا ہے جو کارٹلائزیشن کے ذریعے انٹربینک کی سطح پر ڈالر کی قدر میں بتدریج اضافہ کرتے چلے آرہے تھے، انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں اضافے کے رحجان کو دیکھتے ہوئے امپورٹرز نے گھبراہٹ میں ڈالرکی خریداری بڑھالی جو مزید بحران کا باعث بنی۔



اس ضمن میں ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک محمدبوستان نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ایٹمی دھماکا کرنے کے بعد بین الاقوامی طاقتوں کی جانب سے پاکستان پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد ہونے کے باوجود پاکستان کے انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر ایک روز میں5 روپے نہیں بڑھی تھی لہٰذا وفاقی حکومت کو بینکوں کی ڈالرمیں حالیہ سٹے بازی کی تحقیقات کرنے اور ملوث بینکوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن کا وفد بھی وفاقی وزیرخزانہ سے ملاقات کرکے حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے بعض سفارشات پیش کریگا، ڈالر کی قدر پر کنٹرول کرنے کیلیے ضروری ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان تجارتی بینکوں کے ناسٹرو اکائونٹ میں زرمبادلہ کی 100 فیصد حد میں کمی کرے، درآمدات کیلیے کھولے جانے والے لیٹرآف کریڈٹ پر بینکوں کے مارجن کے صوابدید یا صفرشرح مارجن کو ختم کرکے 100 فیصدعائد کیا جائے جبکہ برآمدکنندگان کو پابند بنایا جائے کہ وہ 120 ایام میں برآمدی آمدنی ملک میں لائیں جوانہوں نے ڈالر کی قدر میں مزید اضافے کے امکانات کے پیش نظر پاکستان نہیں منگوائی۔