معاشی استحکام کے اشاریے

ملک کا امیرطبقہ ٹیکس دینے میں بہت کمزور ہے لیکن ٹیکسوں کے معاملے پرکسی سے بھی سودے بازی نہیں ہوگی۔


Editorial September 17, 2019
ملک کا امیرطبقہ ٹیکس دینے میں بہت کمزور ہے لیکن ٹیکسوں کے معاملے پرکسی سے بھی سودے بازی نہیں ہوگی۔ فوٹو: فائل

مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ کاکہنا ہے کہ ملک کی معیشت بحران سے استحکام کی طرف بڑھ گئی ہے، ٹیکسوں کے معاملے پرکسی طر ح کی سودے بازی نہیں ہوگی، ایف اے ٹی ایف کے لیے جو ہمیں کرنا ہے ہم کررہے ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی کے ساتھ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ فیٹف کا عمل اچھے انداز میں چل رہا ہے، ایک باڈی بنائی ہوئی ہے جو فیٹف پر فیصلے کررہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ صرف عوام کے فائدے کے لیے کام کررہے ہیں۔ ملک کا امیرطبقہ ٹیکس دینے میں بہت کمزور ہے لیکن ٹیکسوں کے معاملے پرکسی سے بھی سودے بازی نہیں ہوگی۔ ریونیواکھٹا کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ بیرونی قرض نہ لینا پڑے۔

ملکی معاشی اور مالیاتی صورتحال اس اعتبار سے دلچسپ ہوگئی کہ مشیر خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر کی پریس کانفرنس کے بعد آئی ایم ایف مشن نے پیر کے روز پاکستان آمد کا عندیہ دیا، معاشی مبصرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف مشن معاشی کارکردگی پر عدم اطمینان کا جائزہ لینے آیا ہے ، واضح رہے مالیاتی فنڈ حکام نے پاکستان کو حد سے زیادہ قرض لینے پر تشویش بھی ظاہر کی تھی ۔تاہم مشیر خزانہ نے ملکی معیشت میں استحکام کا یقین دلایا ہے۔

انھوں نے اعداد وشمار کی روشنی میں معیشت کے حوالہ سے مارکیٹ میں گردش کرنے والی افواہوں اور صورتحال کا تجزیہ پیش کیا ،ان کے حتمی تجزیے کے مطابق ملکی معیشت بحران سے نکل کر استحکام کی منزل کی جانب رواں دواں ہے، مشیر خزانہ کے مطابق رواں سال جولائی اوراگست میں 580 ارب ٹیکس جمع کیا گیا جب کہ گزشتہ مالی اسی دورانیے میں509ارب روپے ٹیکس جمع کیاگیا تھا، اس سال ایک ہزار ارب روپے سے زائد ٹیکس ریونیو متوقع ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکا ؤنٹ خسارے میں 70فیصد کمی لائے ہیں ،گزشتہ سال کی نسبت برآمدات میں اضافہ اوردرآمدات میں کمی لائی گئی۔

انھوں نے کہا کہ دو بڑے فیصلے کیے ہیں 1) (وہ ادارے جن کوپبلک سیکٹرکے لوگ نہیں چلاسکتے۔ اس کو شفاف اندازمیں نجی شعبے کے حوالے کیا جائے2) (نیشنل بینک اور اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کی نجکاری پر غورکرر ہے ہیں، اس کے ساتھ بجلی کے ڈسٹری بیوشن کمپنیوںاوربڑے اداروں نجکاری زیر غور ہیں، نجکاری پراحتجاج ہوتا رہا ہے ، ہم نجکاری ملکی مفاد میں کرینگے، غورکیا جا رہا ہے کہ بجلی کے گردشی قرضے پربجلی چوری کم کرکے قابو پایا جائے۔

عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ حکومت نے اسٹیٹ بینک سے کوئی قرض نہیں لیا، ہمار ے روپے کی قدر میں اضافہ ہوا ہے جس سے ہم کو 246ارب روپے کا فائدہ ہوا ہے۔ اس مہینے ہمارے قرض میں 224ارب کا اضافہ ہواہے، زراعت کو جو اہمیت دی ، اس کے فوائد بھی آنے شروع ہوگئے ہیں۔ چیئرمین ایف بی آرشبر زیدی نے کہا ٹیکس نیٹ میں 6لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے، جس سے پاکستان میں ٹیکس فائلرز کی تعداد25 لاکھ ہوگئی ہے اس کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایسا پروگرام لارہے ہیں جس سے بر آمدکندگان کوفوری ریفنڈ ملے گا،آیندہ سے ہر ماہ کی 16تاریخ کوٹیکس ریفنڈ ہوجایا کریگا، احتساب اس انداز سے چاہتے ہیں کہ کاروباری طبقہ متاثر نہ ہو۔

ادھر ماہرین معاشیات کاکہنا ہے کہ مہنگائی، بیروزگاری،روپے کی قدر میں کمی کے سنگین اثرات ہوں گے۔ اسٹیٹ بینک کی یقین دہانی کے باوجود آئی ایم ایف کے طویل مدتی اثرات ابھی ظاہر نہیں ہوئے،اپوزیشن جماعتوں کے مطابق حکومت الزام لگا رہی ہے کہ دو سابق حکومتوں نے ملکی معیشت کا دیوالیہ نکال لیا لیکن خود حکومت نے ان حکومتوں کی کل میعاد کے مقابلہ میں صرف ایک سال کے اندر ہوشربا اربوں کے قرضے لے لیے۔ معترض سیاسی حلقوں کا کہناہے کہ اگر یہ قرضے عوام کی فلا ح و بہبود کے لیے تھے تو ان کے مثبت اثرات عوام کی زندگی میں کیوں نظر نہیںآتے، ان کے تو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔

گرانی ، بیروزگاری ، جرائم اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں نے غریب اور محنت کش طبقہ کا کچومر نکال لیا ہے۔ حکومتی وزرا اور مشیر اپنے استدلال میں دور کی کوڑیاں لاتے ہیں ، وہ پچھلی حکومتوں کے لادے ہوئے قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگیوں کا حوالہ دیتے ہیں۔ گزشہ دنوں آذر بائیجان میں منعقدہ خیبر پختونخوا کے وفد کی جانب سے ایک سرمایہ کاری کانفرنس میں دو مقامی بیلے ڈانسروں نے نیم برہنہ رقص کیے ،اس کی ویڈیو وائرل ہوگئی، سرمایہ کاری حکام کی طرف سے کوئی وضاحت جاری نہیں کی گئی ۔ سوشل میڈیا پر الگ شور برپا ہواکہ معیشت اور کشمیر کی پیداشدہ صورتحال کے دردانگیز سناریوں میں ایسی حرکتوں کا کوئی جواز نہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ارباب اختیار معاشی معاملات پر سنجیدہ اقدامات کی طرف توجہ دیں، ریگولیٹر ادارے یا عالمی مالیاتی وفود جب اقتصادی اور معاشی امور پر پر بات چیت کیلیے موجود ہوں تو ایسی غیر سنجیدہ باتوں سے اجتناب کیا جائے،اسی میں ملک کی عزت ہے۔

مقبول خبریں