سندھ کی صورتحال اسٹیک ہولڈرز کے لیے سوالیہ نشان

کیاعوام نے الیکشن میں ووٹ اسی لیے دیے کہ ان کے نصیب میں ٹوٹی پھوٹی بسیں اورگندے پانی کے تالاب میں ڈوبی ہوئی سڑکیں ہوں۔


Editorial September 18, 2019
کیاعوام نے الیکشن میں ووٹ اسی لیے دیے کہ ان کے نصیب میں ٹوٹی پھوٹی بسیں اورگندے پانی کے تالاب میں ڈوبی ہوئی سڑکیں ہوں۔ فوٹو: فائل

سندھ کی سیاست بادی النظر میں کثیر جہتی سیاسی ، سماجی معاشی مسائل ، انفرااسٹرکچر کے فقدان اور انتظامی کشمکش کے اعصاب شکن محاذ آرائی میں الجھی ہوئی ہے ۔مون سون بارشوں نے کچھ ایسا سسٹم کو ہلادیا کہ سیاسی اسٹیک ہولڈرز ایک دوسرے سے لاتعلق ہوگئے ہیں۔

احتسابی عمل پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس آصف سعید کھوسہ کے صائب بیان پر سندھ اور وفاق کے مابین بیانات کا سلسلہ جاری ہے،سندھ حکومت ،اپوزیشن اور ماہرین قانون غیر متوازن احتساب کے تاثر کی سوچ کو خطرناک کہہ چکے ہیں ،چیف جسٹس نے اختلاف کی آزادی کو دبانے پر بھی خطرناک مضمرات کا عندیہ دیا ہے،ادھر جعلی اکائونٹس اور منی لانڈرنگ کیسز میں درجن بھر ہائی پروفائل کیسز زیر سماعت ہیں۔

مراد علی شاہ نیپ کے سامنے پیش ہوئے، سابق صدر کی ہمشیرہ اور رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور کا کہنا ہے کہ احتساب کے نام پر پگڑیاں اچھالی جارہی ہیں، وفاقی وزیر قانون کی جانب سے آرٹٰیکل 149 کے نفاذ کی تجویز گویا سندھ کی سیاست کو فلیش پوائنٹ پر لے آئی، بلاول بھٹو نے گڑھی خدابخش کے ورکرز کنونشن میں سندھودیش اور پختونستان ایشو کے پرانے اوراق کھولے، کراچی اور سندھ کے شہروں میںصحت صفائی کے معاملات پر میڈیا میں بحث شدت سے جاری ہے اور بظاہر کچرا ٹھکانے لگانے کے تمامتر دعووںکے باوجود کراچی کا چہرہ بدستور دھول میں ڈھکا ہوا ہے ، گھوٹکی کی صورتحال خراب ہے، اسکولوں اور کالجز میں منشیات کی لہر آئی ہے۔

غلاظتوں کے ڈھیر لگے ہیں اور متعدد علاقے تباہی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ پولیس گردی ہے، المیہ یہ ہے کہ اربن ماہرین اور سیاسی شراکت دار تاحال یہ فیصلہ نہیں کرسکے ہیں کہ کراچی کی بدترین تباہی کا ذمے دار کون ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پیر کو سندھ اسمبلی میں جذباتی تقریر کی،انھوں نے کہا کہ آج معاشی حقوق اور سیاسی حقوق چھینے جارہے ہیں، انھوں نے کہا کہ سندھ کو نقصان پہنچا تو پاکستان کو نقصان پہنچے گا، عوام کی منتخب سندھ اسمبلی پر بری نگاہ ان لوگوں نے رکھی ہوئی ہے جنھیں عوام پہلے ہی دھتکارچکے ہیں، کوئی ہم سے ہمارا صوبائی دارالحکومت کیسے چھین سکتا ہے۔

ایک نفیس وزیر کے بیان نے سندھ کے لوگوں کو اشتعال پیدا کردیا، انھوں نے یہ بات پیر کو سندھ اسمبلی میں آرٹیکل 149کے سندھ میں نفاذ کی تجویز کے خلاف پیپلز پارٹی کے رکن ڈاکٹر سہراب سرکی کی جانب سے ایوان میںپیش کردہ قرارداد پر پالیسی بیان دیتے ہوئے کہی۔ ایوان نے یہ قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی، وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنے جذباتی خطاب میں اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ قراداد پر کہا جارہاہے کہ اس آرٹیکل میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں، ملک آئین کے تحت چلتا ہے قانونی اتھارٹیز کا ذکر قانون اور آئین میں موجود ہے،آرٹیکل79کے مطابق مجلس شوریٰ کے تحت تمام صوبے اتھارٹی کے مطابق معاملات حل کرسکتے ہیں ۔

ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر کنور نوید جمیل نے آرٹیکل کے 149 پر تقریرکرتے ہوئے کہا کہ اس آرٹیکل کا مقصدامن اورسنگین خطرات سے آگاہ کرنا ہے، یہ آرٹیکل 1973 میں بھٹو مرحوم نے آئین میں شامل کیا تھا اور یہ کسی ترمیم کا حصہ نہیں،کنور نوید نے کہا کہ جس طرح تمام 18ترامیم پر بات کرنے کی اجازت ہے اسی طرح اس شق پرہر شخص کو رائے دینے کی آزادی ہونی چاہیے، کنور نوید نے سندھ حکومت سے کہا کہ آپ سیاسی انتقامی کارروائیاںختم کریں، پینے کا پانی نہیں کراچی کے لوگ پانی سے محروم اور500ارب کالا دھن پانی پر کاروبار ہورہا ہے ۔

صوبہ سندھ کی سیاست بلاشبہ گرداب میں ہے، جسے پورے ملکی سیاسی منظرنامہ کا فطری عکس بھی کہا جا سکتا ہے، کہیں پی پی حکومت کے لیے گڈ گورننس اور سیاسی کشیدگی درد سر تو کہیں سسٹم کے اندر حزب اختلاف کی طرف سے سندھ حکومت کے دھڑن تختے کے لیے جوڑتوڑ اور فارورڈبلاک بننے کا میڈیا ہائپ سیاسی تنائو کاباعث بن رہا ہے۔

ایسا محسوس ہوتا کہ سیاسی تدبر، رواداری، قانون کی حکمرانی، جمہوری اسپرٹ اور حکومت واپوزیشن میں مسلمہ جمہوری طریقوں کے مطابق مسائل اور معاملات کی تصفیہ کی مکالماتی روایت دم توڑ رہی ہے، سب کی تلواریں نیام سے باہر نکلی ہیں ، سنجیدہ آوازیں جذبات اور سیاسی کارکنوں اوروزرا کی بیان بازیوں میں دب گئی ہیں،کوئی کسی کو برداشت کرنے کو تیار نہیں جب کہ عوام اور ووٹرز کی زبانیں فریاد کرتے ہوئے خشک ہوچکی ہیں ۔

سوال یہ ہے کہ کیا سندھ کے عوام نے الیکشن میں ووٹ اسی لیے دیے کہ ان کے نصیب میں ٹوٹی پھوٹی بسیں اور گندے پانی کے تالاب میں ڈوبی ہوئی سڑکیں ہوں، نوجوان بیروزگاری، بد امنی،اسٹیٹ کرائم ، کچرا، ڈنگی، کانگو اور نگلیریا کے ہاتھوں دردناک موت پائیں، معصوم بچے کھلے مین ہولوں اور ندی نالوں میں گر کر موت کی نیند سوئیں۔ مکھیوں اور مچھروں نے جینا حرام کررکھا ہے۔ سیاسی رہنمائوں کی ترجیحات محض پوائنٹ اسکورنگ سے بلند ہوں تب ہی عوام کو سکون حاصل ہوگا۔

مقبول خبریں