نیتن یاہو کی شرارت

نیتن یاہو فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کے ساتھ ساتھ پڑوسی ملک شام کے علاقوں کو بھی ہتھیانے کی کوشش کر رہا ہے۔


Editorial September 18, 2019
نیتن یاہو فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کے ساتھ ساتھ پڑوسی ملک شام کے علاقوں کو بھی ہتھیانے کی کوشش کر رہا ہے۔ فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے مقبوضہ غرب اردن کے علاقے میں قائم تمام ناجائز یہودی بستیوں کو اسرائیل کے ساتھ ضم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان میں سب سے بڑے فلسطینی شہر کے قلب میں واقع متنازعہ یہودی بستیاں بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم کے یہ اقدامات بھی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ان اقدامات کے مماثل ہیں جو مودی نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کر کے اسے بھارت میں ضم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے لگتا ہے جیسے یہ دونوں لیڈر اپنے مسائل کے حل کرنے میں ایک دوسرے سے خفیہ طور پر مشورہ کرتے رہتے ہیں۔

نیتن یاہو نے قبل ازیں شام کی جولان کی پہاڑیوں کو بھی اسرائیل میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھاکہ اس پہاڑی علاقے کو ان کے مخالفین اسرائیل پر راکٹ پھینکنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، اس لیے ان پر اسرائیل کا اپنا قبضہ کرنا لازم ہو گیا تھا۔ نیتن یاہو کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسے آمدہ انتخابات میں اپنی سیاسی کامیابی کو مستحکم بنانے کا جنون ہے جو وہ فلسطین کے زیادہ سے زیادہ علاقے کو اپنے تصرف میں لانے کی روش اپنائے ہوئے ہیں۔

نیتن یاہو کی ان ظالمانہ پالیسیوں پر اندرون اسرائیل ان کی مخالفت جاری ہے اور یاہو کو احساس ہے کہ آنے والے انتخابات میں اس کی جیت اتنی یقینی نہیں ہے جب کہ اپنی انتخابی کامیابی کے لیے نیتن یاہو فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کے ساتھ ساتھ پڑوسی ملک شام کے علاقوں کو بھی ہتھیانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نیتن یاہو نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ تمام یہودی بستیوں کو کامل خود مختاری دیدی جائے گی اور ایسے علاقوں کو خصوصی اہمیت دی جائے گی جن کا اسرائیل کی سلامتی کے لیے زیادہ اہم کردار ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اسرائیل کے آرمی ریڈیو پر انتخابی خطاب میں فلسطینی شہر الخلیل میں ہونے والے ہنگاموں اور کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے سخت لہجے میں کہا کہ ان ہنگاموں پر جلد از جلد قابو پا لیا جائے گا تاکہ ہماری انتخابی مہم پر اس کے منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔

نیتن یاہو کا یہ بھی ارادہ تھا کہ انتخابات میں ان کی ہم خیال سیاسی جماعتوں کو بھی اس منصوبے میں شامل کر لیا جائے مگر اسے اس مقصد میں ابتدائی طور پر کامیابی حاصل نہیں ہو رہی۔ نیتن یاہو نے رائے دہندگان کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے مزید وعدوں کی بھرمار کر دی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ تمام وادی اردن کو اسرائیل میں شامل کر لیا جائے گا۔

مگر اردن کے وزیراعظم نے اس دعوے کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غیرقانونی کام نہیں ہونے دیا جائے گا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پچیس لاکھ سے زیادہ فلسطینی اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں میں زندگی گزار رہے ہیں جب کہ نئی یہودی بستیوں میں رہنے یہودیوں کی تعداد سات لاکھ سے زیادہ ہے۔

مقبول خبریں