مہنگائی جن بوتل سے باہر

سفید پوش خاندان ضروریات زندگی سے محرومی پر احساس کمتری میں مبتلا نظر آتے ہیں۔


Editorial September 18, 2019
سفید پوش خاندان ضروریات زندگی سے محرومی پر احساس کمتری میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ فوٹو: فائل

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے معاشی ترقی کی شرح نمو3.5 فیصد اورمہنگائی کی شرح 11سے 12فیصد رہنے کا امکان ظاہرکیا ہے۔

صرف دودن قبل ہمارے مشیر خزانہ نے بلند بانگ دعوے دہرائے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور کارکردگی کے حوالے سے۔ لیکن حقیقی معاشی صورتحال کی عکاسی اس رپورٹ میں سامنے آئی ہے، جس کے مطابق ملک کو بڑی صنعتوں کی پیداوار میں کمی کا سامنا ہے۔

مالی سال 19ء میں بنیادی خسارہ جی ڈی پی کا 3.5 فیصد اور مجموعی مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 8.9فیصد رہا۔ ملک بھر میںبڑھتی ہوئی مہنگائی اور ٹیکسز میں اضافے نے عوام کو شدید مالی پریشانیوں سے دوچارکر دیا ہے۔ اشیائے خورونوش سمیت ہر چیزکی قیمت میں اضافہ ہفتہ وار سطح پر ہورہا ہے۔ وفاقی بجٹ میں کم ازکم تنخواہ ساڑھے سترہ ہزار مقررکی گئی تھی جس پر عملدرآمد تاحال نہیں ہوا ہے، لیکن اس قلیل آمدنی میں گزارہ کرنا ہر ایک کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

صنعتیں اپنی پیداوارکم کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے بیروزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے۔ محنت کش نصف مہینہ ہوتے ہی ادھار لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔حکومتی معاشی ماہرین ذرا چار افراد پر مشتمل کنبے کے ماہانہ اخراجات کا بجٹ بنا کر تو دکھائیں۔ مکان کا 10ہزارکرایہ، یوٹیلیٹی بلز اور بچوں کی اسکول فیسیوں کے بعد تین وقت کی روٹی کھانا محال ہو جاتا ہے۔

سفید پوش خاندان ضروریات زندگی سے محرومی پر احساس کمتری میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ مہنگائی کی وجہ سے مڈل کلاس ختم ہوکر غریب طبقے میں ضم ہورہی ہے۔مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام قرض کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔حکومت نے سہانے خواب دکھائے تھے، ان میں سے کوئی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا۔ مہنگائی پر کنٹرول نہ کیا گیا تو عوام کا سونامی سب کچھ بہا لے جائے گا۔

مقبول خبریں