میاں اور من موہن دونوں کو داد
29 ستمبر کوبرصغیر کے ڈیڑھ ارب انسان اس ملاقات کا انتظار کررہے تھے جس پرانکا اور انکیئندہ نسلوں کے مستقبل کا انحصارتھا۔
29 ستمبر 2013 کی شام جب برصغیر پر سورج غروب ہورہا تھا اور نیویارک میں دن کا اجالا پھیل رہا تھا، اس وقت برصغیر کے ڈیڑھ ارب انسان سانس روکے ہوئے اس مختصر سی ملاقات کے نتائج کا انتظار کررہے تھے جس پر ان کا اور ان کی آیندہ نسلوں کے مستقبل کا انحصار تھا۔
ان میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جو عوام میںسے ہیں اور امن چاہتے ہیں لیکن دونوں طرف ایک طاقتور اقلیت ان لوگوں کی بھی تھی جو ان مذاکرات کو ہر قیمت پر ناکام دیکھنا چاہتی تھی۔ پاکستانی اور ہندوستانی عوام یہ بات بہ خوبی جانتے ہیں کہ اگر خطے میں امن ہوگا تب ہی سماجی شعبوںمیں سرمایہ کاری ہوگی اور ان کی زندگیاں بہتر طور پر گزریں گی جب کہ ہندوستان اور پاکستان میں نفرت اور جنگی جنون بھڑکانے والوں کے کارخانوں کا چلتے رہنا ہی طاقتور جنگ پسند عناصر اور افراد کی دولت و ثروت اور بے پناہ اثرو رسوخ کی ضمانت ہے۔
اس روز ٹیلی ویژن چینلوں پر جنگ جیسی فضا کو دیکھتے ہوئے اور کف در دہن مجاہدوں کے گرما گرم بیانات کو سنتے ہوئے مجھے جنوبی افریقا کے رہنما اور نوبل امن انعام یافتہ ڈیسمنڈ ٹوٹو یاد آئے۔ انھوں نے کہا تھا کہ 'اگر آپ امن چاہتے ہیں تو اپنے دشمنوں سے گفتگو کریں۔' یہ بات جنوبی افریقا کے اہم رہنما ڈیسمنڈ ٹوٹو نے ذاتی تجربے کی روشنی میںکہی تھی۔یہ وہی ٹوٹو تھے جنہوں نے ایک طویل خونیں خانہ جنگی کے بعدنسلی امتیاز پر ایمان رکھنے والے لوگوں کے پتھر دل سے اپنے لوگوں کے لیے امن کشید کیا تھا۔
تاریخ کے تناظر میں دیکھیے تو پاکستان اور ہندوستان کا معاملہ جنوبی افریقا سے یکسر مختلف ہے۔ ہندوستان ایک قدیم اور عظیم تاریخ و تمدن پر ناز کرتا ہے۔ ہزار برس سے بھی زیادہ مدت سے اس عظیم الشان تہذیب و ثقافت میں مسلمان نہ صرف شریک رہے بلکہ انھوں نے اس سرمائے میں بیش بہا اضافہ کیا۔ اس طویل مدت کے درمیان جب مختلف مسلمان خاندان ہندوستان پر حکومت کررہے تھے، ایسے لوگ بھی پیدا ہوئے جنہوں نے مذہبی بنیادوں پر ہندوؤں سے نفرت کو مسلمانوں میں راسخ کرنا چاہا۔ اس راسخ العقیدگی نے مسلمان اشرافیہ کے ایک حصے میں یقیناً اپنی جڑیں گہری کیں لیکن عوام کی اکثریت کو اس نفرت سے کوئی علاقہ نہ تھا۔ ان کا مسئلہ ان کی بھوک اور عزت کی روٹی تھی۔ اسی کو سمجھتے ہوئے بابا فرید نے روٹی کو دین کا چھٹا رکن قرار دیا تھا۔
ہندو مسلم روابط کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ اگرسکھ مت کے بانی بابا گرو نانک نہ ہوتے تو حضرت خواجہ فرید الدین شکر گنج کے کلام سے ہم محروم رہتے۔ یہ بابا نانک تھے جنہوں نے ان کے بکھرے ہوئے کلام کو یکجا کیا اور پھر اسے اپنی مقدس کتاب گروگرنتھ کا حصہ قراردیا۔ یہی سبب ہے کہ سکھ، بابا فرید کے کلام کو صبح شام دہراتے ہیں اور اس کی حفاظت اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔ موجودہ ہندوستانی وزیر اعظم جناب من موہن سنگھ سکھ مت سے تعلقے رکھتے ہیں، وہ پاکستانی پنجاب میں پیدا ہوئے، بابا فرید کے کلام سے عقیدت ان کے خون میں رچی بسی ہے۔ انھوں نے بچپن میںبابا گرو نانک کا یہ شعر اپنی والدہ کی زبان سے بارہا سنا ہوگا کہ:
دیکھ توریت، انجیل توں زبورے فرقان
ایہو چارکتب ہن پڑھ کے دیکھ قرآن
سادہ اور منکسرالمزاج من موہن سنگھ اسلام سے، قرآن یا مسلمان سے نفرت بھلا کس طرح کرسکتے ہیں؟ وہ غالب کے ان عشاق میں سے ہیں کہ پچھلے دنوں جب شدید بیمار ہوکر اسپتال میںداخل ہوئے تو دیوانِ غالب ان کے سرہانے تھا اوروہ شب و روز اسی سے دل بہلاتے رہے۔ نیویارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس کے حاشیوں پر جب میاں نواز شریف اور جناب من موہن سنگھ کی رسمی ملاقات طے پائی تاکہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان موجود تلخیوں اور تناؤ کو کم کیا جاسکے تو ہمارے عقاب صفت حضرات نے ایسا شور اٹھایا جیسے من موہن سنگھ جی سے بڑا مسلمان دشمن روئے ارض پر ڈھونڈے سے نہیں ملے گا۔ اسی طرح ہندوستان میں نریندری مودی صاحب اپنے وزیر اعظم پر ٹوٹ پڑے اور ان کے بارے میں افسوسناک حد تک سخت زبان استعمال کی گئی۔
وہ مختصر ملاقات جو ناشتے پر ہونی تھی وہ دونوں طرف کے عقابوں کی عنایت سے ٹھنڈے پانی کے گلاس پر ہوئی۔ اس ملاقات سے پہلے بھی کوئی خاص توقعات نہیں تھیں، کوشش بس اتنی سی تھی کہ اس رسمی ملاقات سے وہ راستہ نکالا جائے جس پر چل کر خطے میں امن قائم کرنے کی کوششیں ثمر بار ہوسکیں۔ لیکن ٹھنڈے پانی کا یہ ایک گلاس بھی خطے میں آگ بھڑکانے اور دونوں طرف کے لوگوں کوجنگ کے جہنم میں دھکیل دینے کی کوششوں میں مصروف لوگوں کو گوارا نہ تھا۔ انھوںنے سوا گھنٹے کی اس ملاقات کو پانی پت کے میدان جنگ میں بدلنے کی آخری وقت تک سعی کی اور جب یہ ممکن نہ ہوسکا تو دونوں وزائے اعظم کو ان کے اپنے اپنے لوگوں نے مورچے پر رکھ لیا۔
میاں صاحب اور من موہن جی دونوں کو داد دینی چاہیے کہ وہ آخر وقت تک اپنے عقابوں کے دباؤ میں نہ آئے اور انھوں نے ایک مختصر سی ملاقات میں اس جمود کو توڑ دیا جو 2008 کے ممبئی حملوں کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔ تمام تصفیہ طلب معاملات پر گفتگو ہوئی۔ گزشتہ دنوں لائن آف کنٹرول پر ہندوستانی فوج کے افسران پر جو حملہ ہوا اور جس کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضایع ہوئیں اس پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے میاں صاحب نے اس واقعے کی تحقیقات اور کنٹرول لائن پر کشیدگی کم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو اپنے اپنے ملکوں کا دورہ کرنے کی دعوت دی جسے دونوںنے قبول کرلیا۔
2008 کے بعد 2013 میں یعنی 5 برس بعد صرف اتنی گفتگو بھی عقابوں کو سخت ناگوار گزری ہے اور انھوں نے اس ملاقات کو بہ اصرار ''غیر اہم'' ، ''بے نتیجہ'' اور''وقت کا زیاں'' کہنا شروع کردیا ہے ۔ ہمارے یہاں میاں صاحب پر یہ اعتراض کیا جارہا ہے کہ وہ امریکا اور ہندوستان کے دباؤمیں آگئے۔ انھیں سلامتی کونسل میں زیادہ سخت تقریر کرنی چاہیے تھی اور من موہن جی کو بتا دینا چاہیے تھا کہ ہم ان کے دانت کھٹے کرنے کی صلاحیت اور ہمت رکھتے ہیں۔
ہمارے لوگوں کو شاید وہ دن یاد نہیں جب میاں صاحب کی دعوت پر باجپائی صاحب لاہور آئے تھے۔ تمام متنازعہ معاملات پر بات بہت آگے بڑھ گئی تھی۔ لیکن اس وقت کے جنرل پرویز مشرف کی ہندوستان دشمنی نے جوکارگل ایڈونچر کیا، اس کی قیمت ہم آج تک ادا کررہے ہیں۔ جنرل صاحب ہماری جمہوریت کے لیے ''کمانڈو'' تھے لیکن امریکی صدر کے سامنے 'فدوی' ثابت ہوئے اور افغانستان میں امریکی جنگ کو پاکستان کے اندر گھسیٹ لائے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری معیشت تباہ ہوئی۔ ہمارے لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، پچاس ہزار سے زیادہ الم ناک موت کا نوالہ بنے اور دہشت گردی آج دنیا میں ہماری پہچان بن چکی ہے۔
پشاور، کوئٹہ، کراچی، لاہور اور ملک کے دوسرے شہر دہشت گردوں کا نشانہ ہیں۔ وہ ہمارے بے گناہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارتے ہیں اور پھر اس کا سہرا بھی اپنے سرباندھتے ہیں۔ کل ہی دیر پر حملہ کرکے فوجی افسران کو ہلاک کرنے کی ایک وڈیو بھی جاری کردی گئی ہے تاکہ سند رہے اور بہ وقت ضرورت کام آئے۔ ان کی پشت پناہی کرنے والے نامی گرامی سیاستدانوں کو اس طرح کی خبروں کے بعد بھی ان ''مجاہدین'' پر پیار آتا ہے اور وہ ان کی معصومیت اور مظلومیت کے مرثیے پڑھتے رہتے ہیں۔
نیویارک میں ہونے والی دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کی یہ ملاقات ایک طویل اور کٹھن سفر کی طرف پہلا قدم ہے۔ اس کے لیے میاں صاحب نے جتنی کوششیں کی ہیں اور بار بار آگے بڑھ کر ہندوستان کے ساتھ مسائل اور معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی ہے، وہ ان کی جرأت، تحمل، معاملہ فہمی اور بردباری کا ثبوت ہے۔ 12 اکتوبر 1999 سے میاں صاحب پر اوران کے خاندان پر جو گزری، وہ جن حالات اور واقعات کی بھٹی میں جھونک دیے گئے اس میں سے کندن بن کر نکلے۔ وہ صرف پاکستان کے لیے ہی نہیں، اس خطے کے لیے ایک اثاثہ ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان جن مہیب حالات سے دوچار ہے، وہاں کسی بھی قسم کی مہم جوئی کے ناقابلِ تصور نتائج نکلیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے تمام طنز و طعنوں اور دباؤ کے باوجود پاکستان کو اس گرداب سے نکالنے کے لے ہر خطرہ مول لینے کا تہیہ کرلیا ہے۔ اس نوعیت کا عزم وہی شخص کرسکتا ہے جس نے دل سے تمام خدشوں کو نکال دیا ہو۔ خطے کے امن پسند لوگوں کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔