نجی اسکولوں کی بڑھتی فیس اور انتظامیہ کی ذمے داریاں

عدالت نے اسکولوں کی فیسوں میں 5 فیصد سالانہ کے حساب سے اضافہ نہ کرنے کی پابندی بھی عائد کر دی ہے


Editorial September 19, 2019
عدالت نے اسکولوں کی فیسوں میں 5 فیصد سالانہ کے حساب سے اضافہ نہ کرنے کی پابندی بھی عائد کر دی ہے۔ فوٹو : فائل

سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں کی فیس جنوری 2017ء میں وصول کی جانے والی فیس کے مطابق ہونی چاہیے۔ سپریم کورٹ کے اس حکم سے پرائیویٹ اسکولوں کے بچوں کے والدین نے سکھ کا سانس لیا ہے کیونکہ اب مذکورہ اسکولوں کی مینجمنٹ من مرضی کی فیس اور دیگر واجبات وصول نہیں کر سکے گی۔

عدالت عظمیٰ نے اس حوالے سے تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے جس میں نجی اسکولوں کو مختلف معاملات کے لیے ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ پرائیویٹ اسکولوں کی کارکردگی کو ایک ضابطے میں لایا جا سکے۔ یہ ایسا اہم معاملہ ہے جسے حکومتوں کی طرف سے بالعموم نظر انداز ہی کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے نے پرائیویٹ اسکولوں کے کاروبار کو بزنس ڈکلیئر کر دیا ہے اور انھیں ضابطہ کار کا ماتحت بنا دیا ہے۔

عدالت نے اسکولوں کی فیسوں میں 5 فیصد سالانہ کے حساب سے اضافہ نہ کرنے کی پابندی بھی عائد کر دی ہے۔ یعنی اب اسکول مالکان اپنی من مرضی سے فیسوں میں اضافہ نہیں کر سکیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پرائیویٹ اسکول ریگولیٹری اتھارٹی سالہا سال سے چاروں صوبوں میں موجود ہے لیکن اب تک انھوں نے اس ضمن میں کوئی ٹھوس اور مثبت اقدام نہیں کیا ہے۔

بالخصوص جو بڑی تعلیمی کارپوریشنیں بن چکی ہیں ان کے ساتھ متذکرہ ریگولیٹری اتھارٹیز کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ملک میں دو کروڑ تیس لاکھ سے زیادہ بچے اسکول سے باہر ہیں حالانکہ ملکی آئین میں درج ہے کہ مفت اور لازمی تعلیم ملک کے ہر بچے کا بنیادی حق ہے لیکن یہ حق صرف دستاویزات تک ہی محدود ہے۔ پبلک ایجوکیشن سسٹم ریاست میں موجود تو ہے مگر اس تک رسائی صرف بعض مخصوص طبقوں تک محدود ہے۔

2010 میں 18ویں ترمیم کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ تعلیم کے نظام کو مرکزیت سے ہٹانے کا مینجمنٹ کا بہتری کی صورت میں نتیجہ برآمد ہو گا۔ نہ صرف مینجمنٹ بلکہ سروس ڈلیوری بھی بہتر ہو گی لیکن یہ تمام کچھ غیر ملکی امداد کے قدموں میں ڈھیر ہو گیا۔

اسکولوں اور اساتذہ کی مجموعی بہتری اور یکساں نصاب کی تشکیل پر کوئی توجہ نہ دی جا سکی۔ اسکولوں اور اساتذہ کی مجموعی بہتری اور نصاب کو وقتی ضروریات کے مطابق بنایا جانا چاہیے تھا مگر ہم دیکھ سکتے ہیں کہ غریبوں کے بچوں کے لیے اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکا۔ جب نجی اسکول سسٹم کی ترقی شروع ہوئی تو یہ کوئی حیرت کی بات نہیں تھی کیونکہ اس نظام میں لوئر مڈل کلاس اور متوسط طبقے کے بچوں کو تعلیم فراہم کرنا شروع کر دی گئی۔

یہ درست ہے کہ نجی اسکولوں کی طرف سے تعلیم کی فراہمی کی ایک مخصوصی قیمت بھی تھی جب کہ آئین ملک کے تمام بچوں کے لیے مفت تعلیم کی ضمانت فراہم کرتا ہے لیکن پاکستان کی معیشت کیونکہ اس قابل کبھی نہیں رہی کہ تمام بچوں کو یکساں تعلیم کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہی وجہ ہے کہ نجی اسکول کے ذمے د ار ایک ہی سال میں فیسوں میں 30 فیصد سے زیادہ اضافہ کرتے رہے جو کہ استحصال کی واضح صورت تھی تاہم سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کے ذریعے اس ضمن میں ایک حد مقرر کر دی ہے اب انتظامیہ کا کام ہے کہ وہ دیکھے ملک کی سب سے بڑی عدالت کے فیصلے پر کس حد تک عمل درآمد کیا جا رہا ہے اور اس کی کس قدر خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور یہ بھی کہ خلاف ورزی پر ان کے خلاف کیا کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں