کابل میں خود کش دھماکا

انتخابی ریلی اورکابل اسکوائر میں طالبان کے خودکش حملوں کے نتیجے میں48 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔


Editorial September 19, 2019
انتخابی ریلی اورکابل اسکوائر میں طالبان کے خودکش حملوں کے نتیجے میں48 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ فوٹو:فائل

افغانستان کے صوبے پروان میں انتخابی ریلی اورکابل اسکوائر میں طالبان کے خودکش حملوں کے نتیجے میں48 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

رواں ماہ افغانستان میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل امن وامان کی صورتِ حال خراب ہوجانا انتہائی تشویش ناک امر ہے، قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن پورے خطے میں امن واستحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

ایک انتخابی ریلی سے صدر اشرف غنی خطاب کر رہے تھے، وہ محفوظ رہے۔ یہ واقعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں کہ جب امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات منسوخ ہوئے صرف ایک ہفتہ ہی گزرا ہے۔ رواں ماہ چھ ستمبرکو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے ایک حملے میں ایک امریکی فوجی سمیت 11 دیگر افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد صدر ٹرمپ نے دوحہ مذاکرت منسوخ کردیے تھے اورکہا تھا کہ اگر طالبان مذاکرات کے دوران جنگ بندی نہیں کر سکتے توشاید ان میں بامقصد معاہدے کی صلاحیت ہی موجود نہیں۔

دوسری جانب طالبان کے مرکزی مذاکرات کار شیرمحمد عباس ستانکزئی نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں امریکی صدر ٹرمپ کو پیغام دیا ہے کہ اگر مستقبل میں امریکی صدر امن مذاکرات کو دوبارہ بحال کرنا چاہتے ہیں تو ان کے ''دروازے کھلے ہیں'' ہم امید کرتے ہیں کہ دوسرا فریق بھی مذاکرات سے متعلق اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گا۔

افغانستان حکومت ، طالبان اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو دوبارہ شروع ہونا چاہیے کیونکہ مذاکرات ہی افغانستان میں امن کے لیے واحد راستہ ہیں۔ پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ افغانستان میں دیرپا اور پائیدار امن قائم ہو اور خطے کے عوام ترقی وخوشحالی کی شاہراہ پرگامزن ہوسکیں۔

مقبول خبریں