آسٹریلیا اُبھرتے ہوئے ایتھلیٹس کی تلاش شروع کریگا

اکتوبرونومبر میں ریاستی بنیاد پر سلیکشن ٹرائلز کیلیے 15 سے 17 سالہ پلیئرز کی طلبی


Sports Desk October 02, 2013
سلیکشن ٹرائلز کیلیے 15سے 17 سالہ جسمانی طور پر فٹ پلیئرزکو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔فوٹو:فائل

لندن گیمز میں مایوس کن کارکردگی کے بعد آسٹریلیا اولمپک گولڈ جیتنے کیلیے اُبھرتے ہوئے ایتھلیٹس کی تلاش شروع کریگا۔

انسٹی ٹیوٹ آف اسپورٹس نے اکتوبر اور نومبر میں ریاستی بنیاد پر سلیکشن ٹرائلز کیلیے 15سے 17 سالہ جسمانی طور پر فٹ پلیئرزکو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، بہترین کھلاڑی دسمبر میں پانچ روزہ اے آئی ایس کیمپ میں شرکت کرینگے ۔ سرکاری فنڈ سے چلنے والی اکیڈمی نے ایک بیان میں کہاکہ پہلا اے آئی ایس اسپورٹس ڈرافٹ باکسنگ و جوڈو پر مشتمل اور ان ایتھلیٹس کیلیے ایک تیز عمل سلیکشن ٹرائلز مہیا کریگا جو اولمپیئن بننا چاہتے ہیں، البتہ انھیں ماضی میں اولمپک اسپورٹس کا تجربہ نہیں ہونا چاہیے، جو پلیئرز ایک اولمپک اسپورٹ سے دوسرے میں منتقل ہونے کی صلاحیت دکھا سکتے ہوں انھیں موقع دیا جائیگا۔



اے آئی ایس کا کہنا ہے کہ کیمپ کے ٹاپ گریجویٹس کو دنیا کے بہترین کوچز مزید ٹریننگ دینگے، ہم2016 ریو اور 2020 ٹوکیو گیمز کیلیے نیشنل پروگرامز پر نظر رکھے ہوئے ہیں، مستقبل کے باصلاحیت ایتھلیٹس کی تلاش مخصوص کھیلوں پر مشتمل ہوگی، اس میں پیڈلنگ یا رننگ اسپورٹس شامل ہونگے۔ روایتی طور پر آسٹریلیا اولمپکس میں زیادہ سے زیادہ کامیابیوں پر توجہ دیتا ہے لیکن وہ20 برس میں پہلی مرتبہ لندن گیمز میں کم سے کم میڈل جیت سکا تھا، اس پر میڈیا نے اسپورٹس حکام کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔

بیجنگ میں چھٹے جبکہ ایتھنز اور سڈنی میں چوتھے نمبر پر آنے کے بعد 2012 میں میڈلز چارٹ پر 10 ویں پوزیشن پر پہنچنے والے آسٹریلیا نے آئندہ2 سمر اولمپکس میں پانچویں پوزیشن پر واپسی کا ہدف مقرر کیا ہے۔ نیشنل اسپورٹس ماسٹر پلان سے ہر سال 20 ورلڈ چیمپئنز تیار کرنیکا مقصد بنایا گیا ہے۔ آسٹریلین اولمپک کمیٹی نے ابتدائی کوشش کو سراہا، ڈائریکٹر فیونا ڈی جونگ نے کہاکہ میڈل کی تعداد آسٹریلیا کیلیے اہمیت رکھتی ہے ، اپنے معاشرے میں اہم حصے کے طور پر ہم سب اسپورٹس کیساتھ بڑے ہوئے ہیں، میں سمجھتی ہوں کہ یہ ظاہر کرنا کہ ہمیں اس کی پرواہ نہیں حقیقت نہیں کیونکہ شائقین ہمارے ایتھلیٹس سے اس کی توقع رکھتے ہیں۔