پٹرولیم اور بجلی قیمتوں میں اضافے پر کراچی چیمبر نے احتجاج کا اشارہ دیدیا

پیداواری لاگت میں مسلسل اضافے کے باعث کاروباری برادری کا احتجاج اور ہڑتال کیلیے دباؤ بڑھ رہا ہے،عبداللہ ذکی


Ehtisham Mufti October 03, 2013
حکومتی اقدامات سے مہنگائی کا نہ رکنے والاسیلاب امڈ آئے گا، ڈالر کی قدر پر کنٹرول کیا جائے، ’’ایکسپریس‘‘ کو انٹرویو۔ فوٹو فائل

کراچی چیمبر آف کامرس نے 40 سال سے عائد فرسودہ لیویزختم کرنے، پاوراینڈ گیس ٹیرف میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے وزیر خزانہ کو متنبہ کیا ہے کہ وہ غیرضروری بیرونی دورے ختم کرکے معیشت کی بحالی کیلیے سنجیدہ رویہ اختیار کریں۔

کراچی چیمبر آف کامرس کے نومنتخب صدرعبداللہ ذکی نے منگل کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد ''ایکسپریس'' سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے حکومت پر واضح کیا ہے کہ پاور ٹیرف میں یکمشت 5 روپے سے زائد کا اضافہ صنعتی شعبے کے لیے ناقابل برداشت ہے جبکہ امریکی ڈالر کی بے قابو قدر اور ساتھ ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ ملکی معیشت اور عوام کو تباہی کے دہانے پر لانے کے اقدامات ہیں۔

موجودہ حکومت نے چند ماہ کے اقتدار میں وہ کچھ کردکھایا ہے جو گزشتہ 10 سال میں دو حکومتیں بھی نہ کرسکیں، مذکورہ اقدامات پر نظرثانی نہ کی گئی توآئندہ 3 ہفتوں میں مہنگائی کا نہ رکنے والا سیلاب امڈ آئے گا، امریکی ڈالر کی قدر میں حالیہ تیزرفتار اضافے کے بعد پاورگیس ٹیرف اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے آئندہ چند ہفتوں میں عوام کا کچن بجٹ 27 فیصد بڑھ جائے گا جبکہ عوام کی ماہانہ آمدنی اور تنخواہوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہوا۔



انھوں نے کہا کہ مہنگائی اور کاروباری وپیداواری لاگت میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا اورامریکی ڈالر کی قدر پر کنٹرول نہ کیا گیا تو کراچی چیمبر راست اقدام پر مجبور ہوگی کیونکہ چھوٹے تاجر و صنعت کاروں کا کراچی چیمبر پر حکومتی اقدامات کے خلاف احتجاج اور ہڑتال کے لیے دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت شہر میں امن و امان کی صورتحال اگرچہ معمولی بہتر ہوئی ہے لیکن آپریشن جاری نہ رکھنے کی صورت میں شہر کے حالات دوبارہ خرابی کی جانب گامزن ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیدنگ اور گیس کی کمی کا عذاب کئی سال سے بھگت رہے ہیں، اس کے باوجود حکومت بجلی اور پٹرول کی قیمت میں اضافہ کر کے مشکلات بڑھا رہی ہے، پہلے ہی صنعتیں بند پڑی ہیں اور ان فیصلوں کے بعد مزید صنعتوں کی بندش کی خبریں آنا شروع ہوجائیں گی۔ عبداللہ ذکی نے کہا کہ موجودہ معاشی بحران کے وقت وفاقی وزیر خزانہ کو امریکا کے بجائے ملک میں ہونا چاہیے تھا تاکہ بہتر حکمت عملی کے ساتھ ایسے فیصلے کیے جاتے جس سے عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف ملتا۔

انکا کہنا تھا کہ حکومتی دعوے کہیں بھی پورے ہوتے نظر نہیں آرہے، ڈالر مسلسل مہنگا ہورہا ہے، بجلی کی قیمت میں ہر ماہ اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور نئی حکومت آنے کے بعد پٹرول کی قیمت میں 4 ماہ کے دوران 3 مرتبہ اضافہ کیا جاچکا ہے، ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے پہلے ہی درآمدی اشیا مہنگی ہوچکی ہیں، اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافے کے بعد مقامی تیار کردہ اشیا، کھانے پینے اور عام استعمال کی اشیا کی قیمتوں کو بڑھنے سے بھی روکنا ناممکن ہوجائیگا۔

مقبول خبریں