حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائی موثربنائیں گےامریکا

آپریشن کیلیے مذاکرات جاری ہیں،امریکی شہریوںکوپاکستان کاسفرنہ کرنیکی ہدایت کی ہے،ترجمان


News Agencies August 31, 2012
آپریشن کیلیے مذاکرات جاری ہیں،امریکی شہریوں کوپاکستان کا سفرنہ کرنیکی ہدایت کی ہے،ترجمان. فوٹو اے ایف پی

LOS ANGELES: امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے کہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف امریکااور پاکستان اپنی جدوجہد کومزیدموثربنانے کی کوششوںمیںمصروف ہیں۔ پریس بریفنگ کے دوران وکٹوریہ نولینڈکاکہناتھا کہ حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے امریکی موقف تبدیل نہیں ہوا اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کیلیے پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں،انھوں نے کہا کہ سرحد پارحملے روکنے کے لیے پاکستان،افغانستان اور ایساف میں مزید تعاون کی ضرورت ہے ۔

وکٹوریہ نولینڈ کاکہنا تھاکہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکی شہریوں کو پاکستان کاسفر نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری پاکستان کے ساتھ وسیع تر انسداد دہشت گردی کے معاملات میں تعاون کے حوالے سے اہم پیش رفت نیٹو راہداری کوکھولنا ہے جس کے ذریعے دونوں ممالک اس قابل ہوسکیں گے کہ کارگو کی منتقلی بہتر انداز میں کر سکیں۔ادھرپاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکی افواج قبائلی علاقوں میں مشترکہ فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی نہیں کررہی ہیں۔

واشنگٹن میں امریکی صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگوکرتے ہوئے حکام کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی جانب سے اپنی سرزمین پرغیرملکی فوجیوں کوآنے کی اجازت نہیں۔دونوں ملکوں نے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے مختلف آپشنز پر بات چیت کی ہے۔ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن چاہتا ہے اور خاص طور ان کیخلاف کارروائی چاہتا ہے جو وزیرستان میں چھپے ہوئے ہیں تاہم امریکا سے کہہ دیاگیاہے کہ پاکستان خود فیصلہ کرے گا یہ آپریشن کب اور کیسے کیاجائے۔