لاہور کی جنت یہی ہے یہی ہے یہی ہے

سرکار نے خبر دی ہے کہ گورنر ہائوس لاہور میں روزانہ 28 ہزار 164 روپے کا دودھ استعمال ہوتا ہے۔


Abdul Qadir Hassan October 04, 2013
[email protected]

کسی مسلمان کی سب سے بڑی خواہش جنت کا حصول ہے اس طرح لاہور کے مسلمان انتہائی اور غیر معمولی حد تک خوش نصیب ہیں کہ ان کے ہاں زمین کا ایک ایسا خوبصورت ٹکڑا موجود ہے جو ایک ارضی جنت ہے۔ وہ جو ہمیں جنت کے تعارف میں بتایا گیا ہے کہ وہاں دودھ اور شہد کی نہریں ہوں گی تو آج ہم لاہوریوں کی اس جنت میں یہ سب کچھ ہے۔ نہیں معلوم قدرت نے لاہوریوں کے کس عمل کے اجر میں انھیں یہ نعمت عطا کی ہے مگر یہ ہمارے سامنے جیتی جاگتی موجود ہے اور کیوں ہے یہ راز اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہی معلوم ہے۔ ہم لاہوری صرف دودھ اور شہد کی رواں دواں نہروں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور معلوم نہیں ہم اس پر اللہ تعالیٰ کا کتنا شکر ادا کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔

سرکار نے خبر دی ہے کہ گورنر ہائوس لاہور میں روزانہ 28 ہزار 164 روپے کا دودھ استعمال ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں مزید خوشی منانے اور اس نعمت کے شکرانے سے پہلے تھوڑی سی تفصیل ملاحظہ کر لیں۔ گزشتہ ایک سال میں ایک کروڑ 28 لاکھ روپے کا 88 ہزار 771 لیٹر دودھ استعمال کیا گیا۔ ویسے دودھ کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گورنر ہائوس میں ماڈل ڈیری فارم بھی قائم ہے جس میں اعلیٰ نسل کی 25 بھینسیں اور دوسرے 15 مویشی موجود ہیں جو دو وقت دودھ دے رہے ہیں، بالکل خالص۔

یہ تو دودھ کی بات ہوئی، اب جنت کی دوسری نعمت شہد کی بات کریں تو یہاں اعلیٰ درجے کا شہد پیدا ہوتا ہے جس کے لیے مکھیاں پالنے کا بندوبست موجود ہے۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کتنا شہد پیدا ہوتا ہے لیکن کبھی ہمیں سال میں دو ایک بوتلیں اس جنتی تحفے کی ملا کرتی تھیں۔ پیپلز پارٹی آ گئی تو شہد پارٹی کی ضروریات بمشکل پوری کر سکا اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے جیسے لوگ اس جنتی شہد سے محروم رہے۔ گورنر ہائوس کا یہ خوبصورت مقام جس میں دور دور تک سبزہ زار پھیلے ہوئے ہیں اور ایک چھوٹی سی مصنوعی پہاڑی پر دو تین کمروں کا ایک سرد خانہ بنا دیا گیا ہے تا کہ گرمیوں میں سردی کا لطف بمعہ اس کی ضروریات اور لوازمات اٹھایا جا سکے۔ لاہور کا یہ گورنر ہائوس بلاشبہ زمین پر جنت کا ایک ٹکڑا ہے جس میں جنتی لوگ رہتے ہیں اور انھی لوگوں کے لیے دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں۔ معلوم نہیں یہاں رہنے والے خوش نصیبوں کی تعداد کتنی ہے اور ان جنتی لوگوں کے دن رات کس موج میں گزرتے ہیں۔ ان لوگوں کو تو جنت اسی دنیا میں مل گئی۔

مرحوم بھٹو صاحب نے سیاست کا آغاز لاہور سے کیا تھا یہاں وہ ایک بڑے ہوٹل میں قیام کرتے تھے اور ان سے اکثر ملاقات رہتی تھی۔ جن دنوں وہ عوام کے ساتھ وعدے کر رہے تھے بلکہ وعدوں کے ڈھیر لگا رہے تھے کہ رکشے والے کو رکشا ملے گا، کرایہ دار کو جہاں وہ رہتا ہے وہ مکان ملے گا۔ مزدور کارخانے کا مالک ہو گا یعنی روٹی کپڑا مکان عام ہو گا۔ ان سے ایک بار عرض کیا کہ یہ وعدے کیسے پورے ہو سکتے ہیں، جواب میں انھوں نے کہا کہ کیا آپ نے جنت دیکھی ہے، عرض کیا کہ نہیں دیکھی۔ بھٹو صاحب نے کہا کہ آپ کے ساتھ جنت کا وعدہ ہی کیا گیا ہے اور آپ اس کے حصول کے لیے بہت کچھ کرنے پر تیار رہتے ہیں۔ جنت کے حصول کے لیے جان تک دے دیتے ہیں یعنی ایک وعدے پر آپ پوری زندگی قربان کر دیتے ہیں۔ مسلمان تو وعدوں پر اعتبار کرتا ہے، میں بھی ان سے وعدے ہی کر رہا ہوں اور یہ ان پر اعتبار کر رہے ہیں۔ یہ وعدے پورے بھی ہو سکتے ہیں، روٹی کپڑے کا وعدہ ہی کیا ہے، کون سا کسی جنت کا وعدہ کیا ہے اگر ملک کی معاشی حالت اچھی ہو، معاشی انصاف ہو تو روٹی بھی ہے کپڑا بھی ہے مکان بھی ہے۔

ہر الیکشن کے موقع پر سیاستدان دل کھول کر وعدے کرتے ہیں۔ اتنے زیادہ کہ ان کے ووٹر سمجھتے ہیں کہ اگر آدھے بھی پورے ہو گئے تو بہت ہیں اور ذرا سلیقے سے کام لیا جائے اور قومی معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی جائے تو یہ سب ہو سکتا ہے لیکن ایک بات لازم ہے کہ عوام کو لیڈروں پر اعتبار ہو کہ ان کے دلوں میں عوام کا کچھ درد بھی ہے لیکن جب سب کے سامنے بے دردی کے رویے اختیار کیے جائیں، معاشی اونچ نیچ کی کوئی انتہا نہ ہو اور لوگ یہ سب اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں تو وعدے پر کون اعتبار کرتا ہے، فی الحال تو یہی خوش خبری بہت ہے کہ لاہور میں اس کے مرکزی مقام پر ایک جگہ ایسی ہے جس پر جنت کا گمان گزرتا ہے بلکہ دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں۔ ہمیں جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے وہ یہی تو ہے۔ وہ جو ایک مغل حکمران نے کشمیر دیکھ کر بے ساختہ کہا تھا کہ دنیا میں اگر کوئی جنت ہے تو یہی ہے یہی ہے یہی ہے تو سچ ہی کہا تھا۔ اگر میرے اختیار میں ہو تو میں گورنر ہائوس کے بڑے دروازے پر اس مغل بادشاہ کے کشمیر کی تعریف والے شعروں میں سے ایک شعر لکھ دوں۔

اگر فردوس بر رُوئے زمین است

ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است

مقبول خبریں