ہم تو جاتے ہیں ٹھہر جائیں ٹھہرنے والے

اس پر کافی سارے لطیفے بھی ہو چکے ہیں۔ غیر ملکی دورے کے لیے جب جہاز بھر بھر کر لوگوں کو لے جایا گیا


Saad Ulllah Jaan Baraq October 04, 2013
[email protected]

اس مرتبہ ایک نئی بات ہو گئی ہے بلکہ یوں کہئے کہ کئی نئی باتیں ہو گئیں، پشاور دھماکے پر یوں تو وزراء کبرا مشراء کے پرنٹڈ بیانات بھی بہت آئے جو پہلے سے گورنمنٹ پریس میں طبع ہو کر ہر بڑی میز کی دراز میں رکھے گئے ہیں اور کسی واقعے کے صادر ہوتے ہی ۔۔۔ صرف نام و مقام درج کرکے اخباروں کو بھیج دیے جاتے ہیں،

دل کے آئینے میں ہے تصویر یار

جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی

اس پر کافی سارے لطیفے بھی ہو چکے ہیں۔ غیر ملکی دورے کے لیے جب جہاز بھر بھر کر لوگوں کو لے جایا گیا تو یہاں ایک بڑا دھماکہ ہوا اور حسب معمول ایک ''بڑے'' کا مذمتی بیان بھی آیا، حالانکہ بے چارے بڑے کو پتہ بھی نہیں تھا کیونکہ وہ وہاں کے پُرتعیش ہوٹل میں عوام کے خون پسینے کی کمائی پر ''عوام کی خدمت'' میں لگے ہوئے تھے۔ غیر ملکی ادارے تو بڑے تیز ہوتے ہیں اس لیے ایک رپورٹر ان کے پاس بھی پہنچ گیا اور سوال داغا کہ آپ کے خیال میں اس دھماکے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، بڑے صاحب حیرت سے بولے ، کیوں کیا ہوٹل میں دھماکہ ہو گیا۔ رپورٹر بولا ، نہیں میں اس دھماکے کی بات کر رہا ہوں جو آپ کے شہر میں ہوا ہے اور جس پر آپ کا مذمتی بیان آیا ہے۔ آدمی اتنا نادان بھی نہیں تھا، سمجھ گیا اور پھر فرفر مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے لگا جس میں بے شمار ''گے'' موجود تھے۔

پھر دیکھئے انداز گل افشانیٔ گفتار

رکھ دے کوئی پیمانہ ''گے گے'' مرے آگے

اس مرتبہ بھی وہ سارے بیانات تو آ گئے ہیں لیکن کچھ باتیں نئی بھی ہو گئی ہیں، یا شاید ہمارے لیے نئی ہیں، مطلب یہ کہ کم از کم ''پرنٹڈ بیانات'' نہیں ہیں، ایک تو یہ کہ قومی اسمبلی کے ارکان نے متفقہ طور پر قرار داد مذمت منظور کر لی ہے نہ صرف یہ بلکہ فاضل منتخب نمایندوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں بھی باندھیں، اب کیا کیا جائے کہ کسی شاعر نے کوئی نیا شعر کہا ہی نہیں، اس لیے وہی پرانا گھسا پٹا اور بوڑھا شعر ہی سنائیں گے۔

کودا ترے گھر میں کوئی یوں دھم سے نہ ہو گا

جو کام کیا ہم نے وہ رستم سے نہ ہو گا

کون کہتا ہے کہ منتخب نمایندے صرف فنڈز فنڈز اور حقوق حقوق اور مراعات مراعات کھیلتے ہیں اور قومی اسمبلی کے اندر علاؤالدین خلجی کے زمانے کے نرخوں پر کھانے ٹھونستے ہیں یا مختلف اسٹینڈنگ سلیپنگ اور ایٹنگ کمیٹیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ ہم نے تو جب اس متفقہ مذمتی قرار داد اور سیاہ پٹیوں کے بارے میں سنا تو بے اختیار منہ سے ''عش عش'' نکلنا شروع ہوا اور اس وقت تک جاری رہا جب تک غش نہیں کھا گئے، ایں کار از تو آید و مرداں چین کنند ۔۔۔ ایسی چنگاریاں بھی یارب اپنے خاکستر میں تھیں۔

جراحت تحفہ، الماس ارمغان، داغ جگر ہدیہ

مبارک باد اسد ''غم خوارِ'' جانِ درد مند آیا

ہمیں یقین ہے کہ اس متفقہ مذمتی بیان کے بعد شر پسند عناصر یا بھاگ کر برازیل کے جنگلوں یا صحرائے اعظم کی جانب نکل گئے ہوں گے یا ڈرتے لرزتے کانپتے ہانپتے اپنا بوریا بستر سمیٹ رہے ہوں گے، کم از کم آبادیوں سے نکل ہی گئے ہوں گے۔

کچھ ایسی بات اُڑی ہے ہمارے گاؤں میں

کہ چھپتے پھرتے ہیں ہم بیریوں کی چھاؤں میں

دوسری نئی بات بلکہ نئی نویلی، نئی نکور بات یہ ہوئی ہے کہ کچھ بڑوں نے دو ٹوک، ببانگ دہل اور علی الاعلان کہا ہے کہ دھماکے کے مجرم سزا سے ہر گز بچ نہیں پائیں گے۔ یہ دراصل وہی بات ہے لیکن نئے لباس میں آ گئی ہے کہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیں گے، لیکن اس مرتبہ ''دم لیں گے'' کا دوپٹہ اس لیے نہیں اوڑھا گیا ہے کہ اور بھی بہت سارے مقامات پر یہ دوپٹہ لہرا رہا ہے، اب اتنا دم کس میں ہو گا کہ ہر جگہ ''دم ہی دم'' کا دُم چھلہ استعمال کیا جائے جب کہ ایک اطلاع کے مطابق دوپٹہ کہیں موجود ہی نہیں ہے اور دوپٹے والی رو رو کر گا رہی ہے یا گا گا کر رو رہی ہے کہ

ان ہی لوگوں نے، ان ہی لوگوں نے

بجروا میں چھینا دوپٹہ میرا

بہرحال بات ایک ہی ہے کیفر کردار تک پہنچانا یا سزا دینا لیکن باوثوق ذرایع سے پتہ چلا ہے کہ یہ تبدیلی اس لیے آئی ہے کہ وہ ''کیفر کردار'' جس کے چرچے کبھی چار دانگ عالم میں ہوا کرتے تھے کہیں غائب غلہ ہو گیا ہے۔ اگلے زمانوں میں حکومت کے پاس ''کیفر کردار'' بہت ڈھیر سارا ہوا کرتا تھا اور چھابڑی فروشوں سے لے کر نان بائیوں تک کو کیفرکردار تک پہنچایا جاتا تھا، کیفر کردار اتنا آسانی سے دستیاب تھا کہ بچے اکثر گلی کوچوں میں اس سے کھیلتے تھے، لیکن پھر نہ جانے کیا ہوا کہ کیفر کردار کی کمی واقع ہونے لگی، اصل وجہ کسی کو بھی معلوم نہیں ہے،کوئی کہتا ہے کہ کیفر کردار کے کھیتوں کو ''امریکن سنڈی'' لگ گئی، کسی کا کہنا ہے کہ ''فنڈز'' کا سیلاب آ گیا اور سارے کیفر کردار کو بہا کر نہ جانے کہاں لے گیا بہرحال وجہ کچھ بھی ہو کیفر کردار کی کمی آہستہ آہستہ قحط میں بدل گئی اور پھر اس کا کہیں نام و نشان تک باقی نہیں رہا،

وہ جو بیچتے تھے دوائے دل

وہ دکان اپنی بڑھا گئے

شدآں کہ اہل نظر در کنارہ رفتند

ہزار گو نہ سخن در دہان و لب خاموش

ایک ہمارے محقق دوست ڈاکٹر پروفیسر علامہ عین غین نون غنہ جو پشتو اکیڈمی سے سند یافتہ ہیں، ان کی تحقیق یہ ہے کہ کیفر کردار کی اس قحط کے پیچھے ان طالبان القاعدگان اور خودکشان کا ہاتھ ہے کیونکہ یہ لوگ اپنا کیفر کردار خود اپنے ساتھ لیے پھرنے لگے، سوچنے والی بات ہے کہ جب ہر کوئی اپنا کھانا اپنے ساتھ لائے تو ہوٹل کے کھانے کوئی کیا خاک کھائے گا، یہ کیفرکردار دشمن لوگ اپنا اپنا کیفرکردار لے کر آتے ہیں اور خود کو اس تک پہنچا کر غائب غلہ ہو جاتے ہیں اگرچہ کبھی کبھی اپنا سر لے جانا بھول جاتے ہیں یا جسم کا کوئی دوسرا عضو موقع واردات پر رہ جاتا ہے لیکن کیفر کردار تک تو پہنچ جاتے ہیں، اس بات کو آپ یوں بھی سمجھ سکتے ہیں، حکومت کا اصلی کیفر کردار اصلی نوٹ کی طرح تھا اور یہ دھماکہ کرنے والے اپنا مصنوعی کیفرکردار چلانے لگے تھے، ظاہر ہے کہ وہی بات ہو گئی کہ

ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی

اب آبروئے شیوۂ اہل نظر گئی

چنانچہ نئے بیانات میں اب کیفر کردار کا ذکر نہیں ہوتا بلکہ سزا کا لفظ استعمال ہوتا ہے جیسا کہ اس تازہ ترین بیان سے ہے کہ دھماکہ کرنے والے سزا سے نہیں بچ سکیں گے، اس میں دراصل تھوڑا سا فلسفہ، تھوڑی سی منطق اور بہت ساری سیاست چھپی ہوئی ہے ورنہ جنہوں نے دھماکہ کیا ہے وہ تو پہلے ہی سزا پا چکے ہیں، اب اور کون ہے جو سزا سے نہیں بچے سکے گا، ہاں البتہ روز حشر کی بات اور ہے،

بچتے نہیں مواخذۂ روز حشر سے

قاتل اگر رقیب ہے تو تم گواہ ہو

بہرحال معاملہ یہاں نہ سزا کا ہے نہ مجرموں کا ہے نہ کیفر کردار کا ہے بلکہ دھماکوں کا بھی نہیں اور اس میں اجڑنے والے خاندانوں کا بھی نہیں ہے بلکہ صرف اور صرف ''شرعی مشاعرے'' کا ہے جس میں ایک سے بڑھ کر ایک غزلیں عرف بیانات جاری کیے جا رہے ہیں اور ان پر داد کے دونگرے وصول کیے جا رہے ہیں۔ ہر ایک کو اگر فکر ہے تو مشاعرہ لوٹنے کا ہے۔

غیر ہوں ناشاد کیوں کیسی کہی

چاہتا ہوں داد کیوں کیسی کہی

تو بھی اے ناصح کسی پر جان دے

ہاتھ لا استاد کیوں کیسی کہی

جہاں تک مرنے والوں خانماں برباد ہونے والوں اور عمر بھر کا رونا نصیب ہونے والوں کا تعلق ہے تو جلتی وہ زمین ہے جس پر آگ جل رہی ہو، تاپنے والوں کا کیا ہے تاپ کر چلے جائیں گے۔

راہ دیکھیں گے نہ دنیا سے گزرنے والے

ہم تو جاتے ہیں ٹھہر جائیں ٹھہرنے والے