پاک بھارت براہ راست تجارت میں رکاوٹیں مہنگائی کاباعث قرار

امیدہے باہمی تعلقات کونئی سمت ملے گی،بھارتی وفد،ایس ایم منیرکے عصرانے میں شرکت


Business Reporter October 05, 2013
بھارتی اورپاکستانی عوام مشترکہ کلچر، ثقافت،کھانے کی مماثلت رکھتے ہیں جو دونوں ممالک کے باعث فخر ہے۔ فوٹو: فائل

بھارتی تجارتی وفد کے سربراہ ارون کمار سکسینانے کہا ہے کہ پاکستانی ماربل، لیدر مصنوعات، ملبوسات، ٹیکسٹائل اور مصالحے جات کی بھارت میں بڑی کھپت موجود ہے۔

بھارتی اورپاکستانی عوام مشترکہ کلچر، ثقافت،کھانے کی مماثلت رکھتے ہیں جو دونوں ممالک کے باعث فخر ہے۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ روز انڈوپاک چیمبر آف کامرس کے صدر ایس ایم منیر کی جانب سے مقامی ہوٹل میں دیے گئے عصرانے کے موقع پرکہی، اس موقع پر دہلی کے پاکستانی ہائی کمیشن کے نعیم انور، ترکی میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹریوسف جنید نے بھی اظہارخیال کیا جبکہ کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین، ڈاکٹر مرزا اختیاربیگ،ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر گلزار فیروز، سرداریاسین ملک، خالدتواب،عبدالسمیع خان ،امجد رفیع اور دیگربھی موجودتھے۔



ارون کمارسکسینا نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین چند مصنوعات کی تجارت پر پابندی کے باعث وہی مصنوعات سنگاپور، دبئی اور دیگر ممالک کے ذریعے بھارت اورپاکستان پہنچ جاتی ہیں جس سے دونوں ممالک کی عوام متاثر ہوتی ہے کیونکہ برائے راست تجارتی لین دین میں رکاوٹوں سے مصنوعات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ رونما ہوجاتاہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وفد نے ایکسپوپاکستان میںشرکت کرتے ہوئے پاک بھارت مشترکہ تجارت میں اپنی دلچسپی کااظہارکیا ہے اور امید ہے کہ پاک بھارت تعلقات نئی سمت کی جانب گامزن ہونگے۔

اس موقع پر تقریب کے میزبان ایس ایم منیر نے کہا کہ پاکستان اوربھارت کے مابین بینکنگ چینل بہت اہمیت کاحامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر 65سال میں بھی پاک بھارت تعلقات بحال نہ ہوسکے تو جنوبی ایشیا میں غربت کاخاتمہ کیسے ممکن بنایا جا سکے گا۔ ایس ایم منیر نے کہا کہ پاکستان اوربھارت کے مابین واہگہ باڈر، قصور، مونا باؤ کے ذریعے بھی تجارتی لین دین کی شروعات کی جائے۔