2022 ورلڈکپ تاریخوں میں تبدیلی کا فیصلہ آئندہ سال ہوگا

جون، جولائی کے علاوہ منعقد کرانے کیلیے مشاورتی عمل کا آغاز کردیا


AFP/Sports Desk October 05, 2013
، قطر میں مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند نہیں رکھیں گے، صدر فیفا۔ فوٹو: فائل

KARACHI: فیفا نے قطر میں شیڈول2022 ورلڈ کپ کو روایتی مہینوں جون، جولائی کے علاوہ منعقد کرانے کیلیے مشاورتی عمل کا آغاز کردیا۔

صدر سیپ بلاٹر کا کہنا ہے کہ فیصلہ آئندہ برس سے قبل نہیں کیا جائے گا، انھوں نے ٹویٹر پر لکھاکہ ایگزیکٹیو کمیٹی نے اہم اسٹیک ہولڈرز کے مابین مشاورتی عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کوئی بھی فیصلہ 2014 ورلڈ کپ سے قبل نہیں کیا جائے گا۔ قطر کو دسمبر2010 میں میزبانی اس فیصلے کی بنیاد پر دی گئی تھی کہ وہ جون، جولائی میں شدید گرمیوں سے بچاؤ کیلیے ایئرکنڈیشنڈ اسٹیڈیمز میں مقابلوں کا انعقاد کرے گا، یقین دہانیوں کے باوجود کہ اس کا منصوبہ قابل عمل ہے ریگستانی گرمی کی شدت میں پلیئرز اور مداحوں کی صحت کے بارے میں وسیع پیمانے پر خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ بلاٹر نے جولائی میں کہا تھا کہ وہ ایونٹ کو سال کے زیادہ ٹھنڈے موسم میں منتقل کرنے کی تجویز دیں گے،انھیں توقع ہے کہ ایگزیکٹیو کمیٹی ان کا ساتھ دے گی۔



یورپیئن فٹبال کی گورننگ باڈی یوئیفا نے گذشتہ ماہ ورلڈ کپ کی منتقلی کیلیے رضامندی ظاہر کی تھی، تمام 54 رکن ایسوسی ایشنز نے اس تجویز کی حمایت کردی تھی۔ البتہ دیگر اسٹیک ہولڈرز سے بھی مشاورت کے مطالبات کیے جارہے ہیں، ان میں یورپیئن کلب ایسوسی ایشن بھی شامل ہے جس کے ارکان کی تعداد 200 اور اس میں دنیا کے امیرترین اور انتہائی طاقتور کلبز موجود ہیں۔ ای سی اے پریذیڈنٹ کارل ہینز رمینیگ نے ستمبر میں کہا تھا کہ مقابلے ابھی 9 برس دور ہیں اس لیے فیصلے میں جلد بازی کی ضرورت نہیں۔ کلبز روایتی جون، جولائی مدت کے علاوہ ورلڈ کپ کی میزبانی پر مالی تصادم پر خوفزدہ ہیں،اس سے انھیں ڈومیسٹک لیگز کو دوبارہ شیڈول کرنا ہوگا۔

رمینیگ نے تجویز دی کہ اپریل2022 ایک متبادل ماہ ثابت ہوسکے گا، جنوری، فروری اور نومبر ، دسمبر بھی ممکنات میں شامل ہیں، سال کے ابتدائی2 ماہ میں ونٹر اولمپکس بھی منعقد ہورہے ہیں۔ بلاٹر نے کہاکہ فیفا قطر میں مزدوروں کے حقوق کیخلاف ورزیوں پر آنکھیں بند نہیں رکھے گی، میری ہمدردیاں متاثرین کے ساتھ ہیں اور میں کسی بھی ملک میں سائٹس کی تیاری پر ہلاک ہونے والے مزدوروں کے ساتھ افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔ انھوں نے مزید کہاکہ ہم یہ بھی کہنا چاہیں گے کہ مزدوروں کے حقوق کی ذمہ داری قطر اور تعمیراتی کمپنیوں پر عائد ہے، وہاں کئی یورپیئن کمپنیاں کام کررہی اور یہ سب ورکرز کی حالت کی ذمہ دار ہیں، یہ فیفا کی ذمہ داری نہیں لیکن ہم خاموش نہیں رہ سکتے، اس پر صرف قطر ہی عملدرآمد کرسکتا ہے اور انھوں نے ایسا کرنے کی تصدیق کی۔ فیفا نے تاخیر کے ساتھ اس مسئلے کو زیورخ میں ہونے والی دو روزہ ایگزیکٹیوکمیٹی میٹنگ کے ایجنڈے میں شامل بھی کیا۔