ہمارا وطن عزیز بیچئے نہیں
ہماری حکومت ہمارے قریب قریب تمام قابل ذکر اہم کاروباری اور پیداواری اداروں کو فروخت کر رہی ہے۔
ہمارے اعمال کی بے رحم تاریخ اپنے آپ کو ایک بار پھر بڑی ہی بدصورتی کے ساتھ دہرانے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور اللہ جانے اس بار یہ تاریخ ہمارے ساتھ کیا مذاق کرے گی، کیا گل کھلائے گی اور ہمیں بربادی کے کس گڑھے میں پھینک دے گی۔ ہماری حکومت ہمارے قریب قریب تمام قابل ذکر اہم کاروباری اور پیداواری اداروں کو فروخت کر رہی ہے یا ان کے اتنے حصے فروخت کر رہی ہے جن کی فروخت کے بعد ان اداروں کا کنٹرول ان خریداروں کے پاس چلا جائے گا اور وہ برائے نام سرکاری ادارے رہ جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن اداروں کو حکومت چلا نہیں سکتی انھیں پھر سے بحال نہیں کرسکتی کیونکہ مسلسل سرکاری مداخلت نے ان کامیاب قومی اداروں کو اپاہج کر دیا ہے۔
حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ یہ ادارے اب بے کار ہو چکے ہیں اور ان کو کارآمد بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ انھیں کامیاب کاروباری لوگوں کے ہاتھ فروخت کردیا جائے جو عوام کے ٹیکسوں سے قائم کردہ اداروں پر عیش کریں۔ اس طرح سوائے زراعت کے قومی پیداوار اور آمدنی کے قریب قریب تمام ادارے ختم کر دیے جائیں گے۔ یعنی حکومت پاکستان ان سے دستبردار ہو جائے گی۔ حکومت کی ناکامی کی یہ ایک بڑی ہی ڈرائونی قومی پسپائی ہو گی۔ اس سے پہلے بھی حکومت کم و بیش ایسے ہی مالیاتی حادثے سے دوچار ہو چکی ہے لیکن اس بار تو حکومت خود کاروباری لوگوں کی ہے پھر بھی نجات کا راستہ نہیں مل رہا۔
فوجی حکمران جنرل محمد ایوب خان بعد میں فیلڈ مارشل پاکستان کی لزرتی ڈولتی بیمار سیاسی قیادت کو برطرف کر کے 1958ء میں ملک کے حکمران بن گئے۔ سیاہ و سفید کے مالک۔ وہ ایک غیر کاروباری شخص تھے لیکن ملک کی معاشی ترقی جیسے ان کا خواب تھا۔ انھیں نواب امیر محمد خان آف کالا باغ جیسا دیانت دار اور ماہر ساتھی بھی مل گیا۔ چنانچہ ایوب خان نے صنعتی میدان سنبھال لیا اور نواب صاحب نے زراعت۔ زراعت نواب صاحب کا آبائی پیشہ اور شوق تھا بلکہ انھیں زراعت سے عشق تھا۔ ان دونوں کی کامیاب مشترکہ جدوجہد ہماری تاریخ کا حصہ اور یادگار دور ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہم مشرق بعید تک کے ترقی پذیر ملکوں کے لیے ایک مثال تھے اور یہ ممالک اپنے ماہرین کو ہماری ترقی کے مطالعے کے لیے پاکستان بھجوایا کرتے تھے۔ ہم اپنے سب پڑوسی ملکوں میں سر فہرست تھے۔ قومی ترقی میں ہمارا کوئی مقابل نہ تھا۔
ایوب خان کے دور حکومت میں ہم صنعت و زراعت کی ترقی کے ایک سنہری دور سے گزر رہے تھے لیکن بعض بڑی طاقتوں کو ہماری یہ ترقی ناپسند تھی بلکہ ان کے لیے خطرناک تھی۔ پاکستان کے خلاف اس سازش کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں۔ اس وقت کے پاپولر سیاسی رہنما جناب ذوالفقار علی بھٹو نے مشرقی پاکستان کے مولانا بھاشانی کے ساتھ مل کر ایوب خان کے خلاف تحریک شروع کی۔ مولانا بھاشانی احتجاجی سیاست میں اپنی مثال آپ تھے اور ایک جدید سیاستدان کے تمام اوصاف رکھتے تھے۔ اس تحریک کے آخر میں ایک گول میز کانفرنس منعقد ہوئی جسے میں نے ایک رپورٹر کی حیثیت سے رپورٹ کیا۔ ہماری سیاسی قیادت ایوب خان کے خلاف ہو گئی تھی تا آنکہ ایوب خان نے اقتدار چھوڑنے کا شریفانہ اعلان کر دیا، ایوب خان کی جماعت کنونشن لیگ کے لیڈر ان سے ملے اور کہا آپ اجازت دیں ہم اس تحریک کا مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن ایوب خان نے جواب دیا کہ جب فوج کا سپہ سالار کہہ دیتا ہے کہ نہیں (No) تو پھر ''نہیں'' ہی ہوتی ہے۔ اس وقت جنرل یحییٰ خان فوج کے سربراہ تھے جنھوں نے ایوب خان کو گھر بٹھا دیا تھا۔
اس وقت جو موضوع ہے وہ بھٹو صاحب کے اقتدار کے بعد سے شروع ہوتا ہے۔ انھوں نے پوری قومی صنعت قومیا لی، ناقابل ذکر معمولی صنعتیں بھی قومیا لی گئیں۔ یعنی ملک کی صنعتی ترقی کی رفتار بالکل ہی روک دی گئی۔ کارخانے افسروں کے پاس چلے گئے، یوں کہیں کہ بند ہو گئے۔ کہا تو بہت کچھ جا سکتا ہے مگر اب چھوڑیں اور صرف اتنا سمجھیں کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک تھا جو اپنی مثالی ترقی کو ختم کرنے پر تلا ہوا تھا۔ ہمارے وزیر خزانہ جناب ڈاکٹر مبشر حسن تھے جنھیں بھٹو صاحب مذاقاً انجینئر وزیر خزانہ کہتے تھے کیونکہ وہ اصل میں انجینئر تھے۔ وہ معاشیات سے ناواقف تھے۔ جب ان سے عرض کیا جاتا کہ آپ کیا کر رہے ہیں تو جواب ملتا سوشلسٹ ملکوں میں یہی پالیسی رائج ہے جو کامیاب ہے۔ اسلامی سوشلزم ان کا نعرہ تھا۔ لیکن پاکستان پر ایسی آفت گری اور ایسی بلائیں نازل ہوئیں کہ ملک نہ جانے کن پستیوں میں گر گیا۔ لیکن اس وقت جو کچھ بھی تھا وہ سب ملک کی ملکیت تھا اور قومیانے کے بعد پوری قوم اس صنعت کی مالک بن گئی اور ایک ایسی صنعت جو آخری ہچکیاں لے رہی تھی اور جس کا ہونا نہ ہونا برابر تھا۔
اب پاکستان کی صنعت کو قومیایا نہیں بیچا جا رہا ہے۔ قومیانے سے صنعت ہمارے پاس رہی تھی۔ ہم نے اپنے جن اداروں کو خون پسینے سے تعمیر کیا تھا، وہ اب کسی سیٹھ کے پاس جا رہے ہیں۔ بہت سارے سیٹھوں کے پاس جن کا دین و ایمان روپیہ ہے اور پاکستان ان کے لیے ایک دکان ہے۔ ہم کمزور اور ملک کے محکوم عوام صرف اتنا عرض کر سکتے ہیں کہ ہم عام لوگ کہاں جائیں گے۔ مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے اور اب زندگی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ یہ قوم اس سلوک کی حقدار نہیں تھی۔ ابھی کل ہی تو اس نے میاں صاحبان کو بھر پور اعتماد دیا ہے اس کا یہ بدلہ وہ بھی فوری طور پر مناسب نہیں ہے۔ گزارش صرف اتنی ہے کہ ملک کو بیچئے نہیں اپنے پاس یعنی قوم کے پاس رکھئے اور بیمار صنعتوں کا علاج کیجیے البتہ کوئی اور پروگرام ہے تو پھر آپ کی مرضی۔ اختیار و اقتدار آپ کے پاس ہے لیکن عرض یہ ہے کہ بیمار صنعتوں کا علاج کیجیے انھیں موت کی نیند نہ سلایے۔ ہمارا وطن عزیز بیچئے نہیں۔