آپریشن کے باوجود لوٹ مار اور بھتہ خوری میں کمی نہیں آئی صنعتکار

صنعتی پلاٹس کی قیمتیں50فیصد تک کم ہوچکی ہیں، وزیراعلیٰ سندھ کی چلتی نہیں یا پھر وہ تاجروں کو ’’گولی ‘‘دیتے ہیں، تاجر


Business Reporter October 06, 2013
صنعتی علاقوں کی فیکٹریوں سے لوٹا جانے والا مال لوٹنے سے پہلے ہی فروخت کردیا جاتا ہے، صنعتکار

PESHAWAR: سائٹ کے صنعتکاروں نے انکشاف کیا ہے کہ صنعتی علاقوں کی فیکٹریوں سے لوٹا جانے والا مال لوٹنے سے پہلے ہی فروخت کردیا جاتا ہے لوٹ مار کرنے والے مسلح گروہ فیکٹریوں میں گھس کر مخصوص قسم کا کپڑا یا تیار مال ڈھونڈ کر لے جاتے ہیں لوٹ مار کرنے والے فیکٹریوں میں گھس کر عملے اور انتظامیہ کو ایک جگہ بند کرکے فیکٹری سے مخصوص مقدار میں تیار مال لوٹ لیتے ہیں اور لوٹ مار کے دوران تیار مال بالخصوص کپڑے کی لمبائی اور قسم کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاکو کسی خاص آررڈ کی تکمیل کے لیے ڈکیتی کررہے ہیں، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سائٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین یونس ایم بشیر نے کہا کہ کراچی میں طریقہ کار کوئی بھی ہو تاجر برادری کو ہر صورت امن کا قیام اور جرائم کا خاتمہ درکار ہے، انھوں نے کہا کہ کراچی میں جاری آپریشن کے باوجود سائٹ کے صنعتی علاقے میں تجارتی سامان کی لوٹ مار، فیکٹریوں میں دن دہاڑے ڈاکہ زنی، اغوا برائے تاوان کی وارداتیں اور بھتے کی پرچیاں فون پر دھمکیاں ملنا معمول بن چکا ہے جرائم کی وارداتیں ایک بار پھر عروج پر پہنچ چکی ہیں ڈاکوؤں کے گروہ دن دہاڑے فیکٹریوں میں داخل ہوکر تیار مال اٹھاکر لے جاتے ہیں اسی طرح راستے میں سے خام اور تیار مال سے لدی ہوئی گاڑیاں چھننے کے واقعات بھی معمول بن چکے ہیں فیکٹریوں سے نکلنے والی گاڑیاں راستے میں ڈرائیور سمیت اغوا کرلی جاتی ہیں۔

جو نصف گھنٹے بعد مخصوص علاقوں میں خالی کھڑی ملتی ہیں سائٹ کی حدود میں لگنے والے دو تھانوں میں نفری کی انتہائی قلت ہے، سائٹ کے صنعتکاروں نے 27مقامات پر پکٹس قائم کی تھیں، نفری نہ ہونے کی وجہ سے یہ پکٹس خالی پڑی ہیں اسی طرح آمدورفت کے بنیادی راستوں پر بھی پولیس تعینات نہیں ہے پولیس کی موبائلوں کی حالت اتنی خراب ہے کہ سائیکل سوار مجرموں کا بھی پیچھا نہیں کرسکتیں۔



تاجروں نے صبح 9سے 11اور شام 5سے 8بجے کے دوران سائٹ کے تین بنیادی خارجی داخلی راستوں پر پولیس کے دستے تعینات کرنے اضافی نفری، کمیونی کیشن آلات اور موبائل گاڑیوں کی تعداد بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے مشیر اور سندھ سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین زبیر موتی والا نے کہا کہ سائٹ کے صنعتی علاقے میں جرائم کی وارداتوں کے پیش نظر صنعتی پلاٹس کی قیمتیں50فیصد تک کم ہوچکی ہیں اورعلاقے سے فیکٹریاں اور صنعتیں دوسرے علاقوں اور شہروں میں منتقل ہورہی ہیں، تاجر رہنما سراج قاسم تیلی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ تاجروں کی بہت عزت کرتے ہیں۔

لیکن سیکیورٹی کے معاملات میں یاتو ان کی چلتی نہیں ہے یا پھر وہ تاجروں کو گولی دیتے رہے ہیں صنعتی علاقے سمیت اولڈ سٹی ایریا میں کئی مرتبہ اضافی نفری تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا تاہم کچھ دنوں بعد ہی نفری واپس لے لی جاتی ہے،اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق صدر کراچی چیمبر ہارون فاروقی نے شہر میں سیاسی جماعتوں کے پرچم اتارنے، سائٹ کے داخلی خارجی راستوں پر سیکیورٹی کی فراہمی اور ٹریفک کی راہ میں رکاوٹیں دور کرنے کا مطالبہ کیا ، سائٹ ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے دفترمیں پولیس کے اعلیٰ حکام کی آمد کے موقع پر امن و امان کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کے دوران سائٹ کے صنعتکاروں نے ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہد حیات کو کراچی میں جاری آپریشن کی مکمل حمایت اور صنعتکاروں کی جانب سے ہرممکن تعاون کا یقین دلایا ۔