عراق میں حکومت مخالف مظاہرے

مظاہرین پر سیکیورٹی فورسز کے حملوں کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد مارے گئے جب کہ درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔


Editorial October 04, 2019
مظاہرین پر سیکیورٹی فورسز کے حملوں کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد مارے گئے جب کہ درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا

عراقی دارالحکومت بغداد میں دو دن سے ہنگامے اور احتجاجی مظاہرے جاری ہیں جنھیں منتشر کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز مظاہرین پر گولیاں برسا رہی ہیں حالانکہ مہذب ملکوں میں ہجوم پر اصلی گولیاں نہیں برسائی جاتیں بلکہ علامتی طور پر ربڑ کی گولیاں چلائی جاتی ہیں تاکہ کسی کی ہلاکت نہ ہو۔ مظاہرین پر اشک آور گیس بھی پھینکی جا رہی ہے۔ عراقی مظاہرین بیروزگاری اور مہنگائی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

مظاہرین پر سیکیورٹی فورسز کے حملوں کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد مارے گئے جب کہ درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ مظاہرین ملک میں کرپشن، بدعنوانی، مہنگائی اور بے روز گاری کے خلاف زبردست احتجاج کر رہے ہیں۔

مظاہرین کی ہلاکتیں دارالحکومت بغداد کے علاوہ نواحی شہر نصیریہ میں بھی ہوئیں۔ یہاں اس بات کی یاد دہانی ضروری ہے کہ بغداد شہر ایک قدیم تاریخی حیثیت کا حامل شہر ہے جس کی منظر کشی ہزاروں سال پرانے الف لیلیٰ کے قصوں میں نہایت صراحت کے ساتھ بڑے دل نشیں انداز میں کی گئی ہے۔

یہ وہ شہر ہے جس کا ایک خلیفہ ہارون رشید تھا۔ بغداد میں احتجاجی مظاہرین پر سیکیورٹی فورسز کے حملوں کی تصاویر بھی انگریزی زبان کے معاصر میں شایع ہوئی ہیں جن سے حالات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔عراق پر امریکی حملے کے بعد ملک کی معیشت بیٹھ چکی ہے۔ملک کا انفرااسٹرکچرٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

عراق میں فرقہ واریت، نسلی تفاوت میں اس قدر کشیدگی ہے کہ وہاں آئے روز خودکش حملے اور بم دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔ ویسے تو عراق میں حکومت قائم ہے لیکن جتنی تباہی ہو چکی ہے، اسے تعمیر وترقی میں تبدیل کرنا، ایک دو برس کا کام نہیں ہے بلکہ اس کے لیے برسوں درکار ہیں۔ صدام حسین کے دور آمریت میں عراق ایک خوشحال ملک تھا۔

یہاں دوسرے ملکوں کے لوگ روزگار کے لیے آتے تھے، انفرااسٹرکچر شاندار تھا، روزگار کی فراوانی تھیں لیکن صدام حسین اور اس کے ساتھیوں کی سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے ملک کے مختلف طبقات میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا۔

حکومت مخالف سیاسی قوتوں پر سختی کی گئی، کئی رہنماؤں کو قتل کیا گیا۔ ان عوامل نے پورے ملک میں خوف اور بے چینی پیدا کر دی۔ پھر ایران عراق جنگ نے معیشت پر برے اثرات مرتب کیے۔ صدام حسین کا کویت پر حملہ بھی ایک بھیانک غلطی ثابت ہوئی۔

اس غلطی کا خمیازہ صدام حیسن، ان کے ساتھیوں کو ہی نہیں بلکہ عراقی عوام کو بھی بھگتنا پڑا۔ امریکا نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ سارا ملک تباہ ہو گیا اور بھی یہ ملک بدترین خانہ جنگی کا شکار ہو گیا۔ اب عراق کسی حد تک سنبھل گیا ہے لیکن نقصان اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ ترقی کی منزل تک پہنچنے کے لیے کئی دہائیاں درکار ہیں۔

ملک میں اشیاء ضروریہ کی شدید قلت ہے اور یہ مہنگی بھی بہت ہیں۔ روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ سرمایہ کار ملک سے فرار ہو چکا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار ایسے حالات میں سرمایہ کاری پر تیار نہیں۔ اس صورتحال نے عوام کو پریشان کر دیا ہے۔ غربت بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اسی لیے لوگ تنگ آ کر سڑکوں پر آگئے ہیں۔

مقبول خبریں