معاشی معاملات پر اتفاق رائے‘ خوش آیند

بزنس کمیونٹی کا اعتماد قومی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار کا حامل ہے۔


Editorial October 05, 2019
بزنس کمیونٹی کا اعتماد قومی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار کا حامل ہے۔ فوٹو: فائل

یہ قابل قدر پیش رفت ہے کہ معیشت کی بحرانی صورتحال پر معاملات ایک مثبت اتفاق رائے پر منتج ہوئے اور وزیراعظم و آرمی چیف کے مابین تاجر برادری اور صنعت و سرمایہ کاری سے وابستہ حلقوں میں معاشی حالات پر تشویش کے خاتمے اور معاشی مسائل کے حل کے لیے جمہوری انداز میں مکالمہ ہوا جس پر بزنس کمیونٹی نے حکومت اور آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا۔

اطلاعات کے مطابق سیاسی وعسکری قیادت نے ملک سے کرپشن کا ناسور ختم اور کاروباری طبقے کو سہولتیں فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے نیب سے متعلق کاروباری افراد کے تحفظات دورکرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

جمعرات کو وزیراعظم عمران خان سے معروف کاروباری شخصیات اور ملک کے مختلف ایوانہائے صنعت وتجارت سے تعلق رکھنے والے افراد نے ملاقاتیں کیں۔ دریں اثنا قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے وفاق ہائے ایوان صنعت و تجارت و لاہور میں بزنس کمیونٹی اور ممتاز تاجروں سے خطاب کے دوران اظہار خیال کیا۔ میڈیا کے مطابق کاروباری برادری نے مسائل کا فوری نوٹس لینے اور بزنس کمیونٹی کی معروضات پر ہمدردی سے غور کرنے اور معیشت کا پہیہ چلانے میں گہری دلچسپی لینے پر سیاسی و عسکری قیادت سے اظہار تہنیت کیا۔

وزیراعظم نے بزنس کمیونٹی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا مستقبل معیشت کی ترقی سے وابستہ ہے۔ موجودہ حکومت کاروباری برادری کو ہرممکنہ سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ کرپشن نے نظام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، میرا مشن ہے کہ کرپشن جیسے ناسور سے ملک کو نجات دلاؤں گا۔ وزیر اعظم سے ملاقات کرنے والوں میں تجارت و صنعت کی ممتاز شخصیات شامل تھیں ۔

وفاقی وزراء حماد اظہر، سید علی زیدی، مخدوم خسرو بختیار، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، ڈاکٹر عشرت حسین، چیئرمین ایف بی آر سید شبرزیدی اور سینئر افسران بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ملاقات میں ٹیکس امور، ڈیوٹیز اور برآمدات بڑھانے کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں۔ وفد نے وزیر اعظم کو اقوام متحدہ میں مظلوم کشمیریوں کی آواز موثر طور پر بلند کرنے پر مبارکباد پیش کی۔

کاروباری شخصیات سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کاروباری طبقے سے میری ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ قبائلی اضلاع اب قومی دھارے میں ضم ہو چکے اور وہاں بھی کاروبار اور سرمایہ کاری کو فروغ دینگے۔ وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق کراچی، لاہور، گوجرانوالا، سیالکوٹ، اسلام آباد اور فیصل آباد کے ایوان صنعت و تجارت کے صدورنے معیشت کی بہتری اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی لانے خصوصاً برآمدات کو بڑھانے کے حوالے سے وزیر اعظم کو مختلف تجاویز پیش کیں۔

وزیرِاعظم کا کہنا تھا ملک کا مستقبل معیشت کی ترقی سے وابستہ ہے، کاروباری برادری اور حکومت کی مضبوط پارٹنر شپ معیشت اور ملک کی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے، ہم چاہتے ہیں کہ بزنس کمیونٹی کے لیے آسانیاں پیدا ہوں اور وہ منافع بخش کاروباری سرگرمیاں انجام دے سکیں۔ حکومت اس ضمن میں ہر ممکن مدد کرے گی۔دریں اثناء پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی میزبانی میں آرمی آڈیٹوریم میں معیشت اور سیکیورٹی کے باہمی اثرونفوذکے عنوان سے ایک سیمینار ہوا جس میں حکومت کی معاشی ٹیم اورملک کے کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ قومی سلامتی کا تعلق معیشت سے ہے اور ملک میں داخلی سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری کے اقتصادی سرگرمیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سیمینار میں شریک کاروباری شخصیات نے کاروبار میں آسانی کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کیں، کاروباری برادری نے حکومتی اصلاحات پر عملدرآمد میں تعاون کا بھی یقین دلایا۔

چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ منزل کا تعین کرلیا ہے، انھوں نے صنعتکار و تاجر برادری کے سامنے اس خواہش کا اظہار کیا کہ سعودی عرب جیسے اختیارات مل گئے تو انھیں چار ہفتوں میں لوٹا ہوا مال دلاؤں گا،انھیں کوئی شکایت نہیں ہوگی ۔ چیئرمین نے کہا کہ ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ میں فرق ہے، آیندہ بزنس کمیونٹی کے انکم ٹیکس،سیلز ٹیکس کے حوالے سے مقدمات ایف بی آر کو بھیجیں گے۔

انھوں نے کہا کہ اکتوبر 2018 ء کے بعد سے ٹیکس چوری کا کوئی کیس شروع نہیں کیا اور نہ ہی آیندہ کریں گے۔ نیب کے مطابق345 ارب روپے بدعنوان عناصر سے واپس کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے۔

حقیقت یہ ہے کہ بزنس کمیونٹی کا اعتماد قومی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار کا حامل ہے، تاجر برادری کی خدمات قومی سلامتی کے وسیع تر تناظر میں قابل قدر ہیں۔ حکومت نے ایک صحت مند روایت قائم کی ہے، اصولاً زندگی کے تمام شعبوں میں مکالمے ، باہمی رابطے اور جمہوری سپورٹ کے ساتھ مسائل کے حل کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ بزنس کمیونٹی سے افہام وتفہیم کی روش سے تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز بھی فیض یاب ہوں ۔ اسی کے نتیجے میں معاشی اور سیاسی صورتحال نئی کروٹ لے گی۔ عوام کو ریلیف ملے گا۔

مقبول خبریں