کور کمانڈرز کانفرنس مادروطن کے دفاع کا عزم

پاکستان اس وقت تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے، قومی یکجہتی کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔


Editorial October 05, 2019
پاکستان اس وقت تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے، قومی یکجہتی کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ فوٹو: فائل

راولپنڈی میں کورکمانڈرزکانفرنس سے خطاب میں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاک فوج مادرِوطن کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار اور پرعزم ہے۔

پاکستان، بھارت کے غاصبانہ عزائم کے خلاف کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے، غیرقانونی اقدام کشمیرکی حیثیت تبدیل نہیں کرسکتا۔ قومی سلامتی کے حوالے سے جن اہم اہداف کا ذکر پاک فوج کے سپہ سالار نے کیا ہے وہ انتہائی صائب ہیں۔ ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے ، عزم وہمت اور استقامت سے اپنے موقف پر قائم رہنے پر پاک فوج لائق تحسین ہے۔ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان جو تناؤ کی کیفیت ہے یہ کسی بھی وقت ایٹمی جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

ان خدشات کا اظہار برملا وزیراعظم اپنی تقریر میں اقوام متحدہ میں بھی کرچکے ہیں۔ بھارت اس وقت جارحیت پر آمادہ ہے۔کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت پاک فوج میں بدرجہ اتم موجود ہے ۔ خطے کی جیو اسٹرٹیجک صورتحال ، قومی سلامتی کے استحکام سے مشروط ہے، مقبوضہ کشمیر میں محاصرہ جاری ہے، بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو پاکستان کی حکومت نے احسن طریقے سے بے نقاب کیا ہے۔آرمی چیف نے مزید کہا کہ1947میں کاغذ کا ٹکڑا کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکا۔

پاک فوج کو جموں وکشمیرکے تقدس کا بھرپور ادراک ہے ،کشمیر کے معاملے پر سمجھوتے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہم کشمیریوں پر بھارتی جبر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں، چاہے ہمیں اس کے لیے کوئی قیمت ادا کرنی پڑے ، پاک فوج کشمیر کاز کے لیے قومی ذمے داری نبھانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ بھارتی کمانڈرزکی جانب سے غیر ذمے دارانہ بیانات اس بات کا عندیہ ہیں کہ بھارت کوئی مزید ایڈونچرکرنا چاہتا ہے جو اس کے لیے بھیانک خواب ثابت ہوگا۔ایک تازہ ترین سائنسی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری جنگ فوری طور پر 10کروڑ افراد کی ہلاکت کا باعث بن سکتی ہے۔

دنیا بھر میں قحط سالی کا سامنا بھی ہوسکتا ہے جس کی وجہ بموں کے پھٹنے کے بعد اٹھنے والے کالے بادلوں کا سورج کی روشنی کو ایک دہائی تک روکے رکھنا ہوگا۔امریکا کی کولوراڈو یونیورسٹی اور رٹگرز یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ اس وقت دونوں ممالک کے پاس 150، 150 جوہری ہتھیار ہیں جن کی تعداد 2025 تک 200 سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔دوسری جنگ عظیم میں 6برسوں کے دوران ساڑھے 7سے 8کروڑ افراد ہلاک ہوئے تھے۔اس تحقیق میں منظرنامے کی بنیاد 100کلو ٹن وزنی ہتھیاروں کے استعمال پر رکھی گئی تھی جو کہ ہیروشیما میں گرائے گئے ایٹم بم سے 6 گنا زیادہ طاقتور ہوں گے۔ یہ دھواں شمسی ریڈی ایشن کو جذب کرنے لگے گا جو ہوا کو گرم کردے گا اور دھواں مزید بڑھ جائے گا۔

اس کے نتیجے میں زمین پر پہنچنے والی سورج کی روشنی میں 20 سے 35 فیصد تک کمی ہوجائے گی، جب کہ سطح 2 سے 5ڈگری سینٹی گریڈ ٹھنڈی ہوجائے گی اور بارش کی شرح بھی 15 سے 30فیصد تک کم ہوجائے گی۔ ایلن روبوک کے مطابق '' مجھے امید ہے کہ ہمارا کام لوگوں کو احساس دلانا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

یہ ہتھیار بڑے قتل عام کا باعث بن سکتے ہیں۔'' یہ رپورٹ انتہائی الارمنگ ہے، جس میں دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ٹکراؤکے نتیجے میں انتہائی بھیانک نتائج کے اعداد وشماردیے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے فورم پر مسئلہ کشمیر پچھلے بہتر برسوں سے موجود ہے، مسئلہ کشمیر اگر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں ہوتا ہے اور بھارت اسی طرح من مانی کرتا رہے گا تو پھر ایٹمی جنگ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ دنیا کی عالمی طاقتوں کا فرض ہے کہ وہ مظلوم کشمیریوں کی داد رسی کرے۔ پاکستان اور بھارت مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور اس مسئلے کا حل نکالیں یہی واحد راستہ ہے جو امن کی طرف جاتا ہے ورنہ تباہی وبربادی دنیا کا مقدر بنے گی۔

پاکستان اس وقت تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے، قومی یکجہتی کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ ہم تاریخ کے ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ہمیں اپنے مظلوم مسلمان کشمیریوں کی مدد کرنی ہے انھیں ظلم وجبر سے نجات دلانی ہے یہ سب کچھ تب ہی ممکن ہے جب ہمارے اندر بحیثیت قوم اتحاد و اتفاق ہو۔ ہم ٹکڑیوں میں بٹ گئے تو دشمن کوکاری وارکرنے کا موقعہ ملے گا لہٰذا اپنے تمام اندرونی اختلافات کو ختم کرتے ہوئے ملکی استحکام وسلامتی کے لیے ہمیں اکٹھا ہونا پڑے گا۔ مقبوضہ کشمیرکو ضرور آزادی ملے گی کیونکہ پوری پاکستانی قوم ان کے ساتھ ہے۔

مقبول خبریں