جامعہ کراچی ٹیچر پر تشدد کا الزام ثابت طالبعلم کا داخلہ منسوخ کرنے کا فیصلہ

ساتھی طالبعلم پر ایک سیمسٹرکی پابندی عائد،فیصلہ یوم اساتذہ پر انضباطی کمیٹی کے اجلاس میں کیاگیا


Staff Reporter October 07, 2013
طالبعلم عمر علی کا صحت جرم سے انکار، تیسرے طالبعلم پر الزام ثابت نہ ہوسکا فوٹو: فائل

جامعہ کراچی میں طلبہ کی ناپسندیدہ حرکات پرتادیبی کارروائی کے لیے قائم انضباطی کمیٹی نے شعبہ طبعیات کے لیکچرر پر تشدد کا الزام ثابت ہونے پر واقعے میں ملوث شعبہ کیمیا کے طالبعلم عمرعلی کاداخلہ منسوخ کرنے کافیصلہ کیا ہے۔

جبکہ واقعے میں ملوث ایک دوسرے طالب علم کوایک سیمسٹرکیلیے یونیورسٹی میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کابھی فیصلہ کیاہے، اس بات کافیصلہ ہفتہ کو''یوم اساتذہ''کے موقع پرجامعہ کراچی کی انضباطی کمیٹی کے منعقدہ ایک اجلاس میں کیا گیا، اجلاس کی سفارشات حتمی منظوری کیلیے آج شیخ الجامعہ پروفیسرڈاکٹرمحمد قیصرکوپیش کی جائیں گی جس کے بعد فیصلے کانوٹیفکیشن جاری کردیاجائے گا، انضباطی کمیٹی کے منعقدہ اجلاس میں کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر ابوذر واجدی، مشیرامورطلبا ڈاکٹر انصر رضوی، رکن سینڈیکیٹ پروفیسرانیس زیدی، پروفیسرفتح محمد برفت اور پروفیسر عذرا پروین شریک ہوئیں۔



ایک رکن سینڈیکیٹ کے مطابق ان کے ساتھی نے بتایاکہ انضباطی کمیٹی کے اجلاس میں متاثرہ ٹیچرشعبہ طبعیات کے لیکچررعمران کوبھی بلایا گیا تھا جبکہ واقعے میں مبینہ طورپرملوث طالبعلم کوبھی اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے اسی روز بلایاگیاتھا اوراس موقع پرمتاثرہ ٹیچرعمران نے طالبعلم کوشناخت کیا،شعبہ فزکس کے چیئرمین اور اورمتاثرہ لیکچررپہلے ہی مذکورہ طالبعلم کی واقعہ ملوث ہونے کی شکایت تحریری طور پر کرچکے تھے تاہم اس موقع پر متعلقہ طالب علم عمرعلی نے صحت جرم سے یکسر انکار کردیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ چونکہ چیئرمین شعبہ طبعیات کی تحریری نشاندہی اور متاثرہ ٹیچرکی براہ راست شناخت کے بعدعمرعلی پر لگایاگیاالزام ثابت ہوتاہے لہٰذاان کاداخلہ منسوخ کرتے ہوئے یونیورسٹی سے مستقل بنیادوں پر بے دخلی کی سفارش کردی جائے، ان کے ایک ساتھی طالبعلم نعمان پراس کی اعانت کے الزام میں ایک سیمسٹر کے لیے جامعہ کراچی سے بے دخل کردیاجائے جبکہ انھیں 5 ہزار روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا، اجلاس میں فیصلہ کیاگیاہے کہ تیسرے طالبعلم فرازپر واقعے میں ملوث ہونے کاالزام تھا جو درست ثابت نہ ہوسکا۔