امریکی فورسز کی  شام سے واپسی شروع

امریکا کا یہ اقدام امریکی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے


Editorial October 09, 2019
امریکا کا یہ اقدام امریکی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ فوٹو: فائل

امریکی فورسز نے گزشتہ روز ترکی کی سرحد سے متصل شامی علاقوں سے واپس نکلنا شروع کر دیا جس سے ترکی کی طرف سے فوجی کارروائی کا امکان بڑھ گیا ہے اور کردوں کے لیے اپنی حفاظت کا سوال پیدا ہو گیا۔

امریکی فوجوں کا شام کی شمالی سرحد پر کلیدی مقامات سے انخلاء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد عمل میں آنا شروع ہوا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکا ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کو اپنی پیش قدمی کرنے کے لیے موقع فراہم کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اس علاقے میں اپنی کارروائی کر سکیں۔

امریکا کا یہ اقدام امریکی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے اور اس طرح کردوں کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیا گیا ہے جو شام میں جاری کئی سال سے اس جنگ میں امریکا کے مدد گار تھے۔ امریکا ان کی مدد سے عسکریت پسند اسلامی اسٹیٹ گروپ کے مقابلے تک کردوں کی مدد جاری رکھنے کا خواہاں تھا۔ شام کی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) اور کردوں کی ملیشیا نے شمالی شام سے نکلنا شروع کر دیا۔

انھی کی طرف سے یہ بیان جاری کیا گیا کہ امریکی فورسز نے بھی اس علاقے سے انخلاء شروع کر دیا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جو ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔ حقوق انسانی کی نگرانی کرنے والی شامی رسد گاہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فورسز نے راس العین اور تل عبید سے انخلا شروع کر دیا ہے۔ راس العین میں امریکا نے جو اڈہ قائم کر لیا تھا وہ اب خالی کر دیا گیا ہے۔

اس خالی کردہ اڈے کی فوٹو گرافر نے تصاویر بھی بنائی ہیں۔ ترکی نے اپنی اس سرحد پر حالیہ ہفتوں میں اضافی فورسز بھی بھجوائی ہیں اور صدر اردوان نے ٹی وی پر اپنی تقریرمیں کہا ہے کہ جس فوجی کارروائی کا طویل عرصہ سے انتظار کیا جا رہا ہے اب وہ کسی انتباہ کے بغیر کسی رات بھی شروع کر دی جائے گی۔ اس سے قبل ترک وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ ترکی اپنی حفاظت کے لیے اور اسے دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے بھرپور کارروائی شروع کر سکتا ہے۔ بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ شام کا بحران کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

مقبول خبریں