چینی صنعت کاروں کو مراعات کی یقین دہانی

چین کی اقتصادی ،تجارتی اور مالیاتی استقامت ایک تاریخ ساز حقیقت ہے۔


Editorial October 10, 2019
چین کی اقتصادی ،تجارتی اور مالیاتی استقامت ایک تاریخ ساز حقیقت ہے۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرپشن ملکوں کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، ہم کرپشن ختم کرنے کے لیے چین سے سیکھنا چاہتے ہیں،چین نے اس کے لیے وزیرعہدے کے 400 افراد کو جیلوں میں ڈالا، کاش میں بھی 500 افراد کو جیل میں ڈال سکتا۔ ہم بدعنوان افراد کے خلاف ایسی کارروائی کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارا نظام سست ہے۔وہ عالمی تجارت کے فروغ کے لیے قائم چائنا کونسل کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔

قبل ازیں چائنہ کونسل برائے فروغ بین الاقوامی تجارت (سی سی پی آئی ٹی) آمد پر کونسل کے چیئرپرسن گاؤ ژان نے وزیراعظم کا خیرمقدم کیا۔وزیراعظم عمران خان سے چین کے بڑے تجارتی و صنعتی اداروں گژوبا گروپ، لانگ مارچ ٹائر کمپنی،اورینٹ ہولڈنگز گروپ، میٹلرجیکل گروپ کارپوریشن کے سربراہان نے ملاقاتیں کیں اور پاکستان میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہارکیا۔

ان ملاقاتوں کے دوران وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار' وفاقی وزیر ریلویزشیخ رشید احمد' وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد' وزیراعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر اور سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین زبیر حیدر گیلانی بھی موجود تھے۔ اس عالمگیر حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ کرپشن کسی بھی ملک کی اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے زہر قاتل ہے۔

معاشرہ کی گروتھ،انتظامی شفافیت اور قوم کی فکری صلاحیتوں کو گہن لگ جاتا ہے، برین ڈرین سے ملک کے اندر قحط الرجال کی سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے، اور معیشت میں جمود ، بحران کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں استحکام پیدا ہونے کے آثار بھی مدھم پڑنے لگتے ہیں۔

وزیراعظم بلاشبہ چینی ماڈل کے مداح ہیں، انھیں چین جیسے کرپشن فری معاشرے کی تمنا ہے جو ہر اس چیف ایگزیکٹیو کی امنگ اور کمٹمنٹ ہوتی ہے جو ملک میں عوام کی معاشی سماجی اور سیاسی تقدیر بدلنے کا بیڑا اٹھاتا ہے، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کسی بھی کیس میں سرخ فیتے کی رکاوٹ کی وجہ بھی کرپشن ہوتی ہے۔

چین نے کرپشن کے خلاف کامیابی حاصل کی، پاکستان میں کرپشن پر قابو پانے میں کچھ وقت لگے گا۔ ملک میں سرمایہ کاری نہ آنے کی سب سے بڑی وجہ بھی کرپشن ہے ۔ ہم چین کی کمیونسٹ پارٹی کی کامیابیوں سے سیکھ رہے ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا غربت کے خاتمے کے لیے بھی چین کے اقدامات سے پوری دنیا سیکھ سکتی ہے۔چین نے30 برسوں میں 70کروڑ افراد کو غربت سے نکالا ہے۔

اس وقت چین دنیا میں سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت ہے۔ عمران خان ملکی معیشت اور اقتصادی صورتحال میں کرپشن کے جس ناسور کا حوالہ دے رہے ہیں وہ پاکستان کی 71سالہ مالیاتی ، معاشی اور سیاسی تاریخ کی گھمبیرتا کی داستان ہے ،اسے بیرون ملک اور دل سے قریب ہمسایہ ملک میں اس وقت بیان کرنا محل نظر ہے جب پاکستان کی توقع عالمی سرمایہ کاروں سمیت چینی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنا ہے، اور چینی سرمایہ کاروں کی طرف سے کثیر المقاصد منصوبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے لیے پر کشش ترغیبات کے در کھولے جا رہے ہیں۔ لہذا اس وقت ضرورت پاکستان کی اقتصادی اہمیت ، معاشی استحکام اور سیاسی و جمہوری تسلسل سے ہمہ جہت آگہی کی ہے۔

چین کی اقتصادی ،تجارتی اور مالیاتی استقامت ایک تاریخ ساز حقیقت ہے، آج بھی امریکا چین سے ایک مسابقتی جنگ کا محاذ کھولے ہوئے ہے ، مگر یہ چینی معیشت اور تجارتی و کاروباری طاقت و استقامت کی ہمہ گیریت ہے کہ گلوبلائزیشن کی تیز لہر کے مقابل چین اپنی کاروباری اور تجارتی جنگ میں ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں، یہی اصول پاکستان کو اپنے اقتصادی ڈاکٹرائن اور ممکنہ ماڈل کو سامنے رکھتے ہوئے دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے ، پاکستان کو اپنے اقتصادی مسائل پوری طاقت اور کسی قسم کی معاشی معذرت خواہی کے بر خلاف استقلال اور مکمل اعتماد کے ساتھ زیر بحث لانا چاہئیں ۔

چین سے پاکستان کی دوستی غیر متزلزل ہے، چین نے ہماری ہر موقع پر مدد کی ہے اس لیے پاکستان اور چین کے مابین اقتصادی تقابل میں ہم چین سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں، لیکن ہمیں اپنی اقتصادی تاریخ سے بھی کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس وقت ایسے اقتصادی ماڈل اور قابل قدر تھنک ٹینکس کی ہے جو ملکی معیشت کے سفینہ کو طوفانوں سے نکال لانے میں مدد دیں۔

دریں اثناء پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے کمانڈر جنرل ہان ویگو اور سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین سے ملاقات کی جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور علاقائی سلامتی اور پاک چین دفاعی تعاون پر گفتگو ہوئی۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے سرمایہ کاروں کو ون ونڈو سہولت فراہم کی گئی ہے۔ سی پیک کے تحت گوادر پورٹ کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے۔مسائل کے حل کے لیے سی پیک اتھارٹی قائم کی گئی ہے۔بلاشبہ پاکستان کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ سی پیک کو گیم چینجر بناکرہی دم لے۔

مقبول خبریں