اوباما…اوباما… چھونا نہ چھونا نہ
بس بہت ہو گیا ۔۔ آج سے یہ غریبانہ، مسکینانہ اور عوامیانہ سا کالم بند ۔۔۔ کیونکہ اب ہمیں دنیا کے...
بس بہت ہو گیا ۔۔ آج سے یہ غریبانہ، مسکینانہ اور عوامیانہ سا کالم بند ۔۔۔ کیونکہ اب ہمیں دنیا کے بڑے بڑے لوگوں سے لنگوٹیانہ تعلق یاد آ گیا ہے۔
اس اوباما کو لے لیجیے، یہ اور ہم اکٹھے کینیا کے چائے کے کھیتوں میں چائے کی پتیاں توڑتے تھے اور دوپہر کو اکٹھے ہی بیریوں کی چھاؤں میں اپنا ٹفن شریک کرتے تھے، یہ جوکنڈو لیزا رائس ہے اس کا ذکر ہم یونہی نہیں کرتے اور نہ ہی اس سے عشق ہمارا آج کل کا تھا، یہ اس وقت ایک اسکول میں پڑھا کرتی تھی لیکن دوپہر کو اپنی ماں کا کھانا لے کر آتی تو ہم اس سے بے تکلف ہونے کی کوشش کرتے۔ اس وقت یہ آج سے بھی زیادہ کلوٹی ہوتی تھی لیکن اس کی ہنسی ہمیں بہت پسند تھی۔ یہ اوباما اس وقت بڑا ہی دھان پان قسم کا دبو سا لڑکا تھا لیکن لائق فائق بہت تھا۔ دو کا پہاڑہ فرفر سناتا تھا جب ہم بیریوں کی چھاؤں میں دوپہر کو پھرتے تھے کہ
کچھ ایسی بات اڑی ہے ہمارے گاؤں میں
کہ چھپتے پھرتے ہیں ہم بیریوں کی چھاؤں میں
بعد میں فلک ناہنجار نامی چائے کے ٹھیکیدار نے ہمیں جدا کیا لیکن اوباما بڑا یار باش آدمی تھا۔ وہ ہمیں کبھی نہیں بھولا ۔۔۔ امریکا منتقل ہونے اور وہاں مختلف اسکولوں میں پڑھنے کی روداد وہ ہمیں برابر خطوں میں لکھتا رہتا تھا البتہ وہ کلوٹی کنڈولیزا بڑی بے وفا نکلی، وہ بھی امریکا چلی گئی تھی لیکن اوباما نے ایک خط میں بتایا تھا کہ بش نامی ایک سفید فام لڑکے سے اس کی ڈور الجھ گئی تھی۔ ہمیں بہت غصہ آیا، ۔۔۔ ہم نے اسے ایک بڑا ہی زناٹے دار خط بھی لکھا تھا لیکن کم بخت نے جواب تک نہیں دیا تھا۔ ایک خط ہم نے اس بش کو بھی دے مارا تھا کہ
گورے رنگ پر نہ اتنا گمان کر
گورا رنگ دو دن میں ڈھل جائے گا
کنڈولیزا کو اس جھاڑی دار بش نے وزیر خارجہ بنایا تو ہمیں کتنا غصہ آیا ۔۔۔ ہم وہاں جا تو نہیں سکتے تھے لیکن یہاں سے کالموں کے ذریعے اس پر بہت ڈورے ڈالے لیکن کم بخت تہہ دام نہیں آئی، لیکن اوباما یاروں کا یار اور لنگوٹیوں کا لنگوٹیا نکلا جب وہ انتخابات میں امریکا کا صدر منتخب ہوا تو ٹکٹ اور دعوت نامہ بھیج کر اس نے کہا کہ اگر تم نہیں آؤ گے تو میں سرے سے حلف ہی نہیں اٹھاؤں گا
پتہ نہیں ہمارا یہ پرسنل گانا اس گوشت کے پہاڑ بپی لہری نے کہاں سے سنا تھا کہ اس کی دھن چرا کر اس پر ... او لالا ... او لالا ... سوار کر دیا، یہ چور لوگ بھی کمال کرتے ہیں، پجامے کو پھاڑ کر رومال کرتے ہیں ۔۔۔ اوباما اوباما کی جگہ ... او لالا ۔۔۔ او لالا ۔۔۔ کو کیا فٹ بٹھایا ہے ارادہ تو ہمارا اس بپی کو عدالت میں گھسیٹنے کا تھا لیکن ہمارے پاس کوئی پروف نہیں تھا کہ او لالا ۔۔۔ او لالا ۔۔۔ ہمارے بچپن کے گانے سے لیا گیا ہے کیونکہ ہم نے دوستی کا یہ گانا کہیں رجسٹر نہیں کیا تھا،
۔۔۔۔ آپ تو جانتے ہیں کہ کالی چیزیں پسند کرنا ہم نے پیر و مرشد حافظ شیراز سے ورثے میں پایا ہے
اگر آں ترک شیرازی بدست آرد دل مارا
بہ خال ہندوش بخشم سمر قند و بخارا را
ہاں وہ حلف برداری کے لیے اس نے نہایت اصرار سے بلایا اور ٹکٹ بھی بھیجا تو انکار کرنا ممکن نہیں رہا ۔۔۔ اس کے اور ہمارے بیچ کے سمبندھوں کا اندازہ اس سے لگائیں کہ جب تک ہم پہنچ نہیں گئے، اس نے حلف نہیں اٹھایا، دراصل ہمیں تھوڑی سی دیر ہو گئی تھی کیونکہ جہاز میں ایک ہوسٹس بھی کالی کلوٹی لیکن بلا کی ملیح و صبیح تھی اور کم بخت نے ہماری طرف ایک نہایت ہی کنڈولیزانہ مسکراہٹ بھی پھینکی تھی چنانچہ دوسرے مسافر تو اتر گئے اور ہم اس کلوٹی سے جاں پہچان کے لیے جہاز میں ذرا رک گئے تھے، تقریب حلف برداری کے بعد اوباما ہمیں سیدھے وائٹ ہاوس لے گئے، وہ اگرچہ امریکا کا صدر بن گیا تھا لیکن افریقی خون کی وجہ سے بلا کا توہم پرست ہے اس لیے وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کے لیے اس نے خود بھی پہلے اپنا دایاں پاؤں رکھا اور ہمیں بھی دایاں پاؤں رکھنے کے لیے کہا، مشیل کو پتہ تھا کہ ہم اوباما کے لنگوٹیے اور غاریئے یار ہیں اس لیے اس نے خاطر مدارت میں حد کر دی تھی پتہ نہیں اسے ہمارے دل کا حال کیسے معلوم ہو گیا تھا کہ کنڈولیزا راس کی طرح سارا وقت منہ میں ابلا ہوا بھٹا لیے رہی۔
کل صبح ہماری واپسی طے تھی لیکن نہ جانے کیسے اوپرا ونفرے کو ہماری آمد کا پتہ چل گیا ٹیلی فون پر سر ہوئی کہ ایک دو دن تو ہم اسے بھی دیں گے ورنہ وہ ہمارے ساتھ بھی کبھی نہیں بولے گی بلکہ اپنا پروگرام بھی چھوڑ د ے گی، کیا کرتے ۔۔۔ وہی سیہ پسندی ہماری کم زوری اس کے بھی ہاتھ لگی تھی اس لیے انکار نہیں کر سکے، اوباما کو جب پتہ چلا تو ناراضگی کے مارے اتنا سا منہ نکل آیا اوباما کی عادت ہے کہ جب وہ روٹھتا ہے یا کسی اور وجہ سے پریشان ہوتا ہے تو اس کا منہ دو انگل کے برابر ہو جاتا جسے دیکھ کر ہر کسی کوترس آتا ہے اور ہمارا تو لنگوٹیا بھی ہے اس لیے بڑی مشکل سے اسے منایا کہ دل چھوٹا کرنے کی ضرورت نہیں ''اوپرا ونفرے'' بے شک ہمیں عزیز ہے کیوں کہ آبنوسی ہے لیکن اسے تم پر ترجیح بالکل بھی نہیں دیں گے تو راضی ہو گیا لیکن اس شرط پر ۔۔۔ کہ وہ بھی ہمارے ساتھ ہی اوپرا ونفرے کے گھر جائے گا، سیکریٹریوں اور ہم نے بہت سمجھایا کہ بھئی تم اب وہ کینیا والے ۔۔۔۔
اوباما اوباما چھونا نہ چھونا نہ
نہیں ہو بلکہ امریکا کا طاقت ور ترین صدر ہو ۔۔۔ تب کہیں جا کر ضد سے باز آیا ۔۔۔ ہم خوش ہوئے کہ بلا ٹلی ۔۔۔ کیوں کہ اس کی موجودگی میں ہم اوپرا ونفرے کے ساتھ بے تکلفی کیسے کر پاتے، اوپرا ونفرے کوآپ نہیں جانتے یا کم از کم یہ تو ہر گز نہیں جانتے ہوں گے کہ دراصل ہم پر لٹو ہے ورنہ دنیا کے بڑے بڑے لوگوں کو وہ منہ تک نہیں لگاتی لیکن ہم نے کبھی مثبت جواب نہیں دیا ہے کیوں کہ ہمارا دل تو وہاں اٹکا ہوا ۔۔۔ ''وہاں'' تو آپ جانتے ہی ہیں گڑ میں پکے ہوئے چاولوں کا مزا ہی کچھ اور ہوتا ہے، فی الحال اوباما کی بات کرتے ہیں یہ اوباما سے ہمارے گہرے تعلقات کا شاخسانہ ہے کہ دن رات ملکوں ملکوں کے سربراہوں کے فون آتے ہیں کہ اوباما سے ہمارا یہ کام کرا دو وہ کام کرا دو ۔۔۔ لیکن ہم سیاست کے بجائے محبت کے علم بردار ہیں
ان کا جو کام ہے وہ اہل سیاست جانے
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے