عیدالاضحی قربانی کیلیے قصابوں کی بکنگ عروج پر پہنچ گئی

گائے 8 ہزار،بڑے جانورکے12ہزاراوربکرے کے3 ہزار روپے اجرت طلب،پوش علاقوں میں منہ مانگی اجرت طے کی جانے لگی


Business Reporter October 09, 2013
مویشی منڈی میں ٹرک سے بیل کو اتارا جارہا ہے ،ہزاروں گائے اور بیل منڈی پہنچ گئے ۔ فوٹو : ایکسپریس

عید قربان پر جانور ذبح کرانے کے لیے قصابوں کی پیشگی بکنگ عروج پر پہنچ گئی۔

ماہر اور برساتی قصابوں کی کمائی کا سیزن شروع ہوگیا، قصابوں کی جانب سے پہلے روز گائے کی قربانی کے لیے 8 ہزار روپے بڑے جانور کے لیے12ہزار روپے جبکہ بکرے کی قربانی کے لیے 3 ہزار روپے اجرت کا مطالبہ کیا جارہا ہے،امسال شہریوں کی بڑی تعداد مناسب اجرت پر قصابوں کی خدمات کے حصول کے لیے سرگرداں ہیں گزشتہ سال کے مقابلے میں امسال قربانی کے جانوروں میں بھاری اور بڑے جانوروں کی تعداد زیادہ ہے، مویشی منڈی میں بھی زیادہ تر بھاری جانور فروخت کے لیے لائے گئے ہیں۔

پوش علاقوں کے قصاب منہ مانگی اجرت طلب کررہے ہیں جبکہ بیشتر قصاب جانور دیکھنے کے بعد اجرت طے کررہے ہیں، قصائی پیشگی بکنگ پر25 فیصد ایڈوانس رقم طلب کررہے ہیں،شہریوں کی اکثریت جان پہچان کے قصابوں سے جانور ذبح کروانے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ بیشتر گھرانے مخصوص قصاب ہی سے قربانی کراتے ہیں، قصابوں کے مطابق عید کے پہلے دن کے مقابلے میں دوسرے روز 2 سے 3 ہزار روپے اور تیسرے دن قربانی کی اجرت میں50 فیصد کمی آجاتی ہے، شہری پہلے روز قربانی کو ترجیح دیتے ہیں اس لیے ہمیں کم وقت میں زیادہ دہاڑی کمانے کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے،گزشتہ عید قربان پر موبائل فون سروس کی معطلی سے ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اس لیے امسال متبادل طریقے پہلے ہی وضع کرلیے ہیں۔



تاکہ پریشانی سے بچا جاسکے،شہر میں قصابوں کی قلت پر اس سال بھی موسمی قصابوں نے چھریاں تیز کرنی شروع کردی ہیں کم اجرت پر قربانی کرانے والے افراد انہی کی خدمات حاصل کریں گے،جبکہ متمول شہری ماہر قصابوں سے قربانی کرواتے ہیں جو مہارت سے جانور ذبح کرتے ہیں۔

عید قرباں پر قصاب ٹولیوں کی شکل میں کام کرتے ہیں ایک ٹولی میں4 سے6 افراد ہوتے ہیں ایڈوانس پارٹی جانوروں کو جکڑکر گرانے اور ذبح کرنے کے بعد اگلے آرڈر پر نکل جاتی ہیں جبکہ پیچھے رہ جانی والی پارٹی مویشی کی کھال اتارنے کے بعد چار ٹکڑے کرکے گوشت بنانے والے کاریگروں کے سپرد کرکے ایڈوانس پارٹی کو فالو کرتے ہیں اس طرح ماہر قصابوں پر مشتمل ایک گروپ دن میں15 گائے بیل اور بچھیا ذبح کرلیتے ہیں،قصابوں کے مطابق عید قرباں کے بعد گوشت کی فروخت 2 ماہ معطل رہتی ہے اس دوران دکانوں کا کرایہ انھیں جیب سے ادا کرنا پڑتا ہے۔