مصباح الحق کی دہری ذمہ داریاں اضافی بوجھ قرار

اسپورٹس رپورٹر  ہفتہ 12 اکتوبر 2019
قیادت کے لیے سرفرازاحمد کا کوئی متبادل نہیں، بیٹنگ میں بہتری لانا ہوگی، سابق کپتان۔ فوٹو: فائل

قیادت کے لیے سرفرازاحمد کا کوئی متبادل نہیں، بیٹنگ میں بہتری لانا ہوگی، سابق کپتان۔ فوٹو: فائل

 لاہور: جاوید میانداد نے مصباح الحق کی دہری ذمہ داریوں کو اضافی بوجھ قرار دیدیا۔

ٹی ٹوئنٹی سیریز میں سری لنکا سے کلین سوئپ پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے جاوید میانداد نے کہاکہ پاکستان کو بیٹنگ کوچ کی اشد ضرورت ہے، پی سی بی نے مصباح الحق کو تینوں فارمیٹ کا کوچ اور چیف سلیکٹر مقرر کر کے اضافی بوجھ ڈال دیا ہے، حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے کسی بیٹنگ کوچ کا تقرر کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ فیصل اقبال نے انگلینڈ سے کوچنگ کورس کیا ہے اور اس عہدے کیلیے موزوں ترین امیدوار تھے لیکن شاید میرے ساتھ رشتہ ہونے کی وجہ سے بورڈ نے ان کو ذمہ داری سونپنے سے گریز کیا۔

جاوید میانداد نے کہا کہ جب کوئی قومی ٹیم میں آتا ہے تو اس کی عادات پختہ ہو چکی ہوتی ہیں جنھیں تبدیل کرنا ممکن نہیں ہوتا، ریجنل سطح پر ہی کرکٹرز کی مہارت کو بہتر بنانے کیلیے کام کیا جا سکتا ہے، اس مقصد کیلیے سابق عظیم کرکٹرز کی خدمات حاصل کرنا چاہیں۔

میانداد نے کہا کہ جب انضمام الحق اور دیگر نوجوان کھلاڑی قومی ٹیم میں آئے تو تکنیک بہتر بنانے کیلیے میں نے خود ان کی رہنمائی کی، بنیادی چیزوں کے بارے میں سیکھ کر ہی وہ بعد ازاں عظیم کرکٹرز بنے، انھوں نے کہا کہ ہمارے بیٹسمین ذہنی طور پر بڑے اسکور کیلیے تیار نہیں ہوتے اسی لیے چھوٹے اہداف حاصل کرتے ہوئے بھی بڑی مشکل میں پڑ جاتے ہیں۔

سابق کپتان نے کہا کہ آسٹریلیا سے سیریز کیلیے کھلاڑیوں کا انتخاب کرتے ہوئے میرٹ اور فٹنس کو پیش نظر رکھنا چاہیے، قومی ٹیم کی قیادت کیلیے فی الحال سرفرازاحمد کا کوئی متبادل نہیں لیکن ان کو اپنی بیٹنگ میں بہتری لانا ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔