پاک فوج دراندازی کر رہی ہے اس طرح مذاکرات نہیں ہونگے جنرل بکرم سلمان خورشید

مذاکرات سے قبل بھارت مخالف سرگرمیاں بند کرنا ہوں گی،حکومت پاکستان پہلے ہمارے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کرے، سلمان خورشید


AFP/News Agencies October 09, 2013
دراندازی کے منصوبے میں پاک فوج شامل ہے،سلمان خورشید،کیرن سیکٹرمیں دہشت گرد پاکستان کی مدد سے داخل ہوئے۔بکرم سنگھ۔فوٹو:فائل

بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا ہے کہ دراندازی اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے جبکہ بھارتی آرمی چیف بکرم سنگھ نے الزام عائد کیا ہے کہ کیرن سیکٹرمیں دہشت گرد پاکستان کی مدد سے داخل ہوئے۔

بھارت نے ایک بار پھر الزام تراشی کی روش کو برقراررکھا، سلمان خورشید نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر گزشتہ 2 ہفتے سے جو کچھ ہورہا ہے اس سے پاکستان کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں، دراندازی اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور موجودہ صورتحال میں بات چیت شروع کرنے کا کوئی مقصد نہیں بنتا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات سے قبل پاکستان کو بھارت مخالف سرگرمیاں بند کرنا ہوں گی، لائن آف کنٹرول کیرن سیکٹر کے واقعے پر پاکستان حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ اعتراف کرے کہ دراندازی کے اس منصوبے میں پاک فوج شامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ کیرن سیکٹر میں جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ پاک فوج کی طرف سے ہورہا ہے۔



سلمان خورشید نے کہا کہ جس طرح کی صورتحال ایل او سی پر جاری ہے اس پر پاکستان سے فی الحال کوئی بات چیت نہیں ہوگی اور نہ ہی تعلقات میں بہتری آنے کی کوئی امید ہے۔ انھوںنے کہا کہ حکومت پاکستان کو پہلے اپنے ان وعدوں کو عملی جامہ پہنانا چاہیے جو اس نے بھارت سے کیے ہیں۔ دوسری جانب بھارتی حکومت کے بعد فوج نے بھی پاکستان پر کیرن سیکٹر میں دراندازی کا باضابطہ طور پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارگل طرز کی کارروائی ایک اور کوشش تھی جسے ناکام بنا دیا گیا۔ بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے الزام عائد کیا ہے کہ کیرن سیکٹرمیں دہشت گرد پاکستان کی مدد سے داخل ہوئے۔

مارے گئے ایک دہشت گرد کے کپڑوں سے خط ملا ہے جس میں پاکستان کے ملوث ہونے کے ثبوت ہیں۔ بھارتی آرمی چیف نے الزام لگایا کہ اس علاقے میں پاکستان کی مدد کے بغیردہشتگردوں کا داخل ہونا ممکن نہیں۔ پاکستان دہشت گردوں کو مکمل اسٹرٹیجک پلان بنا کر تیار کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول کا جائزہ لینے کے بعد اگر ضروری ہوا تو کیرن سیکٹر معاملے کو پاکستانی کے آگے اٹھایا جائے گا۔