ناقابل تحریر یادیں
میں صحافت کی اصناف میں سے رپورٹنگ یا وقایع نگاری سے تعلق رکھتا ہوں۔ تجزیہ نگاری مضمون نگاری یا۔۔۔
میں صحافت کی اصناف میں سے رپورٹنگ یا وقایع نگاری سے تعلق رکھتا ہوں۔ تجزیہ نگاری مضمون نگاری یا جواب مضمون نگاری میرا شعبہ نہیں۔ اخبار میں وقایع نگاری روز مرہ کے حالات کا نام ہے یعنی حالات حاضرہ میں روز مرہ کے حالات پر کالم لکھتا ہوں اگر کسی دن کوئی مناسب موضوع نہ ملے اور مضمون نما قسم کا کالم لکھنا پڑ جائے تو مجھے بڑی کوفت ہوتی ہے لیکن حاضری لگانی ہوتی ہے۔ کسی واقعہ کی رپورٹنگ کرتے ہوئے بعض اوقات کسی پرانے واقعہ کا حوالہ آ جاتا ہے قارئین ایسی پرانی باتوں کو پسند کرتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ میں ان واقعات پر مبنی اپنی یادداشتیں قلمبند کر دوں۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ قارئین کے خطوط، ای میل وغیرہ کے پیغامات اور ٹیلی فونوں کا تانتا بندھ جاتا ہے اور قارئین کی بے تابی ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتی جو میرے بعض مقبول عام دوستوں کے حصے میں آتی ہے لیکن مناسب حد تک یہ مطالبہ کیا جاتا ہے اور میں کئی بار سوچتا ہوں کہ بعض مشہور سیاستدانوں کے بارے میں لکھ ہی دوں لیکن جو لوگ گزر گئے ان کا نام کیوں بدنام کروں جب وہ زندگی میں مہربان رہے اور آج کے سیاستدانوں کو دیکھیں تو وہ فرشتے تھے۔ سیاست کی دنیا میں دو قسم کے لوگ سرگرم رہے ایک کاروباری لوگ دوسرے زمیندار۔ ہمارے ہاں ایک تیسری قسم سجادہ نشینوں کی بھی ہے۔
میری رپورٹنگ کا زمانہ ایک طرح سے میری اجارہ داری کا زمانہ تھا۔ ملک میں دو چار اخبار ایسے تھے جو نظریاتی ہونے کے دعوے دار تھے دوسرے کاروباری تھے اور ان میں سے بعض کی پالیسی ان کے مالکان کے الفاظ میں پالیسی کا نہ ہونا ہی ان کی پالیسی تھی لیکن ملکی اور قومی مفادات کا حتی الوسع احترام کیا جاتا تھا۔ نظریاتی اخبارات بھی بے لوث بے غرض اور بے عیب نہیں تھے۔ نفع اندوزی اور مالی مفادات کے حصول میں وہ کسی سے پیچھے نہیں تھے۔ اگر کسی اخبار کا مالک رئیس خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور بذریعہ اخبار اسے نفع اندوزی کی ضرورت نہیں تھی وہ اس اخبار کے ذریعہ اپنی سیاست چلاتا تھا اور کمزور سیاست کے باوجود وہ سیاست میں خصوصی اہمیت کا مالک تھا۔ دوسرے بعض نظریاتی اخبارات بھی موقع کی تلاش میں رہتے تھے۔ اخبارات کا ذکر ضروری نہیں کیونکہ کاغذ کے ان ٹکڑوں کی کوئی حیثیت نہیں تھی حیثیت جو بھی تھی ان کے مالک کی تھی۔ میں نے اپنی جس اجارہ داری کا ذکر کیا ہے وہ ایک نظریاتی اخبار سے تعلق کی تھی جب کہ دوسرے اخبارات حکومت وقت کے حامی یا تابع تھے لیکن یوں کہیں کہ ایک آزاد رپورٹر تھا ،آزاد اخبار کا نمایندہ اس لیے سیاسی حلقوں میں میری خاص اہمیت تھی کہ بعض خبریں صرف میں ہی چھاپ سکتا تھا۔
میری اس حیثیت کی وجہ سے میری ان سیاستدانوں کی نظر میں ایسی حیثیت تھی کہ وہ میرے ساتھ قریبی تعلقات رکھنا پسند کرتے تھے اور اس طرح بعض کے ساتھ اعتماد کا ایسا رشتہ بن گیا کہ ان کی بہت ساری باتوں اور حرکتوں کا مجھے براہ راست علم ہوتا تھا میں ان کا راز دار بھی تھا اور میں نے اس راز داری کا بہت ہی احترام کیا۔ ان سیاستدانوں کی باتیں یادآتی ہیں تو قلم اکساتا ہے کہ میں ان کو لکھ ہی دوں یعنی اپنے لیے گالیاں اور دوسروں کے لیے معلومات اور ذہنی تفریح۔ ان میں سے بعض سیاستدان ایسے تھے جن کی سیاست کا ذکر آج کے سیاستدانوں یا عوام کے لیے مفید ہو سکتا ہے لیکن ان میں سے کئی سیاستدان اپنی عاقبت خراب کر بیٹھے صاف ستھری سیاسی زندگی کے آخر کے کسی کمزور لمحے میں کوئی ایسی حرکت کر بیٹھے کہ اپنے اعمال کے ذخیرے کو نذر آتش کر دیا۔ سجادہ نشین لیڈروں کا ذکر ہی بے سود ہے۔ ان کی خاندانی زندگی مریدوں کے نذرانوں پر گزری اور وہ اپنی سیاسی زندگی میں بھی نذر و نیاز کی کمزوری سے کبھی نجات نہ پا سکے۔
زمیندار طبقے کے اکثر و بیشتر سیاستدان گھر بیچ کر سیاست کرتے رہے۔ ان کی زمینیں بک گئیں۔ ہمارے سرگودھے کے ایک سیاستدان ہر الیکشن پر ایک مربع زمین فروخت کیا کرتے تھے اور میاں ممتاز دولتانہ پاکستان میں بھی زمین پر گزر بسر کرتے رہے اور جب وہ سفیر بن کر برطانیہ گئے تو ان کی زمین باقاعدگی کے ساتھ بکا کرتی تھی۔ ایک دلچسپ واقعہ میاں صاحب کی زمین کے خریدار نے کہا اگر میاں صاحب خود میرے ساتھ بات کرکے زمین کا سودا کریں تو میں اتنے زیادہ دوں گا لیکن ان کے منشی کو زیادہ نہیں دوں گا۔ میاں صاحب نے خود سودا کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ لوگ ان کے ساتھ ملاقات کے لائق نہیں ہیں۔ یہی حال دوسرے زمیندار سیاستدانوں کا بھی تھا میں ان چند الفاظ کے اختتام پر اتنا عرض کر دوں کہ آج بس ہمارے جو سیاستدان حکمران ہیں قدرت نے انھیں عوام کی آزمائش کے لیے اقتدار عطا کیا ہے اور جو کل تک اقتدار میں تھے ان کی ملک سے لوٹی ہوئی دولت کی جو خبریں چھپائی نہیں جا سکتیں اور جو پھر بھی سامنے آ جاتی ہیں وہ اس قدر حیران کن ہیں کہ اپنے ملک کی دولت مندی پر رشک آتا ہے جس کو لوٹنے والے بھی دنیا کے مشہور دولت مند ہیں مگر یہ ملک پھر بھی زندہ ہے اور مزید لٹنے کے لیے تیار ہے۔
آخر میں قارئین سے معذرت کہ میرے پاس جو معلومات ہیں وہ صاف ستھری نہیں ہیں ناقابل تحریر ہیںان کو پڑھ کر آپ کو مایوسی ہو گی اور ذہنی الجھن بھی آپ کے کئی بت ٹوٹ جائیں گے۔ اگرآپ ایسی ناگوار بلکہ شرمناک سیاسی یادوں سے بچنا چاہتے ہیں تو ووٹ دیکھ بھال کر دیں۔ اگر آپ نے ایک الیکشن میں غلطی کی ہے تو دوسرے میںاحتیاط سے کام لیں اور اس طرح جمہوریت در جمہوریت کا سلسلہ جاری رکھیں۔ میرا خیال ہے اب مارشل لاء نہیں آئے گا کسی 'عوام' کی دعا منظور ہو گئی ہے۔ ایک گزارش ہے کہ کسی حکمران کے غلط فیصلوں کو برداشت نہ کریں سڑکیں ہماری اپنی ہیں اور مفت ہیں۔ اس ناقابل برداشت مہنگائی میں بھی سڑک پر چلنا مفت ہے میری یادداشتوں کو آپ کیا کریں گے کیا ان سے کسی کا پیٹ بھرے گا۔
سیاستدانوں کے اس ذکر میں چند الفاظ دو جانثار سیاستدانوں کے لیے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی بیٹی بے نظیر اپنے سامنے یقینی موت دیکھ کر بھی موت کو گلے لگانے پر تیار ہو گئے مگر اپنی بات سے نہ ہٹے۔ اس باپ بیٹی کی یہ ایک بالکل انوکھی بات ہے اور ان کی سیاسی بہادری کی ایک ضرب المثل۔ ان کے مقابلے میں دوسرے سیاستدان کیا تھے سب آپ کے سامنے ہے۔ میں نے دونوں کی عمر بھر مخالفت کی مگر مجھے اب اس کا افسوس ہے۔