دو بڑے سوال غربت اور مہنگائی کا خاتمہ

اقتصادی استحکام کے لیے واضح روڈ میپ قوم کے سامنے لایا جائے اور ایک درست سمت میں معیشت کو ڈالا جائے۔


Editorial October 15, 2019
اقتصادی استحکام کے لیے واضح روڈ میپ قوم کے سامنے لایا جائے اور ایک درست سمت میں معیشت کو ڈالا جائے۔ فوٹو: فائل

بادی النظر میں معیشت کے استحکام اور ملکی ترقی و روزگار کی فراہمی کے روشن امکانات و بیانات کا سفر تیزی سے جاری ہے مگر زمینی حقائق اور اقتصادی کروٹ کی معروضیت کے تقاضے مارکیٹ کی کچھ اور داستان سناتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اقتصادی حقیقتوں کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی بنیاد ٹھوس اور مضبوط ہونا شرط ہے، مفروضوں، توقعات اور امکانات سے الگ رہتے ہوئے معاشی پیش رفت کی سچی تصویر قوم کے سامنے لانے کی ضرورت ہے جو معاشی عوامل اور تجارتی وکاروباری سفرگرمیوں کے نتیجہ خیز پہلوؤں کی نشاندہی کرتی ہو اور جن سے عوام کو معاشی ریلیف ملنے کی کوئی امید بھی ہو۔ معاشی مسیحا صورتحال کو مابین ظن ویقین قرار دیتے ہیں۔

میڈیا کے مطابق عالمی بینک نے اگلے دوبرسوں کے لیے پاکستان کی اقتصادی نشوونماکے اہداف میں کمی کی پیش گوئی کرتے ہوئے قراردیا ہے کہ عمران خان کی حکومت افراط زر،عوامی قرضوں اورمالی خسارے میں کمی کے اہداف پورے نہیں کرسکے گی ۔

جنوبی ایشیاء کی 2019-20 کی رپورٹ کے مطابق ان مسائل کی نشاندہی کی ہے جن کا انھیں اقتدار کے تیسرے سال تک سامنا کرنا پڑے گا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کا اقتصادی رویہ خطے کے دیگر مسائل سے مختلف تھا۔ روپے کی قدر میں خاطر خواہ گراوٹ کے باوجود عالمی بینک نے ستمبر کے اختتام تک اس میں 4.8 فیصد اضافہ دیکھا ۔ واشنگٹن سے اتوارکوجاری رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی کہ 2001 کے بعد سے پہلی بار غربت کے خاتمے کے لیے پاکستان کی پیشرفت ''رک ''جائے گی جس کی وجہ آئی ایم ایف کے 6ارب ڈالر کے39 مہینوں کے مالیاتی پروگرام کے تحت کی گئی اقتصادی مطابقت ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے غریبوں کو دو وقت کا کھانا مفت فراہم کرنے کے لیے عوامی لنگر خانہ شروع کیا ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے سوا اقتصادی اہداف پورے نہ ہونے کی بری خبر مالی مشیر حفیظ شیخ کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی کہ حکومت نے رواں مالیاتی سال کی پہلی سہ ماہی میں تجارتی اور مالیاتی خسارے پر قابو پالیا ہے۔ پاکستان جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک کی طرح اپنی استعداد کے برعکس آدھا نشوو نما کررہا ہے۔

مالی سال 2019-20 میں یہ2.4فیصد کے حساب سے ترقی کرے گا۔ رپورٹ کے مطابق اقتصادی نشوونما کی بحالی کی رفتارآہستہ ہونے کاامکان ہے جو2020-21کے مالی سال میں صرف3فیصد ہوگی،اس کی وجہ اقتصادی صورتحال میں بہتری اورڈھانچہ جاتی اصلاحات کی بدولت بیرونی طلب بڑھی ہے نیز آئی ایم ایف پروگرا م کی بدولت نشوونما میں بحالی 2021-22 سے متوقع ہے تاہم یہ عالمی منڈیوں میں قدرے استحکام اورتیل کی قیمتوں میں کمی سے مشروط ہے۔

تاہم یہ شماریاتی جائزہ معیشت کے تکنیکی اور مالیاتی نزاکتوں سے متعلق ہے جو بنیادی سوال عوام اور تاجر برادری کے ذہنوںمیں الجھن کا باعث بنا ہے اس کا جواب ان سرکاری کاغذات میں موجود نہیں، لوگ چاہتے ہیں کہ معیشت کی حقیقی بحالی اپنے ٹھوس نتائج کے ساتھ عوام کی نظروں میں آجائے۔

عوام گراس روٹ لیول پر تبدیلی اور ریلیف دیکھنے کے متمنی ہیں۔ بے یقینی ختم ہونی چاہیے، جمود نے معیشت کو محاصرے میں لے رکھا ہے اس کا بھی ازالہ ضروری ہے۔میڈیاکے مطابق پاک روس باہمی تجارت کے فروغ میں چیلنجز درپیش ہیں،بینکنگ چینلز کی کمی ہے، بلند ٹیرف جیسی رکاوٹوں کو دور کرنا ناگزیر ہے تاکہ روس کے ساتھ آزادانہ تجارت کا معاہدہ کرنے کے لیے کوششیں تیز کی جا سکیں۔

رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی کاقیام خوش آیند ہے،اسی طرح برآمدات کو بڑھانا معیشت کی گروتھ کے لیے ناگزیر ہے، ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ مقامی طلب میں تیزی غیر یقینی صورتحال کے باعث کمزور پڑ گئی، ادھر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ بیروزگاری اور جرائم کی ہولناکی لمحہ فکریہ ہے، اجرتی مزدور طبقہ روزگار نہ ہونے کی وجہ سے کرمنل عناصر کا آلہ بن رہا ہے۔

اسٹریٹ کرائمز ہورہے ہیں،کیونکہ روزگار دینے کی حکومتی حکمت عملی موثر نہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ افرادی قوت کو روزگار دیا جائے، جن سرکاری اداروں میں فوری اصلاحات کی ضرورت اور اہل افراد کی اہم محکموں میں فوری تقرری تقاضائے وقت ہے اس میں تاخیر نہ کی جائے، حکومت معاشی حالات پر تبصروں اور دعوؤں کے بجائے اقتصادی پالیسیوں پر عملدرآمد میں مضمر کنفیوزن کو دور کرے۔

اقتصادی استحکام کے لیے واضح روڈ میپ قوم کے سامنے لایا جائے اور ایک درست سمت میں معیشت کو ڈالا جائے جس سے ترقی وخوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو، خسارہ کم ہو، زرمبالہ کے ذخائر میں اضافہ ہو، بعض رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں غربت ہے مگر سوال یہ ہے کہ مملکت خداد کے اہل ثروت کی دولت عوام کی فلاح وبہبود کے لیے کب تجوریوں سے باہر آئے گی۔ غربت ومہنگائی کا خاتمہ کیسے اور کب ہوگا۔

مقبول خبریں