گنگا جمنی تہذیب کا مسئلہ

ہمارے سیاسی اوتار نئے صوبوں کے قیام کو اپنی سلطنتوں میں مداخلت سمجھتے ہیں


Zaheer Akhter Bedari August 31, 2012
[email protected]

پاکستان میں 65 سال سے جو نیم قبائلی جاگیردارانہ نظام موجود ہے، اس کو ختم کرنے اور روزِ اوّل سے اقتدار پر قابض چند خاندانوں کی گرفت سے اس ملک کو نکالنے کی کوئی جدوجہد اس لیے کامیاب نہیں ہو سکی کہ تبدیلی لانے والی طاقتوں کو اتنے ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا ہے کہ قوت کا یہ سرچشمہ عوام اس متروک نظام کے خلاف جنگ کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ جنگوں میں مصروف ہیں۔ ہمارے بعض دوستوں کا اب بھی یہ اصرار ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اور اس کی اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے ہم اپنی جانیں لڑا دیں گے۔

المیہ یہ ہے کہ اس قسم کی باتیں کرنے والے مخلص لوگ بھی نہ صرف بے شمار ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں بلکہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے گلے کاٹتے نظر آ رہے ہیں۔ عوام کو تقسیم در تقسیم کرنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے، اس کی ایک شکل آج کل نئے صوبے بنانے کی جدوجہد میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تشکیل کوئی نئی بات نہیں لیکن پاکستان میں نئے صوبے بنانے کے مسئلے کو بھی عوام کی تقسیم کا مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔ اور ہمارے سیاسی اوتار نئے صوبوں کے قیام کو اپنی سلطنتوں میں مداخلت سمجھتے ہیں۔

ان سلاطینِ وقت کو ڈر ہے کہ ان کی سیاسی سلطنتوں میں نئے صوبے بنا دیے گئے تو ان کی سیاسی طاقت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی۔ اسی ڈر سے یہ اوتار نئے صوبوں کی تشکیل میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں اور اس انتظامی مسئلے کو لسانی مسئلے کا رنگ دے رہے ہیں، جو سیاسی رہنما نئے صوبے بنانے کے شدّت سے حامی نظر آتے ہیں، ان کی یہ حمایت بھی عوام کے مفادات کی خاطر نہیں بلکہ اس حوالے سے ان کی سیاست کا مطلب صرف یہ ہے کہ اگر نئے صوبے بنیں تو گورنری وزارت اعلیٰ اور وزراء کی شکل میں جو مواقع حاصل ہوں گے، ان سے ان کے خاندانوں کو اقتدار سے لطف اندوز ہونے کے نئے مواقع حاصل ہوں گے۔

عوام کو تقسیم کرنے کی سازش اگرچہ ہماری سیاسی اشرافیہ کی ضرورت ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ عوام کی طاقت پر یقین رکھنے اور عوامی سیاست کرنے والے انتہائی روشن خیال لوگ بھی دانستہ یا نا دانستہ عوام کو تقسیم کرنے اور عوام میں پہلے سے موجود نفرتوں کو ہوا دیتے نظر آتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی زندگیوں کا ایک بڑا حصّہ اِس استحصالی نظام کے خلاف جنگ میں گزرا ہے اور جنھوں نے اس جنگ کے دوران بڑی قربانیاں دیں، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

ہمیں پچھلے دنوں ایک صنعتی علاقے میں منعقد ہونے والی ایک بڑی نشست میں شرکت کا موقع ملا۔ اس نشست کا اہتمام بھی مزدوروں نے کیا تھا اور اس میں شرکت کرنے والے مزدوروں کا تعلق مختلف زبانیں بولنے والوں سے تھا۔ اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ہمارے ایک بہت سینئر رہنما نے فرمایا کراچی میں اردو بولنے والوں کو اب گنگا جمنی تہذیب کے سحر سے باہر نکل کر سندھی بننا ہوگا اور اردو کو قومی زبان بنانے کے خواب سے باہر آنا ہوگا۔

اردو بولنے والوں کو سندھ کے قوم پرست حضرات ایک عرصے سے سندھی بننے کا حکم دیتے آ رہے ہیں اور اس حوالے سے جو قوم پرستی کی سیاست کی جا رہی ہے وہ بالواسطہ طور پر عوام کو تقسیم کرنے اور ان میں نفرتیں بڑھانے کا سبب بن رہی ہے۔ ہماری قوم پرستی کی سیاست تو روزِ اوّل ہی سے فکری انتشار کا شکار ہے لیکن جب کوئی نظریاتی اور طبقاتی سیاست کرنے والا، قوم پرست سیاست کا راستہ اختیار کرتا دِکھائی دیتا ہے تو عوام کو طبقاتی بنیادوں پر منظم اور متحد کرنے کی امید ٹوٹ جاتی ہے۔

دنیا کی تاریخ ہجرتوں سے بھری پڑی ہے لیکن دنیا کے کسی ملک میں ڈنڈے کے زور پر زبان اور کلچر کو تبدیل کرنے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ خود سندھ میں جو دوست اردو اسپیکنگ کو سندھی بننے کا حکم دے رہے ہیں وہ خود باہر سے آئے ہوئے ہیں۔ سندھ کے اصلی باشندے تو کولہی اور بھیل بتائے جاتے ہیں اگر یہی حقیقت ہے تو پھر ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اردو بولنے والوں پر ''باہر سے آنے والوں'' کا الزام بے بنیاد ہو جاتا ہے۔ امریکا جو آج دنیا کی واحد سپر پاور ہے، اس کی تشکیل اس کو ملک بنانے والے تارکینِ وطن ہی تھے۔

زبان اور کلچر ڈنڈے کے زور پر نہیں بلکہ ایک طویل عمل سے گزرنے کے بعد اپنی شناخت بناتے ہیں، البتہ اس پروسیس کو محبت، بھائی چارے کی فضا اور رویوں سے تیز کیا جا سکتا ہے۔ گنگا جمنی تہذیب، غیر منقسم ہندوستان کا مشترکہ سرمایہ تھا۔ یہ تہذیب صدیوں کے تدریجی عمل کے ذریعے پیدا ہوئی ہے۔ اسے ہم صنعتی تہذیب بھی کہہ سکتے ہیں۔ 47ء کی تقسیم کے بعد جو لوگ ہندوستان سے پاکستان آئے، ان کا تعلق صنعتی کلچر سے ہے۔ بدقسمتی سے جو علاقے پاکستان میں شامل ہوئے وہ صنعتی نہیں تھے بلکہ یہ قبائلی اور فیوڈل معاشرے تھے۔ تاریخی طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ پس ماندہ معاشرے ترقی یافتہ معاشروں کی طرف بڑھتے ہیں اور یہ ساری تبدیلیاں صدیوں کے تعلق باہمی سے وقوع پذیر ہوتی ہیں۔

اگر تہذیب کا مطلب رہن سہن کے طریقے، کھانا پینا، پہننا اوڑھنا، رسم و رواج، روایات وغیرہ ہیں تو اس کے اثرات کا مطالعہ کرنا ضروری ہے، کہ ان حوالوں سے پاکستانی معاشروں میں کیا تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ اٹھنے، بیٹھنے، کھانے پینے، پہننے اوڑھنے، رہنے سہنے، شادی بیاہ کی رسومات میں جو تبدیلیاں ہم انتہائی پس ماندہ قبائلی نظاموں تک دیکھ رہے ہیں، اسے ہم گنگا جمنی تہذیب کی بالادستی نہیں بلکہ ایک مشترکہ تہذیب کی تشکیل کا نام دے سکتے ہیں۔ یہ تبدیلیاں نہ کسی تہذیب کی بالادستی ہیں، نہ کسی تہذیب کی زیردستی بلکہ صنعتی اور فیوڈل کلچر کے ملاپ سے ابھرتے ایک نئے کلچر کی نشانی ہے۔ قبائلی اور فیوڈل معاشروں میں شادی بیاہ کی بدلتی ہوئی رسموں کو کیا نام دیا جا سکتا ہے۔ رہنے سہنے، کھانے پینے، ملنے ملانے کے طریقوں میں آنے والی تبدیلیاں مثبت ہیں یا منفی، ترقی کی علامت ہیں یا پستی کی؟

اس حوالے سے ایک اور المیہ زبان کا ہے۔ اردو زبان کو مہاجروں کی زبان کا نام دے کر ایک تاریخی غلطی کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔ اردو صدیوں کے ارتقائی عمل سے گزر کر ایک بڑی زبان بنی، جس کا شمار دنیا کی چند بڑی زبانوں میں ہوتا ہے۔ اسے ہم رابطے کی زبان بھی کہتے ہیں۔ اسے یوپی، سی پی، حیدرآباد سے آنے والے مہاجرین کی زبان کہنا غیر منطقی اور تعصب پر مبنی ہی کہلا سکتا ہے۔ پاکستان کی علاقائی زبانوں کا فروغ اور سرپرستی ضروری ہے لیکن اس کی بنیاد تعصب اور نفرت پر نہیں بلکہ پیار، محبت اور اعتمادِ باہمی پر اٹھائی جانی چاہیے۔

پچھلے دنوں ایک گپ شپ کی نشست میں ایک صاحب نے یہ سوال اٹھایا کہ کراچی میں مبینہ طور پر 50 لاکھ پختون اتنی ہی تعداد میں پنجابی اور 20 لاکھ بنگالی رہتے ہیں۔ قوم پرست دوست انھیں سندھی بننے کی تلقین کیوں نہیں کرتے؟ اصل میں یہ موضوع سرے سے میرا موضوع ہے ہی نہیں کیونکہ ہوش سنبھالنے سے آج تک ہم نے طبقاتی سیاست کی ہے اور اس طبقاتی استحصالی نظام کے خاتمے کے لیے 18 کروڑ غریب عوام کا طبقاتی بنیادوں پر منظم ہونا ضروری ہے اور ہر وہ شخص جو اس نظام کا خلوصِ نیت سے خاتمہ چاہتا ہے، وہ کسی بھی حوالے سے انسانوں کی تقسیم کی حمایت نہیں کر سکتا۔ آج ہم اس موضوع پر لکھنے کے لیے اس لیے مجبور ہوئے کہ ہمارے ایک محترم دوست نے گنگا جمنی تہذیب اور اردو کاز کو منفی انداز میں کہا تھا، ورنہ یہ مسئلے تو عوام کو تقسیم کرنے والی اشرافیہ کی ضرورت ہیں۔

مقبول خبریں