دنیا بھر میں خوراک اور پھلوں کا بے تحاشا ضیاع

خوراک کے تحفظ کے لیے ریٹیل کے مراحل میں زیادہ احتیاط سے کام لینے پر زور دیا گیا ہے


Editorial October 16, 2019
خوراک کے تحفظ کے لیے ریٹیل کے مراحل میں زیادہ احتیاط سے کام لینے پر زور دیا گیا ہے۔ فوٹو: فائل

خوراک اور زراعت کی عالمی تنظیم (ایف اے او) کی طرف سے 2019کے لیے ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں جو خوراک پیدا ہوتی ہے وہ دکانوں تک پہنچتے پہنچتے اسٹوریج اور ٹرانسپورٹیشن کے مراحل میں کم از کم 14 فیصد ضایع ہو جاتی ہے۔ پھلوں اور سبزیوںکا ضیاع کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

اس سے قبل پاکستان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں پیدا ہونے والے پھلوں کے ضایع ہونے کے بارے میں بعض خبریں شایع ہوئی تھیں جن کے مطابق دور دراز کے پہاڑی علاقوں میں تو کئی مقامات پر سارے کا سارا پھل ہی ضایع ہو جاتا ہے کیونکہ ان کے نقل و حمل کے انتظامات ہی نہیں ہوتے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا میں خوراک اور پھل فروٹ کے ضیاع کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ اشیائے خوردنی کے تحفظ کے لیے سائٹفک بنیادوں پر زیادہ موثر اقدامات اور انتظامات کرنے چاہئیں کیونکہ دنیا پہلے ہی غذائی قلت کا شکار ہے اس لیے نئی فصلوں کی حفاظت کے انتظامات جدید سائنسی اور ٹیکنالوجی کی روشنی میں کیے جانے چاہئیں تاکہ اس قدر ضیاع نہ ہو جتنا کہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔

رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ خوراک اور دیگر اشیائے خوردنی کے تحفظ کے لیے نئے نئے طریقے اختیار اور دریافت کرنے چاہئیں تاکہ اشیائے خوردنی کی سپلائی متاثر نہ ہو۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اشیائے خوردونوش کی قلت کو دور کرنے کا بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ خوراک کو ضایع ہونے سے روکا جائے اور اس کے لیے ایسے مراحل پر زیادہ احتیاط برتی جائے جہاں پر خوراک کے ضایع ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں خوراک کے تحفظ کے لیے ریٹیل کے مراحل میں زیادہ احتیاط سے کام لینے پر زور دیا گیا ہے کیونکہ سب سے زیادہ ضیاع اس مرحلہ میں ہوتا ہے اور خوراک کا ضیاع نہ صرف یہ کہ بہت سے لوگوں کو بھوکا رکھنے کا باعث بنتا ہے بلکہ اس سے اقتصادی اور معاشی نقصان بھی ہوتا ہے۔

ایسے ممالک میں جہاں پر عوام کی آمدنی مقابلتاً کم ہوتی ہے وہاں پر تازہ پھل فروٹ اور تازہ غذا کی دیگر ممالک سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے لہٰذا یہ حکومتوں کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ خوراک کے ضایع ہونے کو روکنے کی سنجیدگی کے ساتھ کوششیں کریں۔ کم آمدنی والے ملکوں میں خوراک کا زیادہ ضیاع ان کی ناقص اسٹورنگ کے انتظامات کی وجہ سے ہوتا ہے۔

صنعتی ممالک میں گودام جدید سہولتوں سے آراستہ ہوتے ہیں اس لیے خوراک جلد خراب نہیں ہوتی، جب انھیں مارکیٹ میں لایا جاتا ہے تو ان کی قیمت بھی غریب ملکوں کی نسبت کم ہوتی ہے کیونکہ وہ چیزیں خوامخواہ میں ضایع ہونے سے بچ جاتی ہیں۔ خوراک و زراعت کی عالمی تنظیم ایف اے او نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ کھانے پینے کی اشیاء جہاں اسٹور کی جاتی ہیں ان کی بہتری پر خصوصی توجہ دیں تاکہ لاپرواہی کے نتیجے میں خوراک و زراعت کا نقصان نہ ہو۔

مقبول خبریں