کچھ شش پائے جان داروں کا ذکر
شش پائے کا نام کبھی آپ نے سنا ہے؟ نہیں سنا ہو گا کیونکہ عام طور پر لوگ یا تو دو پایوں کو جانتے ہیں۔
شش پائے کا نام کبھی آپ نے سنا ہے؟ نہیں سنا ہو گا کیونکہ عام طور پر لوگ یا تو دو پایوں کو جانتے ہیں، یا چار پایوں سے واقف ہیں، انسان دو پایہ جانوروں میں آتا ہے اور کچھ پرندے چرندے بھی اس قبیلے میں شمار ہوتے ہیں، باقی کے چار پایوں والے جانوروں کو بھی سب جانتے ہیں لیکن شش پایوں کا نام جیسا آپ نے نہیں سنا تھا، ویسا ہی ہم نے بھی نہیں سنا تھا، لیکن اب ہم یہ نام بھی سن چکے ہیں اور چار پائے جانوروں کو بھی جانتے ہیں اور اس کارنامے کا سہرا اس ''ون اینڈ اونلی'' چشم گل چشم کے سر جاتا ہے جو علامہ بریانی کے فتوے کے مطابق پہلے ڈینگی مچھر تھا اور آج کل قہر خداوندی کے مرتبے پر فائز ہے، ویسے اس کے القاب و آداب میں وہ تمام نام و الفاظ بھی شامل ہیں جو کسی شریف آدمی کی زبان پر کم آتے ہیں یا وہ الفاظ جو تحریری صورت میں صرف ڈکشنریوں کے اندر پائے جاتے ہیں ۔۔۔ جواب میں قہر خداوندی بھی کسی سے کم نہیں ہے، اس نے بھی علامہ پر ایسے ایسے نام چپکائے ہوئے ہیں جن کو ہم اس وجہ سے نہیں لکھ سکتے کہ ان ناموں والے لوگ بڑے بڑے مقامات اور مراتب کے حامل بھی ہیں مثلاً ایک نام ''کدو سرہ'' کو لے لیں جو اس کم بخت نے قدس سرہ کی پیروڈی کر کے ایجاد کیا ہے، اب دیکھئے تو ملک بھر میں کتنے ہی ایسے عالم مرتبت لوگ ہیں جن کے سر کدو جیسے ہیں شکلً اور معناً بھی کیونکہ کدو اندر سے خالی بھی ہوتا ہے جن کے اندر صرف طوطے پالے جاسکتے ہیں، ایک تو یہ ہمارا قلم بھی کچھ بے مہار سا ہے جدھر منہ اٹھا چل دیا، دراصل اسے قابو میں رکھنے کے لیے ہم نے جو ''پاسبان عقل'' رکھا تھا وہ زیادہ مہنگائی اور کم تن خوا کی وجہ سے نہ جانے کہاں بھاگ گیا چنانچہ اب ہاتھ باگ پر ہیں نہ پائے رکاب والا معاملہ ہے،
عقلم از خانہ بدورفت واگر مے ایں است
دیدم از پیش کہ در خانہ دینم چہ شود
بات اس ''شش پایوں'' کی ہو رہی تھی جو ناہنجار نابکار جہاں آزار قہر خداوندی چشم گل چشم نے دریافت کیے ہیں، ہم اس کا ذکر کبھی نہ کرتے لیکن بات دل کو لگتی ہے یا کم از کم دل کو چھو تو لیتی ہے، آپ بھی سنیں گے تو ہماری طرح عش عش کرنے لگیں گے کہ خاکستر سے کیا چنگاری نکالی ہے،
گرچہ چھوٹی ہے ذات بکری کی
دل کو لگتی ہے بات بکری کی
اب مزید آپ کے صبر اور برداشت کا امتحان نہ لیتے ہوئے بتا ہی دیں کہ ''شش پائے'' کا نام اس نے کرسی نشینوں کے لیے استعمال کیا ہے جن کے اپنے دو پاؤں ہوتے ہیں لیکن چار کرسی کے ملا کر چھ ہو جاتے ہیں، قہر خداوندی نے ڈارون کی ایسی تیسی اور اس کے نظریہ ارتقاء کی اینٹ سے اینٹ بجاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دراصل دو پایوں اور چار پایوں کی جدید اور ترقی یافتہ نسل ہے، ان میں وزیر امیر کبیر سفیر مشیر اور وہ تمام لوگ یا جاندار آجاتے ہیں جو کسی نہ کسی طرح کرسی نشین ہو جاتے ہیں اور اس وقت تک یہی چھ پاؤں استعمال کرتے ہیں جب تک بارہ پیروں کے لیے کوالیفائی نہیں کرتے بارہ پیر دراصل جنازے اور جنازہ برداروں کے ہوتے ہیں اور اگر اوپر لیٹے ہوئے کو بھی شمار کر لیں تو کل چودہ پاؤں ہو جاتے ہیں، یہ اب تک نظریہ ارتقاء کا آخری ریکارڈ ہے،
اللہ رے ذوق دشت نوردی کہ بعد مرگ
ہلتے ہیں خود بخود مرے اندر کفن پاؤں
ڈاکٹر امرود نے بھی اپنی ''آٹو بائی امرود گرافی'' میں لکھا ہے کہ جب میں اسپتال کے گیٹ پر امرود بیچتے ہوئے دس سال تک یہ دیکھتا رہا کہ لوگ اپنے دو پیروں سے چل کر آتے ہیں اور پھر بارہ پیروں پر واپس جاتے ہیں تو میں نے سوچا کہ یہ کون سا مشکل کام ہے جس کے لیے اتنی بڑی بڑی عمارتیں بنائیں گئی ہیں اور زرکثیر صرف کر کے کیا جاتا ہے، یہ کام تو میں اپنے گاؤں میں ایک کلینک ڈال کر بھی کر سکتا ہوں،
ھمہ کارم ز خود کامی بہ بدنامی کشید آری
نہاں کی ماند آں رازے کہ آں سازند محفلہا
ناہنجار نے جب دیکھا کہ ہم بغیر کسی نکتہ اعتراض کے بلا چوں چرا اس کا نظریہ سن رہے ہیں تو سیدھی سادی باتوں میں فلسفہ بھی ڈالنے لگا بلکہ کچھ کچھ دانش و سائنس کا تڑکا بھی دینا شروع کیا بولا، اگلے زمانوں میں جب لوگ زمین پر، مصلوں پر چٹائیوں پر یا قالینوں وغیرہ پر بیٹھتے تھے تو پیروں میں بھی مساوات تھی سب کے دو دو پاؤں ہی ہوتے تھے اور جب سواری کرتے تھے تو بھی چار ٹانگوں والی سواریاں استعمال کرتے تھے، امیر زیادہ سے زیادہ گھوڑے یا ہاتھی پر سواری کرتے تھے اور غریب اپنی غریبی ضرورتوں کو مسکین جہاں گدھے سے پوری کرتے تھے لیکن پاؤں پر سواری کے چار ہی ہوتے تھے لیکن ہوتے ہوتے بات جب سائنسی ایجادات اور بے جان سواریوں تک پہنچی تو بے چارے غریب دو پایوں کی سائیکل پر رہ گئے اور امیر چار پایوں کی سواری پر بیٹھنے لگے
مرہم کی جستجو میں پھرا ہوں جو دور دور
تن سے سو افگار میں اس خستہ تن کے پاؤں
اور یہ سلسلہ اب بھی برقرار ہے غریب دو پائے اب بھی اسی دو پائے سائیکل پر ہیں یا خود اپنے ہی پیروں پر گھسیٹتے ہیں لیکن کرسی نشین چار پایوں کی سواریاں استعمال کرتے کرتے شاید بور ہو گئے کہ دس دس پایوں یعنی ہوائی جہازوں اور سو سو پایوں والی ریلوں پر آگئے، ہم خوش ہو گئے آخر کار وہ موڑ آگیا جہاں ہم نکتہ اعتراض اٹھا سکتے تھے اس سستی کیے بغیر ہی نکتہ اعتراض مارتے ہوئے بولے کہ ہوائی جہاز کو تو ایک طرف کر دو کہ وہ خزندوں سے زیادہ پرندوں میں آتا ہے لیکن بس اور ریل میں تو غریب بھی سفر کر سکتے ہیں بل کہ ''بھی'' کی جگہ ''ہی'' لگا کر یوں کہئے کہ غریب ہی سب سے زیادہ پایوں والی سواریوں پر سفر کرتے ہیں اگر ہم نے سوچا کہ ناہنجار کے فلسفے کی اہم نے ہوا نکال دی ہے تو غلطی پر تھے وہ ناہنجاری کیا جو لاجواب ہو جائے اور کچھ ایسی ہی نگاہوں سے اسے دیکھنے بھی لگے تھے کہ
غیر ہو ناشاد کیوں کیسی کہی
چاہتا ہوں داد کیوں کیسی کہی
لیکن وہ ذرہ بھی بے مزہ ہوئے بغیر بولا ۔۔۔ کیا تم نے کبھی کسی ایسی سواری میں سفر کیا ہے، ہم نے کیا بارہا ۔۔۔ بولا ۔۔۔ تو ان میں کسی کو بھی بیٹھتے بھی دیکھا، سارے کھڑے یا لٹکے ہوئے تو رہتے ہیں، ہمیں یاد آیا کہ کم بخت سچ ہی تو بولتا ہے، ان سواریوں میں بیٹھنا تو صرف ان ہی کو نصیب ہوتا ہے جو نصیب والے ہوتے ہیں باقی بے نصیب تو کھڑے ہی رہتے ہیں، ان ہی دو پیروں پر ۔۔۔ گویا سواری کے اندر بھی سوار نہیں ہوتے اور ان ہی سواریوں کے اندر ہی اکثر لکھا بھی ہوتا ہے کہ
مقدر میں جو سختی تھی وہ مر کر بھی نہیں نکلی
قبر کھودی گئی میری تو پتھریلی زمین نکلی
قہر خداوندی میں آج ڈارون اور لامارک دونوں کی روحیں حلول کر چکی تھیں بات بلکہ اپنے فلسفے کو جاری رکھتے ہوئے بولا ۔۔۔ اور یہ تو دنیا جانتی ہے بلکہ شاید تم جیسا جاہل اور علامہ بریانی جیسا بابائے جہل بھی جانتا ہے کہ جس عضو کو استعمال نہیں کیا جاتا، وہ آہستہ آہستہ بیکار ہو جاتا ہے چنانچہ وہ دن دور نہیں جب ان ''شش پایوں'' کی اپنی خود کی ٹانگیں بھی بیکار ہو جائیں بلکہ بہت سوں کی تو ہو بھی چکی ہیں اور سارا دارو مدار کرسی کے چار پایوں پر رہ جائے کم از کم ایسے لوگوں کو تو ہم نے اب بھی دیکھا ہے اور دیکھ بھی رہے ہیں جہاں کرسی سے اترے کسی کام کے نہ رہے یا تو کسی اور جگہ جا کر کرسی نیشن ہوتے ہیں اور یا پھر وہی بارہ یا چودہ پیروں والی منزل مراد پا لیتے ہیں، کم از کم یہ آخری بات تو اس کی بالکل سچ تھی واقعی اکثر کرسی نشین بغیر کرسی کے چار پیروں کے بالکل ہی بیکار ہو جاتے ہیں، اس لیے کبھی اترنے کا نام نہیں لیتے اور اگر زبردستی ہٹا بھی دیے جاتے ہیں تو یا تو کسی اور کرسی کو پہلے ہی سے تاک چکے ہوتے ہیں اور یا دو چار ہی دنوں یا مہینوں میں یا سالوں میں ''بارہ چودہ'' ہو جاتے ہیں کیونکہ اپنے پیروں میں تو ان کی جان ہی باقی نہیں ہوتی ۔۔۔ ان چودہ یا بارہ پیروں پر سفر کرنے سے متعلق شاید کسی نے ایک شعر بھی کہا ہے کہ
ایسے تیراک بھی دیکھے ہیں مظفر ہم نے
غرق ہونے کے لیے بھی جو سہارا چاہیں