روشن خیالی ہمارے مسائل کا حل ہے

اسلام کے خلاف دشمنوں کی چال کا خاتمہ کرنے کے لیے روشن خیالی بہترین راستہ ہے۔


Zaheer Akhter Bedari October 10, 2013
[email protected]

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ملائیشیا کے وزیر اعظم محمد نجیب بن حاجی عبدالرزاق نے کہا ہے کہ ''اسلام کے خلاف دشمنوں کی چال کا خاتمہ کرنے کے لیے روشن خیالی بہترین راستہ ہے۔'' محمد نجیب نے مزید کہا ہے کہ فرقہ واریت مسلم دنیا کو چیر پھاڑ رہی ہے، فرقہ واریت مسلم دنیا کو باقی دنیا سے الگ رکھنے کی مذموم سازش ہے۔ فرقہ واریت کے ذریعے انتشار پھیلانے والوں سے نمٹنے کے لیے پوری دنیا کے امن پسند مسلمان اتحادکا مظاہرہ کریں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران ملائیشیا کے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مسلمانوں کو باہر سے نہیں سب سے زیادہ خطرہ اندر سے ہے۔ پاکستان، عراق اور شام میں ہونے والے شیعہ سنی فسادات میں صرف ماہ رمضان میں 5000 سے زیادہ مسلمان فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں، امن سے محبت کرنے والے مسلمانوں کی اکثریت کو ان شدت پسندوں کے خلاف متحد ہونا پڑے گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ قتل و غارت گری بند کرانے کے لیے ایک مشترکہ ایجنڈہ بنانے کے لیے ہم مل بیٹھیں، پوری دنیا میں عسکریت پسندی موت بانٹ کر مسلمانوں کی ترقی کے امکانات ضایع کر رہی ہے۔ ملائیشیا میں چینی اور بھارتی ہندو بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں ہم باہمی احترام کی ضرورت پر اتفاق کرتے ہیں اس لیے ہمارے ملک میں اقلیتیں پرامن زندگی گزار رہی ہیں۔

ملائیشیا 57 مسلم ملکوں میں تیزی سے ترقی کرنے والے ملک کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے اس کی ترقی کی ایک بڑی وجہ اس ملک کا امن ہے جن ملکوں میں امن ہوتا ہے ان ملکوں کے عوام خوف و دہشت سے آزاد ہوکر اپنی ساری توانائیاں اپنی ترقی پر لگاتے ہیں اور ایسے ملکوں میں اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ یہ سرمایہ کاری ملکی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جہاں مسلم ملکوں کے علاوہ دنیا بھرکے ملکوں کے نمایندے موجود تھے ملائیشیائی وزیر اعظم نے جس کرب اور امید سے مسلم دنیا کو درپیش فرقہ واریت سے ہونے والے نقصانات کا اور اس کے پیچھے کام کرتی سازش کا ذکر کیا ہے وہ بلاشبہ قابل تحسین ہے۔ لیکن اس حوالے سے جو سوالات سامنے آتے ہیں وہ یہ ہیں کہ فرقہ واریت کی سازش میں کون سی طاقتیں ملوث ہیں اور ان کے مقاصد کیا ہیں؟ مسلم ملکوں کے عوام کو خاک و خون سے بچانے اور اس خطرناک سازش کو روکنے کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

ملائیشیا کے وزیر اعظم نے فرقہ وارانہ تشدد کے حوالے سے پاکستان، عراق اور شام کا نام لیتے ہوئے بڑے دکھ سے کہا کہ ان تینوں ملکوں میں صرف ماہ رمضان میں پانچ ہزار سے زیادہ مسلمان موت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں یہ صرف ایک مہینے میں مارے جانے والے مسلمانوں کے اعداد و شمار ہیں جب کہ صورت حال یہ ہے کہ ان ملکوں میں ہر روز سیکڑوں مسلمان فرقہ واریت کی نذر ہورہے ہیں۔ پاکستان میں یہ عذاب جو لوگ مسلط کر رہے ہیں وہ کوئی ڈھکے چھپے لوگ نہیں ہیں بلکہ دھڑلے سے سرعام یہ تنظیمیں اس قتل و غارت کی ذمے داری قبول کر رہی ہیں جس میں اب تک 50 ہزار سے زیادہ مسلمان شہید ہوچکے ہیں۔ عراق میں فرقہ وارانہ قتل و غارت کی سنگینی پاکستان سے کم نہیں۔ عراق میں جب تک صدام حسین برسر اقتدار تھے ظلم کے کچھ واقعات کا ذکر تو ہوتا تھا لیکن شیعہ سنی قتل و غارت کا کوئی بڑا واقعہ صدام کے دور میں پیش نہیں آیا تھا۔ عراق میں شیعہ سنی قتل عام کا سلسلہ عراق پر امریکی قبضے کے بعد شروع ہوا۔ عراقی عوام کو فرقہ وارانہ جنگ میں دھکیلنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ عراق میں موجود امریکی اور اتحادی فوجیں بڑی حد تک محفوظ ہوگئیں۔

شام میں ہونے والی دہشت گردی کو مغرب بشارالاسد کی آمریت کے خلاف عوام کی جمہوری جنگ قرار دے رہا ہے لیکن دنیا حیرت سے اس جمہوری جنگ کو دیکھ رہی ہے جس میں القاعدہ اور پاکستان کے دہشت گرد لاکھوں کی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں اور امریکا، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان جمہوری گوریلوں کی ڈالر، ریال، درہم و دینار کی بھرمار کے ساتھ جدید ترین اسلحے سے مبینہ مدد کر رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف امریکا شام میں دہشت گردوں کو بشار الاسد کے خلاف باغیانہ جنگ میں کیوں استعمال کر رہا ہے اور مشرق وسطیٰ کے انتہائی مال دار ملک اس ''جمہوری جنگ'' میں اس کے اتحادی کیوں بنے ہوئے ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ملائیشیا کے وزیر اعظم کو تلاش کرنا چاہیے۔

مغربی ملکوں کے سیاسی اور اقتصادی مفادات کا تقاضہ یہ ہے کہ پسماندہ ملک تقسیم رہیں ان کی طاقت بٹی رہے انھیں اس بات سے ذرہ برابر دلچسپی نہیں ہوسکتی کہ مسلم ملکوں کے درمیان اختلافات کم ہوں یا ختم ہوں لہٰذا ان سے یہ امید کرنا حماقت ہی ہوگی کہ وہ مسلمانوں میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی کو ختم کرنے میں کوئی کردار ادا کریں گے۔ شام میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مغربی طاقتوں کے منصوبے کیا ہیں اور ان منصوبوں کی تکمیل میں خود بعض محترم عرب ملک کس شدت سے امریکا کا ساتھ دے رہے ہیں مسلم ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے جو تنظیم او آئی سی کے نام سے تشکیل دی گئی ہے وہ مکمل طور پر امریکا کے زیر اثر ہے اگر مسلم ملکوں کی یہ تنظیم مسلم ملکوں سے مخلص ہوتی تو مسلم ملکوں کو خون میں نہلانے والی فرقہ وارانہ جنگ کو روکنے میں موثر کردار ادا کرسکتی تھی۔ لیکن او آئی سی اس فقہی قتل و غارت سے قطعی لاتعلق ہے۔

مغربی ملکوں میں یہ تاثر عام ہے کہ مستقبل میں مسلم ملک ان کے لیے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں کیونکہ آبادی اور قدرتی وسائل کی بہتات کی وجہ سے مسلم ملک دنیا میں ایک بڑی طاقت بن کر ابھر سکتے ہیں اسی ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے مغربی ملک مسلم ملکوں میں ایسے حالات پیدا کرنے کے لیے کوشاں رہے ہیں کہ ان کی توجہ اپنی افرادی قوت اور اپنے بے بہا قدرتی وسائل کو اپنی اجتماعی ترقی کے لیے استعمال کرنے کی طرف مبذول نہ ہو اس پس منظر میں اگر ہم عراق، پاکستان اور شام میں فرقہ وارانہ جنگ پر نظر ڈالیں تو اس کے محرکات اس کے کردار اور اس کے مقاصد واضح طور پر سامنے آجاتے ہیں۔

امریکا ایک طرف تو لیبیا، تیونس اور مصر میں آمروں کے خلاف عوام کی جمہوری جدوجہد میں اپنی ہوائی طاقت کے ساتھ شامل ہوتا دکھائی دیتا ہے تو دوسری طرف عرب بادشاہتوں، عرب کی خاندانی اور قبائلی حکمرانیوں کا سرپرست اعلیٰ بنا ہوا ہے جب کہ اس کی معیشت کا عالم یہ ہے کہ اسے شٹ ڈاؤن جیسے بدترین اقدامات کا سہارا لینا پڑ رہا ہے جس کے نتیجے میں اس کے کئی سرکاری ادارے بند ہوگئے ہیں اور لاکھوں امریکی راتوں رات بے روزگاری کا شکار ہوگئے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر پرورش پانے والے بحران اب تیزی کے ساتھ باہر آرہے ہیں اور خود مغربی ملکوں کے حکمران مطالبہ کر رہے ہیں کہ دنیا کو اب ایک نئے اقتصادی نظام کی ضرورت ہے۔ لیکن دنیا کے اقتصادی ماہرین اس حوالے سے بے بس نظر آتے ہیں کہ وہ دنیا کے لیے ایک ایسا اقتصادی نظام وضع کرسکیں جو ڈوبتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کی جگہ لے سکے۔ جو نظام سوشلزم کی شکل میں دنیا کے سامنے آیا تھا کیونکہ وہ نظام سرمایہ داری کا حریف تھا اس لیے امریکا نے اس نظام کو تہس نہس کرنے میں اہم کردار ادا کیا اس نظام کی افادیت اور معاشی انصاف کی خصوصیت کی وجہ سے اس نظام کی مقبولیت میں اس تیزی سے اضافہ ہوا ہے کہ دیکھتے دیکھتے دنیا کا ایک تہائی حصہ اس نظام کے زیر اثر آگیا۔

دنیا میں مثبت اور منصفانہ تبدیلیاں لانے کے لیے روشن خیالی بنیادی ضرورت ہے اور سامراجی ملکوں نے روشن خیالی یا ترقی پسندی کو مسلمانوں کے لیے شجرہ ممنوعہ اس لیے بناکر رکھا کہ اگر دنیا کی اس 1/3 آبادی میں روشن خیالی فروغ پاتی ہے تو یہ باالواسطہ سامراجی ملکوں کے لیے خطرے کی گھنٹے بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا نے ڈالروں کی بھرمار کے ساتھ مسلم ملکوں میں ایسی قوتیں پیدا کردیں جو روشن خیالی کو کفر اور لادینیت کا نام دے کر سادہ لوح مسلمانوں کو اس سے بدظن کرانے کے مشن پر لگی رہیں۔ اس کا اثر اس قدر گہرا ہے کہ آج ہمارے اہل علم، اہل دانش، اہل قلم بھی ترقی پسندی پر طعنہ زنی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ملائیشیا کے وزیر اعظم کا یہ بیان کہ ''اسلام کے خلاف دشمنوں کی چال کو ناکام بنانے کا بہترین راستہ روشن خیالی ہے'' اپنے اندر ایک جہان معنی رکھتا ہے کاش مسلم ملکوں کے عوام اس فکر کے مثبت پہلوؤں کو سمجھ کر اس مثبت راستے پر چلنے کی کوشش کریں جس میں نہ صرف فرقہ وارانہ زہر کو ختم کرنے کی اہلیت ہے بلکہ دنیا کو امن اور خوشحالی کی دنیا میں بدلنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ روشن خیالی کے مضمرات اور ضرورت کا جائزہ ہم کسی اگلے کالم میں مدلل طریقے سے پیش کرینگے جس سے ترقی پسندی اور رجعت پسندی کے درمیان فرق کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

مقبول خبریں