شام حلب اور درعا میں بمباری 30 باغی ہلاک

شامی فضائیہ کے طیاروں اورہیلی کاپٹروں کا الیپوشہر کے نواح میں باغیوں کے زیرکنٹرول گاؤں سفائرکی سپلائی لائن پرحملہ


AFP October 11, 2013
شامی فضائیہ نے باغیوں کے الیپوشہر سے ملنے والے سپلائی روٹ کوتباہ کرنے کے لیے گزشتہ 2 روز سے بمباری جاری رکھی ہے۔فوٹو: اے پی/فائل

شام میں باغیوں کے خلاف جاری لڑائی کے دوران فضائیہ کی بمباری کے دوران 30 باغی ہلاک اوردرجنوں زخمی ہوگئے۔

ادھر کیمیائی ہتھیاروں کوتلف کرنے کے لیے 12 انسپکٹروں پرمشتمل عالمی ماہرین کی دوسری ٹیم بھی دمشق پہنچ گئی، ٹیم عالمی ماہرین کی معاونت کرے گی، اب ماہرین کی کل تعداد 27 ہوگئی۔ شام کی فضائیہ نے پہلا حملہ کاروباری ہب ساحلی شہرالیپو میں کیا، اس کارروائی میں شامی فوج کے بمبارطیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا، شہر کے مشرق میں مضافاتی گائوں سفائرمیں فضائی حملے میں 16 افراد مارے گئے جن میں ایک خاتون اور2 بچے بھی نشانہ بنے، اس گائوں پرباغیوں کا قبضہ بتایا جاتا ہے جنھیں القاعدہ کی مدد حاصل ہے۔ برطانوی نژاد انسانی حقوق گروپ کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے بتایا کہ شامی فضائیہ نے باغیوں کے الیپوشہر سے ملنے والے سپلائی روٹ کوتباہ کرنے کے لیے گزشتہ 2 روز سے بمباری جاری رکھی ہے۔




اسی طرح الیپوشہر کے مشرق ہی میں باغیوں کے زیرکنٹرول ایک اور گائوں منجیب میں بھی بمباری سے ایک خاتون اور ایک بچے سمیت 6 افراد ہلاک ہوگئے۔ جنوبی صوبہ درعا میں بھی ایک گائوں ناوا میں بھی شامی طیاروں کے فضائی حملے میں 2 بچوں سمیت 8 حکومت مخالف افراد مار دیے گئے۔ ایک جنرل کمیشن نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ ان فضائی حملوں میں درجنوں افرادکے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ملی ہیں جن میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ اسی طرح دمشق کے قریب بھی سیدہ زینب علاقے میں بوعیدہ اور دائیبائی میں بھی گھمسان کی لڑائی کے بعد حزب اللہ اور حکومتی ملیشیا نے باغیوں کو پیچھے دھکیل دیا۔

شامی سرکاری نیوز ایجنسی سنا کے مطابق حضرت بی بی سیدہ زینب کے مزار کے قریبی علاقوں دائیبائی اور حسینیہ پرحکومت اور اسکے اتحادی جنگوئوں نے قبضہ کرلیا ہے اور وہاں سے باغیوں کومار بھگایا ہے، اسی طرح فوج نے قریبی گائوں شیخ عمرو اور بساطین پربھی قبضہ کرلیا ہے۔ صوبہ حلب کے ضلع عزامیہ میں باغیوں نے ایک راکٹ فائرکیا جو مسجد بلال کے قریب گر کر زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں6 شہری موقع پرجاں بحق اور16زخمی ہوگئے۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے اسلحہ انسپکٹرز شام میں کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے میں مصروف عمل ہیں جن کی اقوام متحدہ کے ارکان بھی ساتھ دے رہے ہیں ۔ انتظامیہ کے مطابق20 سے زائد مقامات پرابھی کیمیائی ہتھیارتلف کرنے کا کام باقی ہے۔