لاہور کے آوارہ کتے اور چند یادیں
لاہور شہر سے ملحق کسی دوسری نئی آبادی کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔
خبر چھپی ہے کہ لاہور شہر کی انتظامیہ کے کتا مار محکمے نے لاہور سے کوئی ساڑھے تین سو آوارہ کتے ہلاک کر دیے ہیں۔ آج کے لاہور کی بات ہی اور ہے ایک زمانہ تھا جب لاہور صرف لاہور تھا اور میں ایک ہفت روزہ لیل و نہار میں فیچر نویسی کرتا تھا، ان دنوں خبر ملی کہ لاہور کی کارپوریشن کے کتا مار شعبے نے اتنے کتے ہلاک کر دیے ہیں۔ تعداد خاصی زیادہ تھی چنانچہ سوال پیدا ہوا کہ اتنے آوارہ کتے کہاں سے آ گئے کیونکہ لاہور ایک مختصر سا شہر تھا۔ ابھی اس کی توسیع کا پہلا مرحلہ ہی طے ہوا تھا اور صرف سمن آباد کی نو آبادی تعمیر ہوئی تھی۔
لاہور شہر سے ملحق کسی دوسری نئی آبادی کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔ لوگ پرانے مختصر سے لاہور پر گزارہ کرتے تھے اور یہیں کسی مکان کے اوپر کوئی منزل یا چوبارہ تعمیر کر لیتے تھے اور بس محلے کا رئیس کہلوانے کے لیے اتنا ہی کافی تھا چنانچہ اس شہر میں جب آوارہ کتوں کی یہ تعداد معلوم ہوئی اور صرف وہی تعداد جو ماری گئی دوسرے زندہ کتے ان کے علاوہ تھے تو ہمارے دفتر والوں کو میرے لیے ایک موضوع مل گیا کہ یہ آوارہ کتے کہاں سے آتے ہیں چنانچہ میں نے سائیکل پکڑی اور آوارہ کتوں کی آمد کے راستے معلوم کرنے شروع کیے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آوارہ کتے کا کوئی نام نہیں ہوتا اور یہی اس کی آوارگی کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے چنانچہ جس کتے کا کوئی نام نہ ہو اور اسے بلانے کے لیے آدمی بے بس ہو جائے تو وہ آوارہ ہوتا ہے۔
ان آوارہ کتوں کے بارے میں یہ معلوم ہوا کہ یہ سب لاہور کے نہیں بلکہ باہر کے 'شہری' ہیں جو کسی نہ کسی بہانے لاہور کی آبادی میں کھانے پینے کے لیے آ جاتے ہیں اور پھر لاہور سے باہر جانے کا نام نہیں لیتے۔ یہ کتے زیادہ تر لاہور آنے والے ریڑھوں کے ساتھ داخل ہوتے ہیں۔ بیل گاڑیاں بھوسا اور دوسرا سامان لے کر دیہات سے شہر کا رخ کرتی ہیں۔ دیہات کے کسی راستے پر سستاتے ہوئے یہ کتے جب کسی ریڑھے کو اپنے سامنے سے گزرتا ہوا دیکھتے ہیں تو چپ چاپ اس کے ساتھ چلنا شروع ہو جاتے ہیں اور اس طرح لاہور کے اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں جہاں اس ریڑھے کو پہنچنا ہوتا ہے۔ ریڑھا اپنے بیل سمیت واپس گائوں میں چلا جاتا ہے جب کہ اس کے ساتھ آنے والے کتے یہیں لاہور میں رہ جاتے ہیں۔
یہ گلیوں میں گھوم پھر کر روزی تلاش کرتے ہیں اور رات کو کسی دکان کے تھڑے کے نیچے لیٹ جاتے ہیں اور اسی طرح ان کے دن رات گزرتے رہتے ہیں۔ جب لاہور میں ہندو آباد تھے تو وہ کتوں کا خاص خیال رکھتے تھے اور انھیں کھلاتے پلاتے رہتے تھے۔ ان کے خیال میں ان کے مرنے والوں کی روحیں ان کتوں کی شکل میں زندہ رہتی تھیں لیکن نقل آبادی کے بعد جب صرف مسلمان باقی رہ گئے تو وہ اس جانور کو نجس سمجھتے تھے۔ کبھی کبھار از راہِ کرم انھیں کچھ ڈال دیا کرتے تھے ان آوارہ کتوں کی عیاشی کا مقام قصابوں کی دکانیں تھیں جہاں سے انھیں کچھ چھیچھڑے کھانے کو مل جاتے تھے اور یہ کھانا ان کی ایک عیاشی تھی۔ اس اعلیٰ خوراک میں بلیاں بھی کتوں کا حصہ دار بننے کی کوشش کرتی تھیں۔ کتے بلی کے ویر کی ایک بڑی وجہ یہی قصاب کی دکانیں اور گوشت کے چھیچھڑے تھے۔ خوراک کا جھگڑا اب تک باقی ہے اور کتا بلی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔
لاہور آنے والے آوارہ کتے زیادہ تر کھلی آبادیوں میں رہا کرتے کیونکہ اندرون شہر ان پر بہت تشدد کیا جاتا تھا اور یہ تنگ گلیاں ان آوارہ کتوں کو سنبھال بھی نہیں سکتی تھیں۔ ان گلیوں میں رہنے والے اس نجس اور پلید جانور کو گھروں سے دور رکھتے تھے۔ یہ آوارہ کتے شہر کی صفائی اور امن کے بھی دشمن تھے اس لیے لاہور کارپوریشن ان کو ہلاک کرنے کے لیے ایک خصوصی محکمہ رکھتی تھی۔ جس کے اہل کاروں کے پاس کتا مار بندوق ہوتی تھی اور ایک بوری جس میں وہ مردہ کتے کو ڈال کر لاہور سے باہر کسی مخصوص جگہ پر پھینک دیتے تھے۔ کارپوریشن کے اہل کار انھیں مار کر ان کی دُمیں سنبھال لیتے تھے جو ان کی کارکردگی کا ثبوت ہوتی تھیں۔ جو کتے بچ جاتے تھے اور کسی سڑک پر مقیم ہو جاتے تھے وہ اس سڑک پر باقاعدگی کے ساتھ آنے جانے والوں کو پہچان لیتے تھے۔
ہم صحافی جو رات کو مقرر راستے سے دیر سے گھر جاتے تھے یہ آوارہ کتے ان پر ایک نگہ غلط انداز ڈال کر سو جاتے تھے یا پھر دوسری طرف متوجہ ہو جاتے تھے کیونکہ وہ ان باقاعدہ مسافروں کو پہچانتے تھے لیکن ایک بار ایک کتے نے میری سائیکل پر حملہ کر دیا اور میری ٹانگ کو کاٹ لیا۔ مجھے یقین تھا کہ وہ کتا نیا تھا۔ میں نے کارپوریشن والوں کو اس کی نشاندہی کر دی تھی اور شاید وہ مارا گیا۔ البتہ مجھے پیٹ میں ٹیکے لگوانے پڑے۔ احتیاط کے لیے یہ ضروری تھا مجھے یاد ہے کہ جب ہمارے ایڈیٹر سید سبط حسن کو معلوم ہوا کہ کتے نے مجھے کاٹا ہے تو حکم ہوا کہ فوراً ٹیکے لگوائو سُستی نہ کرو۔ فیضؔ صاحب نے تاکید کی کہ یہ تصدیق کی جائے کہ اس نے ٹیکے لگوائے بھی ہیں یا نہیں کیونکہ اس عمر کے لوگ سُستی کر جاتے ہیں۔ یہ وہ خوبصورت زمانہ تھا جب ایڈیٹر اپنے اسٹاف کی سرپرستی اور نگہ بانی کرتے تھے اور ان سے باخبر رہتے تھے۔ ایک بار فیضؔ صاحب کو معلوم ہوا کہ میری جیب خالی ہے پہلے تو انھوں نے مجھے جھاڑا کہ میں فضول خرچی کیوں کرتا ہوں اور تنخواہ کدھر کرتا ہوں کیونکہ اس زمانے میں اس اخبار کے عملے کی تنخواہ سی ایس پی افسر کے برابر رکھی گئی تھی۔
آوارہ کتوں کے ذکر سے اور بھی بہت کچھ یاد آ رہا ہے مگر میں ان یادوں سے آپ کو کیوں تنگ کروں۔ اب اجازت اور عرض یہ ہے کہ یہ کتے اب تک لاہور کی گلیوں میں آوارہ پھرا کرتے ہیں اور ان کو ہلاک کرنے والا پرانا سلسلہ جاری ہے لیکن میں سائیکل پر نہیں موٹر کار میں ہوں اور کتوں کو دور سے چِڑھاتا رہتا ہوں۔ ان سے دوستی بہت پرانی ہے۔