چلی اور لبنان میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے

غریب ملکوں میں ایسے مظاہرے کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں


Editorial October 21, 2019
غریب ملکوں میں ایسے مظاہرے کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں (فوٹو : رائٹرز)

لاطینی امریکا کے خوشحال اور ترقی یافتہ ملک چلی میں ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھنے کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے اور یہ احتجاج پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہوگیا۔

عالمی میڈیا کے مطابق ملک کے دارالحکومت سان تیاگو کی سڑکوں پر گاڑیوں کے جلے ہوئے ٹائر اور ٹوڑ پھوڑ کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کے آثار بکھرے پڑے ہیں۔حالات قابو سے باہر ہوتے دیکھ کر چلی حکومت نے ایمر جنسی (ہنگامی حالت) نافذ کر دی ہے اور شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج اور نیم فوجی دستے طلب کر لیے گئے ہیں۔

ملک کے لوگ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے پہلے ہی پریشان تھے کہ میٹروبسوں کے کرایے بڑھانے کا اعلان سامنے آ گیا جس پر لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور وہ احتجاجاً سڑکوں پر آگئے، یوں شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے ۔ میڈیا کے مطابق یہ ہنگامے جمعہ کی شام شروع ہوئے تھے۔

جن میں ہفتے کے دن اور زیادہ شدت پیدا ہو گئی۔ میڈیا نے ایک خاتون سرکاری ملازم کے حوالے سے کہا ہے کہ حکومت کے خلاف احتجاج کا عام طریقہ ہنگامہ آرائی ہی ہے ورنہ حکومت عوامی مطالبات کو قطعاً کوئی اہمیت نہیں دیتی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ فوجی دستے شہر میں گشت کر رہے ہیں۔

چلی میں اس سے پہلے 1990 میں اس وقت ہنگامے ہوئے تھے جب ملک میں پنوشے کی آمریت ختم ہونے کے بعد جمہوریت بحال ہوئی تھی۔ چلی کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے خوبصورت ملک لبنان میں بھی لوگوں نے مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں جب کہ ہفتے کے دن یہ احتجاجی مظاہرے تیسرے دن میں داخل ہو گئے اور ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین قومی پرچم اٹھا کر حکومت کے خلاف مظاہروں میں شریک ہو گئے ۔

لبنان کا نام سن کر اور اس کے مطلب کو ذہن میں رکھ کر پنجابی زبان کا مشہور گیت ذہن میں آ جاتا تھا۔ جس میں اپنے محبوب کو چن میرے مکھنا کے نام سے پکارا گیا ہے۔لبنان عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب مکھن ہے اور لبنان والوں کو اپنا ملک اس قدر پسند ہے کہ انھوںنے اس کا نام ہی مکھن رکھ دیا ہے۔ لبنان جہاں شرق وسطیٰ کا سب سے زیادہ خوبصورت ملک ہے وہاں اس کے باشندے بھی پورے مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ خوبصورت' خوشی شکل اور خوش خصال لوگ ہیں۔

لبنان کے وزیراعظم سعد الحریری کے ساتھ ملاقات کے بعد وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومتی پالیسی پر اعتراض کرنے والوں کے ساتھ ایک تفصیلی ملاقات ہوئی تھی جس میں ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی اضافی ٹیکس عائد کرنے کی کوئی بات تھی جب کہ احتجاج کرنے والوں نے حکومت کی کئی پالیسیوں پر اعتراض کیا اور اس طرح مظاہرین کے طیش میں اضافہ ہوتا رہا، پھر وہ غصہ باہر نکل آیا۔

جس کا مظاہرہ لبنان کی سڑکوں پر نظر آنے لگا ہے۔لبنان میں مہنگائی اور ٹیکسوں کے خلاف عوامی مظاہرے ، اس اعتبار سے اہم ہیں کہ اس ملک میں نسلی اور مذہبی نفرت کی بنا پر ہنگامہ آرائی اور خانہ جنگی ہوتی رہی ہے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ عوام اپنے ایشوز کو اہمیت دے رہے ہیں ، اور حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف سڑ کوں پر نکلے ہیں۔

دنیا کے کئی ملکوں میں عوام نے اپنے ملکوں کی حکومتوں کی معاشی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ گزشتہ دنوں فرانس میں پیلی جیکٹ کے نام سے موسوم احتجاجی تحریک چلی تھی اور یہ اب کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔اس تحریک نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے اقدام کی وجہ سے جنم لیا۔چلی اور فرانس جیسے ترقی یافتہ ملکوں میں بھی عوام کی معاشی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔غریب ملکوں میں ایسے مظاہرے کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

مقبول خبریں