کنٹرول لائن پر بھارتی شرانگیزی اور جھوٹے دعوے

پاک فوج کی جوابی کارروائی سے بھارتی گنیں خاموش ہو گئیں


Editorial October 22, 2019
پاک فوج کی جوابی کارروائی سے بھارتی گنیں خاموش ہو گئیں . فوٹو : آئی ایس پی آر

ایل او سی پر بھارتی فوج کی مختلف سیکٹرز پر فائرنگ سے پاک فوج کا ایک لانس نائیک اور5شہری شہید جب کہ4خواتین سمیت 5 افراد زخمی ہوگئے۔ پاک فوج نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے بھارتی مورچوں کو نشانہ بنایا،جوابی کارروائی میں 9 بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، دو بھارتی بینکرز بھی تباہ ہوئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کا معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا مبینہ کیمپس کے خلاف کارروائی کا دعویٰ جھوٹا ہے۔

بھارتی فوج کی ایل او سی کے مختلف علاقوں میں سیز فائر کی خلاف ورزیاں جاری ہیں،بھارتی فوج نے شاہ کوٹ،نوسیری اور جوڑا سیکٹرز پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن سمیت مقامی و غیر ملکی میڈیا کو آزاد کشمیر تک اوپن رسائی دی گئی ہے جب کہ مقبوضہ کشمیر میں کسی کو جانے کی آزادی نہیں، بھارتی فوج کو ہرسیز فائر کی خلاف ورزی کا موثر جواب دیا جائے گا۔

پاک فوج کی جوابی کارروائی سے بھارتی گنیں خاموش ہو گئیں، بھارتی فوج نے اپنے ہلاک اورزخمی فوجیوں کواٹھانے کے لیے سفیدجھنڈالہرادیا، اسے اشتعال انگیزیوں سے پہلے یہ سوچناچاہیے تھا،فوجی آداب کاخیال رکھتے ہوئے شہری آبادی کونشانہ نہیں بناناچاہیے تھا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارتی آرمی چیف کاعہدہ انتہائی ذمے دارعہدہ ہے،بھارت نے کسی قسم کے کیمپ کونشانہ نہیں بنایا پاکستان میں بھارتی سفارتخانہ کسی بھی میڈیایا سفارتکاروں کودکھانے کے لیے لے جاسکتاہے۔ بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے پاکستان نے آزاد کشمیر میں شہری آبادی پر بمباری پر شدید احتجاج کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی قائم مقام ہائی کمشنرگوروو اہلووالیا کو ڈی جی جنوبی ایشیاء و سارک ڈاکٹر محمد فیصل نے طلب کیا اور احتجاجی مراسلہ ان کے سپرد کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی فورسز ایل و سی پر خودکار ہتھیاروں، بھاری اسلحے سے مسلسل شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہیں، بے گناہ شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت ہے،بھارتی فورسز کا طرزعمل بین الاقوامی انسانی حقوق، قوانین کی شدید خلاف ورزی ہے، بھارتی اشتعال انگیزیاں علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں،بھارت 2003 کے فائر بندی معاہدے کا احترام کرے۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے بیان میں ایل او سی پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارتی فائرنگ سے شہید پاک فوج کے جوان اور شہریوں کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہیں' انھوں نے بھارتی فوج کو منہ توڑ جواب دینے اور جرات و بہادری کا مظاہرہ کرنے پر پاک فوج کو سلام پیش کیا۔بھارت کی طرف سے ایل او سی پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے' پاکستان بھارت کی ہر جارحیت پر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتا چلا آ رہا ہے لیکن بھارت کسی قسم کے احتجاج کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے گاہے بگاہے فائرنگ کا سلسلہ شروع کر دیتا ہے۔ اس کا نشانہ زیادہ تر شہری ہوتے ہیں۔

جس سے اب تک درجنوں بے گناہ شہری شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے مبصرین کو بھی سرحدی علاقوں کا دورہ کرا کے صورت حال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ بھارت کس طرح جارحانہ رویہ اپنا کر سرحدوں پر جنگی فضا قائم کیے ہوئے ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان کے بار بار احتجاج کے باوجود نہ تو بھارت اپنی جارحیت سے باز آیا اور نہ اقوام متحدہ نے اس کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے بھارت پر کوئی دباؤ ڈالا۔ اب بھارت نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے نیا شوشہ چھوڑا ہے۔

بھارتی آرمی چیف ہرزہ سرائی کر رہے ہیں کہ بھارتی فوج نے آزاد کشمیر میں دہشت گردوں کے تین کیمپوں کو نشانہ بنایا ہے' بھارتی آرمی چیف ایک عرصے سے یاوہ گوئی کر رہے ہیں کہ وہ جب چاہیں آزاد کشمیر میں سرجیکل اسٹرائیک کر سکتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی آرمی چیف کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کا آزاد کشمیر میں دہشت گردوں کے کیمپ تباہ کرنے کا دعویٰ مایوس کن ہے' آزاد کشمیر میں کوئی کیمپ ہی نہیں تو کارروائی کیسی۔ انھوں نے بھارت کو چیلنج کیا کہ بھارتی سفارتخانہ پاکستان میں غیرملکی سفارتکاروں اور میڈیا کے ساتھ علاقے کا دورہ کر سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بھارتی سینئر عسکری قیادت کے جھوٹے دعوے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بوکھلاہٹ کا شکار بھارت خطے کا امن تباہ کرنا چاہتا ہے' اس نے جھوٹا دعویٰ کر کے بالا کوٹ پر حملہ کیا تھا لیکن اس حملے سے متعلق بھارتی جھوٹ دنیا میں بے نقاب ہو گیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کے بھرپور احتجاج کے باوجود بھارت سرحدی خلاف ورزیوں سے باز نہیں آ رہا اور نہ اقوام متحدہ اس کا سنجیدگی سے نوٹس لے رہی ہے' یہ صورت حال اس خطے کی سلامتی کے لیے بڑے خطرے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں