طالبعلم پر تشدد نجی اسکول کے ٹیچر کیخلاف مقدمہ درج

والدین کی شکایت کرنے پر اسکول انتظامیہ نے کسی قسم کی شرمندگی کا اظہار نہیں کیا۔


Staff Reporter September 01, 2012
والدین کی شکایت کرنے پر اسکول انتظامیہ نے کسی قسم کی شرمندگی کا اظہار نہیں کیا. فوٹو: فائل

طارق روڈ میں واقع نجی اسکول ٹیچر کیخلاف آٹھویں جماعت کے طالبعلم پر تشدد کرنے کا مقدمہ فیروز آباد تھانے میں درج کر لیا گیا، تفصیلات کے مطابق طارق روڈ پر واقع نجی اسکول کے ٹیچر راحیل راجوانی کے خلاف فیروز آباد تھانے میں آٹھویں جماعت کے طالب علم شیخ حشام ولد احتشام الحق کو تشدد کا نشانہ بنانے کا مقدمہ درج کر لیا۔

حشام کے وکیل واحد علی جعفری ایڈوکیٹ نے ایکسپریس کو بتایا کہ حشام کا چند روز قبل ہی طارق روڈ پر واقع ایک نجی اسکول میں داخلہ کرایا گیا تھا، 28 اگست کو جب اسکول جاتے ہوئے اس کو تیسرا روز تھا کہ صبح10بجے ٹیچر راحیل راجوانی نے حشام سے پوچھا کہ اسکول بیج کہاں ہے جس پر اس نے بیج اپنی جیب سے نکال کر دکھا دیا، اسکول بیج جیب میں رکھا دیکھ کر ٹیچر مشتعل ہو گیا اور بیج کی پن بچے کی ہاتھ میں گھسیڑ دی جس سے اس کے ہاتھ سے خون رسنا شروع ہو گیا، ٹیچر نے بچے کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پن اس لیے تمھارے ہاتھ میں گھسیڑی ہے تاکہ اب تم اسے بھولے سے بھی اپنی جیب میں نہ رکھو بلکہ اسے قمیض کی جیب پر لگا رکھو۔

حشام کے ہاتھ سے خون رسنے کے باوجود اسے طبی امداد نہیں دی گئی چھٹی کے بعد جب وہ گھر پہنچا تو اس نے اپنے والدین کو بتایا، والدین اسکول گئے تو انتظامیہ نے کسی قسم کی شرمندگی ظاہر کرنے کے بجائے اسکول طریقہ کار کے بارے میں بتانا شروع کر دیاجس پر ان کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا،اسکول انتظامیہ نے فیروز آباد تھانے کے تفتیشی افسر کو سے غلط بیانی سے بیان لیتے ہوئے کہا ہے کہ بچے کے والد نے ٹیچر کو دھمکیاں دینے کیلیے بدمعاش بھیجے تھے، واقعے کی تفتیش جاری ہے۔