حکومت واپوزیشن سے تاریخ سازفیصلے کی توقع

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن مائنس ون چاہتی ہے لیکن وہ کسی صورت استعفیٰ نہیں دیںگے


Editorial October 25, 2019
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن مائنس ون چاہتی ہے لیکن وہ کسی صورت استعفیٰ نہیں دیںگے، فوٹوفائل

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن مائنس ون چاہتی ہے لیکن وہ کسی صورت استعفیٰ نہیں دیں گے، ہمارے دھرنے اور مولانا فضل الرحمان کے مارچ میں بڑا فرق ہے۔ ایسا لگتا ہے مولانا فضل الرحمان کے پیچھے بیرونی قوتیں ہیں۔ ان کا چارٹر آف ڈیمانڈ واضح نہیں پھر بھی ہم آزادی مارچ کی اجازت دیں گے۔

سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز سے ملاقات میں عمران خان نے کہا مولانا فضل الرحمان کے میڈیا انٹرویوز پر پابندی نہیں، مولانا سے مذاکرات جاری ہیں ، اپوزیشن مذاکرات میں سنجیدہ معلوم نہیں ہوتی، میں نے حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کو یہ مینڈیٹ دیا ہے کہ اگر یہ پر امن احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو ہم تیار ہیں، ابھی تو مذاکرات کر رہے ہیں، اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تواس کے بعد کی صورت حال کا پھر سوچیں گے۔

ادھر سیاسی حلقوں اور اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ دوطرفہ بات چیت کا درکھلا ہے، حکومت نے آزادی مارچ کی مشروط اجازت بھی دے دی ہے، رہبرکمیٹی سے آج مذاکرات بھی ہوںگے ، وزیراعظم آفس کے مطابق احتجاج آئین کے مطابق ہوا تو رکاوٹ نہیں ڈالیں گے، حکومتی کمیٹی نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی اور انھیں اعتماد میں لیا ، حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے اکرم درانی جب کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویزالہٰی نے مولانا فضل الرحمان سے فون پر رابطہ کیا ، تاہم جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سکھر میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ یہ ماضی کی روایات سے بالکل برعکس ہے، پہلی بار آزادی کا احساس قوم کے ذہنوں میں ہے۔

انھوں نے انتباہ کیا کہ ہم ہر انتہائی قدم کے لیے تیار ہیں، جے یو آئی کے سربراہ کے مطابق ناجائز حکومت کوگھر جانا ہوگا ، مولانا غفور حیدری نے کہا کہ اسلام آباد میں ایمرجنسی لگی ہے، حکومت ڈنڈوں سے نہ ڈرائے ، انھوں نے حکمرانوں سے بیک ڈور رابطوں کی تردید کی اورکہا کہ خود اسلام آباد کو لاکڈ ڈاؤن کرنے کا اہتمام حکومت نے کیا ہے ۔ ہماری مشکل آسان ہوگئی۔

ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف سے ملنے والی ہدایات کے بعد لائحہ عمل قوم کے سامنے لائیںگے ۔ وفاقی معاون خصوصی برائے اطلاعات نے کہا کہ نئے پاکستان میںقانون کسی کے تابع نہیں ، اپوزیشن ڈنڈے لائی تو حکومت بھی ڈنڈا اٹھائے گی۔ دریںاثنا پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اسلام کوٹ میں جلسے سے خطاب کیا اورکہا کہ ملک میں کٹھ پتلی راج کی جگہ جلد عوامی حکومت بنے گی۔ چیئرمین پی پی نے کہا کہ ہاریوں کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے، حکومت عوام کا خون چوس رہی ہے۔ رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم درانی کا کہنا تھا کہ ہم نے وزیر اعظم سے استعفیٰ مانگا ہے وہ لے کر ہی جائیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ تقریباً تیرہ ماہ بعد پی ٹی آئی حکومت کے خلاف آزادی مارچ اور دھرنے کا شور برپا ہوا، ملکی سیاست پیدا شدہ صورت حال کا اعصاب شکن منظر نامہ پیش کر رہی ہے، مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت نے اپوزیشن سے پر امن ڈیل کا اہم دورانیہ ضایع کیا گیا جب کہ حکمرانوں کا کہنا تھا کہ خراب ڈیل سیاست میں بدترین worst ڈیل ہوتی ہے، اس کا نہ کرنا ملک کے مفاد میں ہو گا ، بین السطور میں گوررننس ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے، اس لیے حکومت کوشش اور معاشی بریک تھروکے اعلانات کے باوجود عملی طور پر مسائل کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے۔

ادھر وزیر اعظم نے موجودہ بحران کے پس پردہ بیرونی قوتوں کے سرگرم ہونے کا عندیہ دیا ہے، ساتھ ہی وزیر اعظم کا امکانی یا سربستہ صورت حال اور سیاسی خدشہ کے حوالہ سے یہ کہنا معنی خیز ہے کہ موجودہ سیاسی صورت حال کے حوالے سے سب کچھ منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اپوزیشن چاہتی کیا ہے؟ لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت کے لیے یہ استدلال دینا بہت مشکل ہو گا کہ اہل اقتدارکو ابھی خبر ہی نہیں کہ اپوزیشن کے ترکش میں کون سے تیر ہیں جو حکومت کو رخصت کرنے کے لیے چلائے جانے ہیں، جب کہ بادی النظر میں تو صورت حال دو اور دوچارکی طرح واضح ہوتی جا رہی ہے کہ اپوزیشن کا آزادی مارچ شو ڈاؤن 27 اکتوبر کو شروع ہوگا اور حزب اختلاف کی اہم سیاسی جماعتوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ 31 اکتوبر اس کے اسلام آباد پہنچنے کا دن ہوگا۔

واضح رہے سیاسی کشمکش کے تناظر میںسیاسی حلقوں نے نوازشریف کی بگڑتی صحت اور طبیعت پر گہری تشویش ظاہرکی ہے، جن کے پلیٹ لیٹس میں کمی پر میڈیکل ٹیم نے سرجوڑ لیا ہے، کراچی سے سینئر ڈاکٹر طلب کر لیے گئے، سروسز اسپتال میں مریم نوازکی والد سے ملاقات ہوئی۔ صحت پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ ان کے ہاتھ میں نہیں ہے اس کا فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔ وزیراعظم نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ نوازشریف کو بہترین سہولیات دی جائیں۔ سابق صدر آصف زرداری بھی سخت علیل ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ حکومت کی طرف سے کہہ رہا ہوں کہ جس نے بھی مولانا فضل الرحمان کا انٹرویو کرنا ہے وہ کرسکتا ہے۔

ان پرکسی پابندی کا مجھے علم نہیں۔ مہنگائی پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا اگر پاکستان ڈیفالٹ کر جائے تو اس سے بھی زیادہ مہنگائی ہوگی۔ معیشت کی صورت حال بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہمیں خوف تھا کہ دیوالیہ ہوجائیں گے اگر تین ملک مدد نہ کرتے تو صورت حال اسی طرف جاتی۔ دس ارب ڈالرکی قسطیں ایک سال میں دینا تھیں، روپیہ اور بھی گرسکتا تھا، پہلے دن یہ کہا تھا کہ مشکل وقت گزارنا ہوگا، اب صورت حال بہتری کی طرف جا رہی ہے۔ کسی حکومت کو ایسے حالات، میڈیا کی تنقید اور اپوزیشن نہیں ملی، میڈیا پر ذمے داری ہے کہ کوئی غلط کام کریں تو اس کو بے نقاب کریں لیکن اگر اچھا کریں تو اس کی تعریف بھی کریں۔ اپوزیشن کا ایک ہی مسئلہ ہے اور وہ این آر او کا ہے۔

یہ لوگ مائنس عمران کرنے کا کہتے ہیں، میری حکومت آسان ہو جائے اگر ان کو این آر او دے دوں۔ گرفتار رہنماؤں کو آج باہر جانے کی اجازت دے دیں تو زندگی آسان ہوجائے گی۔ ہمارا فوجی قیادت کے ساتھ اعتماد کا رشتہ ہے، ملٹر ی اسٹیبلشمنٹ سول حکومت کے ساتھ کھڑی ہے ۔کرتار پور راہداری کھولنے سے بین الاقوامی سطح پر ہمارا وقار بہت بلند ہوا ہے، یہ راہداری سکھ یاتریوں اور ہمارے ٹور ازم کے لیے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا سعودی عرب اور ایران کے درمیان تنازع اگر بڑھتا ہے تو یہ ہمارے لیے ڈراؤنا خواب ہوگا، اس لیے ہم صلح کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوجائیں۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ ان دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہو ، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ سعودی عرب اور ایران کے وزرائے خارجہ پاکستان آکر بات کریں۔ عمران نے کہا کہ کشمیری پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں، یہ معاملہ جہاں تک پہنچ چکا ہے، اس سے پہلے ایسا نہیں ہوا۔

ضرورت حکومت اور اپوزیشن میں بات چیت کے ذریعے موجودہ بحران کا حل تلاش کرنے کی ہے۔ گیند حکومت کے کورٹ میںہے، اپوزیشن سے مزاکرات کی حکمت عملی کا مثبت حل نکلنا چاہیے، ملک کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ، تند وتیزبیانات سے لگی آگ نہیںبجھ سکتی، اس کے لیے دونوں طرف سے سیاست کے اعلیٰ دماغ سر جوڑکر بیٹھیں، رہبرکمیٹی اور حکومتی کمیٹی ''آج '' کی بات چیت کو ٹیسٹ کیس سمجھے۔ پانی سر سے اونچا ہورہا ہے ، دانشمندی کا تقاضہ ہے کہ حکمراںاور اپوزیشن ملک کے عظیم تر مفاد میں ایسا تاریخ ساز فیصلہ کریں کہ جس میں جمہوریت اور قوم کی جیت ہو۔

مقبول خبریں