قوم سیاسی اتفاق رائے دیکھنے کی منتظر

سندھ میں تعلیم کے فروغ کے لیے ایشیا ئی ترقیاتی بینک 7.5 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا


Editorial October 29, 2019
سندھ میں تعلیم کے فروغ کے لیے ایشیا ئی ترقیاتی بینک 7.5 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا۔ فوٹو: فائل

ملکی سیاسی ومعاشی صورتحال کی کشمکش اور جمہوری عمل کا دلچسپ تسلسل جاری ہے، سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے ملک سیاسی بلوغت اور پختگی کی طرف گامزن ہے۔

پیرکو وزیر اعظم عمران خان نے بلدیاتی الیکشن مارچ اور مئی میں کرانے کا اعلان کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ میری زندگی میں این آر او نہیں ملے گا۔ وہ ننکانہ میں باباگرو نانک یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ دریں اثناء جمعیت علمائے اسلام (ف) اور دیگر سیاسی پارٹیزکا آزادی مارچ جاری ہے، قافلے مارچ کا حصہ بنتے جارہے ہیں، لگتا ہے کہ اسلام آباد میں ایک بڑا اجتماع دیکھنے میں آئے گا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ طبل جنگ بج چکا ، پیچھے نہیں ہٹیں گے، سیاسی مبصرین نے اسے غیرمعمولی اعصابی جنگ سے تعبیر کیا ہے، ادھر اسٹیٹ بینک نے 30 جون کو ختم ہونے والے مالی سال کا معاشی جائزہ پیش کیا ہے جس کے مطابق مالی سال19۔ 2018 ملکی معیشت کے لیے بحران کا سال رہا ، معاشی ترقی کی شرح نمو نصف رہ گئی، ملکی تاریخ کے بلند ترین خسارے کا سامنا کرنا پڑا ، مہنگائی کا جن بھی بے قابو ہوگیا ، زرعی اور صنعتی شعبہ پر بھی جمود طاری رہا، عوام کو رواں مالی سال بھی مہنگائی کے طوفان کا سامنا ہوگا ، افراط زر 12فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ کے پیش نظر حکومتی حکمت عملی اہمیت کی حامل ہے ، جو آزادی مارچ اور ملکی جمہوری فضا میں عمومی سیاسی سمت کا تعین کرے گی، سیاسی مطلع صاف نہیں، عوام میں اضطراب ہے، سیاسی محاذ آرائی ، بنیادی سہولتوں سے محرومی، بجلی،گیس،ٹرانسپورٹ اور دیگر مصارف زندگی نے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے اپنا ایجنڈا واضح نہیں کیا ہے، ابھی اس بات پر بحث جاری ہے کہ معاملہ آزادی مارچ تک ہے یا دھرنا بھی اس عمل کا حصہ ہے، میڈیا نے سیاسی حلقوں اور رائے عامہ کے درمیان ایک متوازن تقابل پیش کیا ہے، ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ معاشی صورتحال بظاہر بہترہوتی جا رہی ہے، جمود ختم ہو رہا ہے۔

پاکستان کو 6ارب ڈالر کی دوسری قسط کے اجراء کے لیے آئی ایم ایف کا جائزہ مشن پاکستان پہنچ چکا ہے، اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کے ساتھ حصص کی مالیت 23 ارب بڑھ گئی، ساتھ ہی آئی ایم ایف نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بڑھتا ہوا قرض پاکستان کی اقتصادی شرح نمو میں رکاوٹ بن سکتا ہے، جب کہ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، یوں معیشت ایک ملی جلی کیفیت کی غمازی کرتی ہے، تاجروں کی شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے، آل پاکستان انجمن تاجران، بزنس مین فرنٹ پروگریسو گروپ، آزاد گروپ، اور قومی تاجر اتحاد کے رہنماؤں نے خرید وفروخت پر شناختی کارڈ شرط اور سیلز رجسٹریشن ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قانون سازی اور صدارتی آرڈیننس کے اجراء تک ہڑتال موخر نہیں ہوگی۔کراچی کے چھوٹے تاجروں نے بھی ہڑتال کی حمایت کی ہے، شٹر ڈاؤن ہڑتال 28-29 تک جاری رہے گی، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے یاد دلایا ہے کہ کراچی ٹیکس ریونیو کا 60 فی صد دیتا ہے، ادھر سندھ میں تعلیم کے فروغ کے لیے ایشیا ئی ترقیاتی بینک 7.5 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا۔

ادھر دھابے جی اکنامک زون پر باقاعدہ کام شروع کرنے کی نوید بھی سنائی گئی، ایک اخباری اطلاع کے مطابق پاک چین مشترکہ گروپ میں انکشاف ہوا ہے کہ سی پیک کے تحت کوئٹہ ماس ٹرانزٹ پراجیکٹ روکنے سے چین نے پاکستان کو آگاہ کردیا ہے، بتایا جاتا ہے کہ منصوبہ بلوچستان حکومت نے روکا، اورنج لائن میں رکاوٹیں آرہی ہیں، معاشی ذرائع کا کہنا ہے کہ جرمن جریدہ دویچے ویلز نے کچھ ماہ قبل سی پیک منصوبہ کی جزوی بندش کی خبر دی تھی جس کی وضاحت حکومت نے بروقت کی تاہم ایک گیم چینجر منصوبے کے حوالہ سے تشویشناک اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔

بلاشبہ سیاسی افق اور معاشی تناظر میں عوام کو متضاد خبریں دستیاب ہیں، اب حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ سیاسی اور معاشی صورتحال میں توازن ، ہم آہنگی اور حقیقت پسندانہ مطابقت پیدا کرنے میں پہل کریں، سیاسی قیادت اس کنفوژن کو دورکرے کہ ملکی حالات میں بریک تھروکے لیے ارباب اختیار اقتصادی عوام اور معاشی ماہرین پر انحصارکر رہے ہیں جب کہ سیاسی اور جمہوری عمل اور سیاسی پیش رفت کا تقاضہ ہے کہ قوم میں اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے سیاسی، سماجی اور معاشی میدان میں اسٹیک ہولڈرز ایک پیج پر رہیں اور قوم کو یہ نظر بھی آئے۔

مقبول خبریں