چین کا امریکا اوربھارت کو انتباہ

حقیقت میں معیشت ایک غیرمعمولی کروٹ کے بغیر جمود شکن ثابت نہیں ہو سکتی


Editorial October 30, 2019
حقیقت میں معیشت ایک غیرمعمولی کروٹ کے بغیر جمود شکن ثابت نہیں ہو سکتی۔ فوٹو: فائل

معاشی بریک تھرو کے لیے حکومتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ معاشی استحکام اور سیاسی دباؤ کے خاتمہ کے لیے ماہرین اقتصادیات کے آئی ایم اے جائزہ مشن سے رابطے جاری ہیں اور چین نے بھی نے خبردار کیا ہے کہ چند ممالک ایجنڈے کے تحت پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، چین نے انتباہ کیا کہ پاکستان کو ایف اے ٹی اے کی بلیک لسٹ میں نہیں ڈالنے دیں گے، چین نے ایف اے ٹی ایف کے معاملہ پر پاکستان کی ہر سطح پر حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کارروائیاں قابل تعریف ہیں اور اس کی طرف سے امریکا اور بھارت پر واضح کردینا کہ پاکستان کے خلاف ایف اے ٹی ایف کے حوالہ سے ممکنہ کارروائیوں کی سخت مزاحمت کی جائے گی بر وقت عندیہ اور وارننگ ہے۔

ذرایع کا کہنا کہ بھارت نے ایف اے ٹی ایف کے فورم کو پاکستان کے خلاف معاندانہ اقدامات کے لیے استعمال کرنے کی کئی بارکوشش کی، لیکن چین کے دو ٹوک موقف نے مودی حکومت کے لیے ایسا کرنا مشکل بنا دیا۔ چین کے ایشیائی امور سے متعلق پالیسی ساز محکمے کے ڈائریکٹر جنرل ہاؤ وین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف رکن ملکوں کی مدد کرنا ہے، کسی کو بلیک لسٹ میں ڈالنا نہیں، انھوں نے کہا کہ چین ہر قسم کے ایجنڈے کی مخالفت کرتا ہے، اصل میں معاشی بند گلی سے نکلنے کی جتنی کوشش ملکی معاشی مسیحاؤں کوکرنی چاہیے۔

اس سے زیادہ ہماری مدد کو چین آیا ہے، لہذا بھارت کی چین مخالف سیاسی سرگرمیوں میں بھی شدت کی لہر دیکھنے میں آتی ہے اور کشمیر سمیت افغانستان اور بلوچستان میں بھارت پاکستان کے اقتصادی مفادات اور معاشی استحکام کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لیے ہر فورم پر اعتراضات اور مخالفانہ بونگیاں مارنے سے باز نہیں آتا، اسے انٹرنیشنل سول ایوی ایشن ادارے کی طرف سے بھی شرمندگی اٹھانی پڑی، جب فضائی حدود کی بندش پر عالمی ادارے نے بھارتی درخواست مسترد کر دی، عالمی ادارے کا کہنا تھا کہ ملکی اور فوجی سربراہوں کو لے جانے جانیوالی پروازیں ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں، ہم صرف سویلین پروازوں کے خلاف ایکشن لے سکتے ہیں۔ ادھر ملکی اور غیر ملکی اقتصادی معاونت کے محاذ پر بھی پاکستان کی سرگرمی دیکھی جا سکتی ہے۔

ذرایع کا کہنا ہے پاکستان نے آئی ایم ایف سے درخواست کی ہے کہ ملک کے مالیاتی نظام کو ہموار انداز سے چلانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی کے اثر کا تدارک کرنے کے لیے دولت کی مقامی ذرایع سے فراہمی پر عائد پابندیاں نرم کی جائیں۔ یہ درخواست آئی ایم ایف کے وفد اور حکومتی ٹیم کے مابین گزشتہ روز ہونے والے مذاکرات کے دوران کی گئی۔ مذاکرات میں حکومت کی نمایندگی مشیرخزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کر رہے تھے، جب کہ گورنر اسٹیٹ بینک رضاباقر، سیکریٹری خزانہ نوید کامران بلوچ، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اور خصوصی سیکریٹری فنانس عمر حمید خان بھی موجود تھے۔

آئی ایم ایف کی ٹیم کی سربراہی ارنیستو رمیریز ریگو کر رہے تھے۔ ذرایع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں اسٹیٹ بینک نے مرکزی بینک کے خالص مقامی اثاثوں ( نیٹ ڈومیسٹک ایسٹ ) پر شرائط نرم کرنے کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ ذرایع کے مطابق پہلی سہ ماہی کے لیے پاکستان نے خالص مقامی اثاثوں کا ہدف اگرچہ حاصل کر لیا مگر مستقبل کے اہداف سخت ہیں جن کی وجہ سے بینکاری نظام کے لیے لیکوڈٹی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ذرایع کے مطابق مجموعی طور پر آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان جاری مذاکرات ہموار انداز میں آگے بڑھنے کی توقع تھی، صرف ٹیکس محصولات اور پاور ٹیرف پر بحث و تمحیص ہونی تھی۔

ذرایع کے مطابق آئی ایم ایف گردشی قرضوں میں کمی کے حوالے سے پاور ڈویژن کے پیش کردہ اعداد و شمار اور ٹیکس وصولیوں کے بلند ہدف کے حصول میں ایف بی آر کے احکامات سے مطمئن نہیں تھا۔ وزارت خزانہ سے جاری کردہ بیان کے مطابق مشیر خزانہ نے آئی ایم ایف کی ٹیم کے سربراہ ارنیستو رمیریز ریگو سے کہا کہ جاری کھاتے اور مالیاتی خسارے اور شرح مبادلہ کا استحکام معیشت کو طویل مدتی گروتھ ٹریک پر لانے کے لیے حکومتی کوششوں کی کامیابی کی دلیل ہے۔ مشیر خزانہ نے ٹیکس ریونیو پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نان ٹیکس ریونیو میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

حقیقت میں معیشت ایک غیرمعمولی کروٹ کے بغیر جمود شکن ثابت نہیں ہو سکتی۔ ماہرین کے مطابق مسائل کثیر جہتی ہیں، حکومت نمائشی ریلیف یا تبدیلی اور اعداد و شمار یا ٹیکس الجھنوں میں گرفتار ہے، جب کہ عوام مسائل کا حل چاہتے ہیں ، ضرورت اجتماعی معاشی دانش مندی اور عوام دوست معاشی بریک تھروکرنے کی ہے، اس کے لیے لازم ہے کہ روایتی معاشی سوچ، فرسودہ اقتصادی اقدامات سے بڑھ کر دلیرانہ فیصلے کیے جائیں، غلط اور لاحاصل اقدامات سے قوم کو مطمئن کرنے سے گریز کیا جائے۔ ارباب اختیار ادراک کریں کہ حکومت سیاسی طور پر دیوار سے لگنے کا انتظار نہ کرے ۔ وقت کم ہے۔ ملکی معیشت اور سیاسی بحران کا مشترکہ حل اقتصادی اور سیاسی بصیرت میں مضمر ہے۔

مقبول خبریں