معاشی ترقی کیلیے حکومت صنعت دشمنی ترک کر دے کاٹی

اسحاق ڈار پچھلی حکومت پر تنقید کرتے تھے، خود ملک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھوا دیا


Business Reporter October 15, 2013
موجودہ حکومت نے ملک و قوم اور قومی اداروں کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھوا دیا ہے ،کاٹی ۔ فوٹو: فائل

کراچی میں قیام امن کے باوجود صنعت کاراپنی صنعتوں کو چلانے کی صلاحیت سے قاصر ہیں ۔

کیونکہ وفاقی حکومت صنعت دشمن پالیسی اختیار کرتے ہوئے صنعت کاروں کو اپنا غلام بنانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے۔ یہ بات کاٹی کے سابق چیئرمین سینیٹر عبدالحسیب خان نے گزشتہ شب ایف بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈاینڈ انڈسٹری کے سالانہ عشائیے سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار جب اپوزیشن میں بیٹھ کرصنعتی شعبے کی ترقی اور سابقہ حکومت کی پالیسیوں پر جو تنقید کرتے تھے وہ بحیثیت سینیٹر ہمیں یاد ہیں لیکن حکمران بنتے ہی موجودہ وزیرخزانہ نے اپنا رویہ تبدیل کر دیا ہے۔

موجودہ حکومت نے ملک و قوم اور قومی اداروں کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھوا دیا ہے اور حیرت انگیز طور پر موجودہ حکومت نے اس بات پر بھی اتفاق کرلیا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان مالیاتی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اگر خلوص نیت کے ساتھ معیشت کو ترقی کی جانب دیکھنا چاہتے ہیں تو پہلے انہیں صنعت دشمن پالیسیاں تبدیل کرنی ہوں گی، پٹرولیم مصنوعات اور گیس وبجلی ٹیرف میں کمی کے ساتھ پی آئی اے، پاکستان اسٹیل سمیت دیگر تمام قومی اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو تحلیل کرتے ہوئے اہلیت قابلیت تجربے اور ایمانداری کی بنیاد پر نئے بورڈ کی تشکیل کرنی ہوگی جس کے نتیجے میں 500 ارب روپے کی بچت ممکن ہے۔



سینیٹر عبدالحسیب خان نے معیشت کی تباہی میں چیمبرز آف کامرس اور ایف پی سی سی آئی کو بھی ذمے دار قراردیتے ہوئے کہا کہ ان تجارتی ایوانوں میں ملکی صنعت وتجارت کی ترقی و فروغ کے بجائے صرف ذاتی نوعیت کے مفادات حاصل کیے جارہے ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا کہ کراچی میں جاری آپریشن پر حکومت کو کسی سیاسی مصلحت کا شکار نہیں ہونا چاہیے، حکومت پاورٹیرف میں اضافہ کر کے ریونیوجنریشن کیلیے شارٹ کٹ طریقہ اختیار کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط کو بالائے طاق رکھ کر جاری ملکی حالات کے تناظر میں معاشی پالیسیاں ترتیب دے۔ انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کے بعد اب سندھ ریونیو بورڈ نے بھی تاجروں و صنعت کاروں کے لیے مسائل پیدا کرنے شروع کردیے ہیں۔ اس موقع پر ایف بی ایریا ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ محمد تحسین، خالد تواب، مسرور علوی، ادریس گیگی، احمد چنائے ودیگر نے بھی خطاب کیا۔